امارت شرعیہ کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے ائمہ اور علماء اپنی ذمہ داری قبول کریں: حضرت امیر شریعت امارت شرعیہ میں منعقد ائمہ کرام اور علماء کے خصوصی مشاورتی اجلاس میں بنیادی دینی تعلیم کا فروغ، عصری معیاری اداروں کے قیام اور اردو کے تحفظ کے سلسلہ میں کئی اہم تجاویز منظور

——————————————————————
(پھلواری شریف شیث احمد)علماء کی حیثیت بنیاد کے پتھر کی ہے ، دنیا والے گرچہ نام نہ لیں لیکن ان کا عمل اللہ کے دربار میں حاضر ہو رہاہے ، دنیا میں علماء کا مالی حال کمزور ہو گا ، لیکن اس کی تکمیل آخرت میں ہو گی ، اس پر ہمیں یقین رکھنا چاہئے۔اخلاص و للٰہیت کے جذبے کے ساتھ دینی خدمت انجام دیتے رہئے ، اخلاص مادیت کی فراوانی سے نہیں آتا ، عام طور پر اخلاص اور دولت جمع نہیں ہوتی، الا ما شاء اللہ۔آپ لوگ امارت شرعیہ کی تحریک کوعملی شکل دینے کے لیے ا پنی ذمہ داری قبول کیجئے کیوں کہ آپ سب امارت شرعیہ ہیں ۔یہ باتیں امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے شہر پٹنہ اور اس کے مضافات کے ائمہ کرام اور علماء کے ایک خصوصی مشاورتی اجتماع میں کہیں۔ خیال رہے کہ یہ مشاورتی اجلاس امارت شرعیہ کے زیر اہتمام ۱۵؍ فروری ۲۰۲۱کوبنیادی دینی تعلیم کے فروغ، معیاری عصری اداروں کے قیام اور اردو زبان وتہذیب کی حفاظت و بقاء کے لیے امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب مد ظلہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ حضرت امیر شریعت نے اپنے صدارتی خطاب میں مزید فرمایا کہ ہم لوگوں کوملی مسائل اور ان کے حل پر تذکرہ اور گفتگو کرتے رہنا چاہئے ، اس میں بہت سی خیر کی باتیں نکل کر سامنے آتی ہیں ، آج کے اس اجتماع سے بھی بہت سی نئی رائیں سامنے آئیں جن سے ہم سب کو روشنی ملی ،ان رایوں پر ایمانداری کے ساتھ عمل کرنا چاہئے۔حضرت امیر شریعت نے اپنے تجربات کی روشنی میں مثالوں سے سمجھایا کہ جو چیزیں سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہیں اللہ نے انہیں اتنا سہل الحصول بنایا ہے ، ہوا اور پانی اس کی زندہ مثال ہے ۔ اسی طرح علماء بھی قوم کے لیے ہوا پانی کی طرح ہی ضروری ہیں اس لیے اللہ نے ان تک رسائی کو آسان بنایا ہے ۔ حضرت نے ملک کے بدلتے ہوئے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے اندر ہندو احیاء پرستی کو فروغ دینے کے لیے نت نئے قوانین وضع کیے جارہے ہیں ، ہم سب کو اس کے لیے چوکنا رہنا ہے، جب این آر سی کا نفاذ ہو گا تو اندیشہ ہے کہ کروڑوں مسلمانوں کو اس کے ذریعہ پریشان کیا جائے گا، اس لیے ہمیں اپنی تیاری ابھی سے کرتے رہنا چاہئے۔جب حالات سامنے آئیں گے تو ایمانی بصیرت کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ آپنے علماء کرام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے اپنے تعلقات کو مضبوط کریں ، ملت سے الگ رہ کر آپ کا وجود بے معنی ہے۔ خود بھی بیدار رہیں اور انہیں بھی جگاتے رہیں ، یہ نیا دور ہے، نئے ذرائع ہیں، ان کا بھر پور استعمال دین کے لیے ہونا چاہئے ۔آپ نے علماء کو کسی صاحب نسبت بزرگ ہستی سے اصلاحی تعلق قائم کرنے کا بھی مشورہ دیا ، انہوں نے کہا کہ یہ ایسی چیز ہے جو ہمارے درمیان سے کھوتی جارہی ہے ، اس کھوئے ہوئے سرمایے کوپھر سے کھوج نکالنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے کہا کہ امارت شرعیہ کی بنیادی دینی تعلیم کے فروغ کے لیے ضلع کی سطح سے بلاک کی سطح تک مکاتب کے قیام کی تحریک چلائیں۔اور اس ذمہ داری کو پورے اخلاص کے جذبہ کے ساتھ آپ حضرات قبول کیجئے۔نصاب تعلیم اور نصابی کتابوں کو آسان زبان میں ترتیب دے کر شائع کرنے پر بھی توجہ دلائی،مولوی اسماعیل میرٹھی کی اردو زبان کی کتاب کو از سر نو نئی ترتیب، معیاری کاغذ اور نفیس تحریر میں شائع کرنے کے مشورے کو قبول کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت نے اس پر کام کرنے کی ترغیب دی ، آپ نے ائمہ کرام کے سالانہ اجتماع کے مشورے کو بھی منظور کیا۔امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے تمہیدی گفتگو میں ائمہ کرام کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات مسجد کے ممبر و محراب سے دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کا جو کام انجام دے رہے ہیں وہ نہایت ہی قابل قدر ہے ، اور ہم سب آپ کی ان خدمات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ امار ت شرعیہ نے ہر مشکل حالات میں ملت کی صحیح سمت میں رہنمائی کی ہے ،اس وقت ملک تیزی سے ان حالات کی طرف تیزی سے بڑھ رہاہے جو ۱۸۵۷ء سے پہلے تھے ۔ان حالات کاہمت کے ساتھ سامنا کرنے اور مسائل کا حل نکالنے کے لیے اللہ نے امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی شکل میں ایک دور رس، دور بین ، نباض قوم و ملت مفکر،مدبرصاحب دل اور صاحب بصیرت قائد ہمیں عطا کیا ہے، یہ ہم پر اللہ کی عظیم نعمت اور اس کا بڑا انعام ہے ۔ آپ نے ائمہ کرام سے مخاطب ہو کر کہا کہ ائمہ کے ذریعہ جو اصلاح کا کام انجام پاتا ہے وہ بڑے بڑے اجلاس سے بھی نہیں ہو پاتا ۔آپ نے امارت شرعیہ کی تعلیمی تحریک کے تینوں پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اس کو کامیاب بنانے کے لیے ائمہ کرام سے تعاون کی اپیل کی۔ اس اجلاس کی نظامت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے کی ،انہوں نے اپنی افتتاحی گفتگو میں کہا کہ اس وقت ملک ایک نئی غلامی کی طرف جا ر ہا ہے ، ان حالات کو حضرت امیر شریعت نے بر وقت بھانپ لیا اور حکمت عملی اختیار کرنی شروع کی ، اللہ نے آپ کو دل درد مند، نگاہ بلند اور فکر ارجمند دیا ہے ، آپ کی شروع کی ہوئی ہرتحریک ملک کے تمام مسلمانوں کے دل کی آواز ہوتی ہے ۔مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے جمعہ کے خطبہ کے ذریعہ امارت شرعیہ کی اس تحریک کو پھیلانے پر توجہ دلائی۔اس مشاورتی نشست میں مولانا غلام اکبر قاسمی امام و خطیب جامع مسجد مراد پور، مولانا محمد عالم قاسمی امام جامع مسجد دریاپور، مولانا اعجاز کریم قاسمی امام مسجد بلال سمن پورہ، مولانا عظیم الدین رحمانی امام و خطیب جامع مسجد خواجہ پورہ،مولانا احسان قاسمی پالی،مولانا گوہر امام قاسمی امام شاہی سنگی مسجد، مولانا معین الدین قاسمی امام جامع مسجد کر بگہیہ،مولانا مبشر قاسمی امام جامع مسجد باڑھ، مولانا اقبال سعادتی امام جامع مسجد کربلا، مولانا ابرار کریم جامعہ مسجد بکسریہ ٹولہ، مولانا احمد حسین صاحب امام جامع مسجد بینک روڈ، مولانا افضل قاسمی امام جامع مسجد بڑی حویلی دانا پور، مولانا دانش قاسمی امام جامع مسجد کنکرباغ، مولانا ظہور عالم قاسمی امام جامع مسجد مسوڑھی، مولانا سلیم الدین صاحب امام چھوٹی مسجد ہارون نگر سکٹر ۔۲، مولانا شاہ نواز صاحب امام جامع مسجد البا کالونی، مولانا محمد شاہد قاسمی امام جامع مسجد مولیٰ باغ، مولانا عبد الستار قاسمی امام تبارک علی مسجد ، مولانا ساجد رحمانی امام ابو بکر صدیق مسجد فیڈرل کالونی عیسیٰ پور، مولانا دلشاد رحمانی امام جامع مسجد گرانڈ، مولانا قمر عالم ندوی ویشالی، مولانا سفیان احمد اعظمی امام جامع مسجد کاغذی محلہ دانا پور، مولانا نظر الہدیٰ قاسمی ویشالی نے بھی اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا اور کئی مفید تجاویز پیش کیں۔ ان آراء کی روشنی میں مندرجہ ذیل تجاویز مرتب کی گئیں ، جنہیں مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے پڑھ کر سنایا اور سبھی لوگوں نے ان تجاویز سے اتفاق کا اظہار کیا۔
