حج ڈیپارٹ منٹ کو اقلیتی امورکی وزارت سے ہٹا کروزارت خارجہ میں بھیجاجائے:نوشاداحمداعظمی

مئو،23فروری اترپردیش اسٹیٹ حج کمیٹی سے دوبار مرکزی حج کےلیے منتخب سابق ممبر عرصہ دراز سےملک کےحاجیوں کےمفادات کی آواز اٹھانے والےحافظ نوشاد احمداعظمی نےملک کےوزیر اعظم نریندر مودی سے پرزوردرخواست کی کہ حج ڈیپارٹ منٹ کو اقلیتی امورکی وزارت سے ہٹا کروزارت خارجہ میں بھیجاجائے۔
مسٹراعظمی نے کہاکہ’’ حج کےمعاملات میں تقریباً مجھے بائیس سالوں سے یہ تجربہ رہاہے کہ حاجیوں کے لیےمیں نے پرامن اورقانون کے دائرے میں رہ کراورغیر سیاسی تحریک چلائی جس میں کامیابی بھی ملی۔ حج ایکٹ 2002ء کو اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے منظورکرتے ہوئے ملک کے حاجیوں کو تحفہ دیاتھا۔ ‘‘
مسٹر اعظمی نے کہاکہ ’’ اس وقت راجیہ سبھا میں این،ڈی،اے حکومت کی اکثریت نہیں تھی مگر پھر بھی کانگریس اوراپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اس ایکٹ کےڈرافٹ کے بہتری کودیکھتے ہوئے راجیہ سبھا میں بغیر بحث کے منظور کرلیا اورایکٹ 2002ء پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کردیااورکچھ ماہ بعد غوروغوض کرنے کے بعد 15؍مئی 2002ء کو یہ ایکٹ لوک سبھا میں پیش ہوا ،یاد رہے کہ 2002ء میں راجیہ سبھا میں سینٹرل آفس دہلی اورریزنل آفس ممبئی بنانے کی بات لکھی تھی مگراسٹینڈنگ کمیٹی نے حج کمیٹی کا سینٹرل آفس ممبئی رکھنے کی سفارش کردی جس میں کانگریس سمیت سبھی سیاسی جماعتوں کے پارلیمنٹ ممبروں نےلوک سبھا میں اعتراض کیا اور دلی دفتر لانے کی مانگ کی۔ مگر سرکار نے مانگ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے سینٹرل دفتر ممبئی ہی رکھا۔‘‘
مسٹراعظمی نے وزیر اعظم کوبھیجے گئے میمورنڈم میں کہاکہ ’’ حج وزارت خارجہ سے اقلیتی امور میں منتقل کیاجاناکسی بھی طرح سے حاجیوں کے لیے صحیح نہیں تھا کیوں کہ 70% کام وزارت خارجہ کا اور 10% شہری ہوابازی ایئر انڈیا وغیرہ کا اور 20% مرکزی حج کمیٹی اورملک کی صوبائی حج کمیٹی کرتی ہیں۔1959 ء سے یہ روایت بھی رہی ہے اور یہ ایک اصولی بات بھی ہے حج ایک غیر ملکی کاسفر ہے اور وہ وزارت خارجہ میں ہی رہنا ضروری ہے۔ ‘‘
مسٹر اعظمی نے اس بات کا اعادہ کیاکہ حج ایکٹ 2002ء بہت بہتر بناہے اس میں کسی بھی ترمیم کی قطعی ضرورت نہیں ہے انھوں نے وزیر اعظم سے مؤدبانہ گزارش کی کہ اس معاملہ پرسنجیدگی سے غورکریں اورحج کو دوبارہ وزارت خارجہ میں بھیجنے کی زحمت کریں۔

(یواین آئی )