مودی اور عمران خان کے پاس مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں: محبوبہ مفتی

 اننت ناگ، 2 مارچ : پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نریندر مودی اور عمران خان کے پاس مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے کشمیری والدین سے گزارش کی کہ وہ اپنے بچوں سے کہیں کہ وہ بندوقیں نہ اٹھائیں کیونکہ ان کے بقول بندوقوں سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے اور یہ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ محبوبہ مفتی نے یہ باتیں منگل کو یہاں ڈاک بنگلہ اننت ناگ میں پارٹی ورکرز کنونشن کے دوران اپنے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا: ‘میرا یہ ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے حالات اور یہاں لوگوں کے احساسات کے پیش نظر بات چیت ضروری ہے۔ چاہے وہ ہندوستان کے وزیر اعظم ہوں یا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، ان کے پاس جموں و کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے’۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم چاہتے ہیں کہ وہ بات چیت کریں۔ جس طرح واجپائی جی نے مشرف صاحب کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا تھا۔ اسی طرح عمران صاحب کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔ ایک خوشگوار ماحول پیدا ہو جائے تاکہ پچھلے ستر سال سے لٹکے جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل کیا جا سکے’۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے جس کو حل کرنا ضروری ہے تاکہ اس خطے میں امن و امان پیدا ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘امن کا جو بھی راستہ گزرتا ہے وہ جموں و کشمیر سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔ یہاں بات چیت ہونی چاہیے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔ پاکستان کے ساتھ پہلے ہی جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت شروع ہوئی ہے۔ ہم اس بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ لوگوں سے بھی بات چیت ضروری ہے’۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری والدین سے گزارش کی کہ وہ اپنے بچوں سے کہیں کہ وہ بندوقیں نہ اٹھائیں کیونکہ ان کے بقول بندوقوں سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے اور یہ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ‘کشمیری پچھلے ستر سالوں سے لڑ رہے ہیں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ میرے ان بچوں سے کہو کہ وہ بندوقیں نہ اٹھائیں۔ بندوق سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بندوق کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے’۔ محبوبہ مفتی نے کسانوں کے طویل احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ‘دہلی میں ہمارے زمیندار بھائی احتجاج کر رہے ہیں۔ کیا کسی کے ہاتھ میں بندوق ہے؟ کیا کسی کے ہاتھ میں پتھر ہے؟ اس وقت پوری دنیا ان کی وکالت کر رہی ہے۔ کوئی ہماری وکالت کیوں نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بدنام ہو چکے ہیں۔ ہم پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بندوق اٹھانے سے ہمارے چھوٹے بچے مارے جاتے ہیں’۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘پورے ملک میں اس وقت کسان برسر احتجاج ہیں۔ ان سے ہم نے سیکھنا چاہیے کہ کس طرح پرامن طریقے سے اپنی بات کہی جائے اور اس کے بعد پوری دنیا آپ کی وکالت کرے گی’۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو ہم پاکستان سے نہیں بلکہ اپنے ملک اور اپنے پارلیمنٹ سے ہی مانگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ‘اگر ہم پاکستان سے کہیں گے کہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو کیا وہ دے سکتا ہے؟ میں بی جے پی والوں سے کہتی ہوں کہ آپ کو غصہ کیوں آتا ہے جب محبوبہ مفتی کہتی ہے کہ آپ نے جو ہم سے چھینا ہے وہ سود سمیت واپس کرنا پڑے گا۔ آپ کو غصہ کیوں آتا ہے۔ میں آپ سے نہیں مانگوں تو کیا پاکستان سے مانگوں یا چین سے مانگوں’۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘مجھے آپ کی سرکار سے مانگنا ہے۔ اپنے ملک سے مانگنا ہے۔ اس پارلیمنٹ سے مانگنا ہے جس نے غیر قانونی طریقے سے ہم سے ہماری عزت، شناخت اور ہمارا تشخص چھینا ہے’۔

(یو این آئی)