تجاویز بابت بنیادی دینی تعلیم : امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے زیر اہتمام منعقد علما و ائمہ مساجد کے خصوصی مشاورتی اجتماع کا احساس ہے کہ بنیادی دینی تعلیم کے مکاتب کے غیر منظم اور کمزور ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے بچیاں دین کی بنیادی باتوں سے نا واقف ہو تے جا رہے ہیں ، اگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو حالات دن بدن خراب ہو تے جائیں گے ، اس لیے ضروری ہے کہ :
(1)بنیادی دینی تعلیم کے جو مکاتب چل رہے ہیں ، انہیں منظم اور معیاری بنانے کے لیے امارت شرعیہ کی طرف سے جاری جامع تعلیمی منصوبہ پر عمل کیا جائے تاکہ نصاب میں یکسانیت ہو اور وسائل کے سلسلہ میں بھی دشواری پیش نہ آئے۔(2) مکاتب کے تعلیمی نظام کو پر کشش بنایا جائے تا کہ طلبہ و طالبات کی دلچسپی اس سے بڑھ سکے ، اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ پرانے طریقۂ تدریس جس میں جسمانی تعذیب سے طلبہ و طالبات کو گذرنا پڑتا ہے ، اس سے آخری حد تک گریز کیا جائے ۔ (3) بنیادی دینی تعلیم کے طریقۂ تدریس سے متعلق امارت شرعیہ کے تربیتی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں ، ابھی یہ سال میں دو بار دو جگہ پر ہوا کرتی ہے ، یہ اجتماع اس بات کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس تربیتی اجتماع کا انعقاد ضلع وار کیا جائے ، تاکہ جدید طریقۂ تدریس سے ہر ضلع کے ائمہ کو واقفیت ہو سکے۔ (4) ہر جامع مسجد کے قرب و جوار کے کم سے کم دس گاؤں کا سروے وہاں کے امام یا مسجد کمیٹی کے ذریعہ کرایا جائے اور جس گاؤں میں مکتب نہیں ہے ، وہاں مقامی وسائل سے مکتب قائم کیا جائے ، سروے اور مکاتب کے قیام کی اطلاع مرکزی دفتر امارت شرعیہ کو لازماً دی جائے۔ (5)ہر علاقہ میں جو مرکزی مدارس ہیں اور جن کے وسائل قرب و جوار میں مکاتب کھولنے کی اجازت دیتے ہوں تو وہ لازماً مکاتب کے قیام پر توجہ دیں ، اس سے ان کی گاؤں والوں سے بھی قربت بڑھے گی اور یہ مدرسہ کے اثرات کو بڑھانے اور مالیات میں اضافہ کا بھی سبب بنے گا ۔ (6)امارت شرعیہ مساجد کے ذمہ دار وں کی بھی ایک نشست بلائے اوراس میں مکاتب کے قیام سے متعلق انتظامی امور اور ائمہ مساجد کے معاملات پر ان سے مشورہ لیا جائے، ائمہ حضرات ذمہ داروں کے موبائل نمبرات ضرور فراہم کرائیں۔
عصری اداروں کے قیام سے متعلق تجاویز: (1)تمام ائمہ مساجد اور علماء کرام اپنے اپنے حلقوں میں بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ اسلامی ماحول میں عصری تعلیمی اداروں کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیں اور اس طرف پیش رفت کریں ۔ اور سرکار کی طرف سے زمین وغیرہ کے سلسلہ میں جو ضابطے ہیں ، انہیں ملحوظ رکھا جائے اور سروے یا تعلیمی ادارے کے قیام کے بعد مرکزی دفتر امارت شرعیہ کو ضرور مطلع کیا جائے۔(2) عصری تعلیم کے جو ادارے قائم ہیں ، اور اس میں اردو اور بنیادی دینی تعلیم کا نظم نہیں ہے ، طلبہ و طالبات کے والدین اسکول انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں کہ اسکول میں بنیادی دینی تعلیم اور اردو کی تدریس کا نظم کیا جائے۔(3) جن علاقوں میں عصری تعلیمی اداروں کے قیام کے امکانات نہیں ہوں وہاں کوچنگ کا نظم کیا جائے اور مقامی اساتذہ جو ٹیوشن وغیرہ پڑھاتے ہیں ، ان کو جوڑ کر اس کوچنگ میں کم فیس لے کر معیاری تعلیم کا نظم کیا جائے۔
اردو سے متعلق تجاویز:(1) اردو زبان کی بقا، ترویج و اشاعت اور تحفظ کے لیے جو تجاویز اور قرار داد کل کے مشاورتی اجتماع میں پاس ہوئی ہیں ، ان پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے ۔ (2) 14؍ فروری کے اجتماع میں اردو کارواں اور اردو دستہ کی تشکیل کی تجویز منظور ہوئی ، ہم تمام شرکاء اس بات کا عہد کرتے ہیں اس کے دست و بازو بن کر کام کریں گے ۔ (3)اپنی روز مرہ کی بول چال ، لکھنے پڑھنے اور پڑھانے میں اردو کو رواج دیا جائے اور گھروں میں اردو زبان رائج کرانے کے لیے بھی ہم کوشش کرتے رہیں گے۔اس مشاورتی اجلاس کا آغاز مولانا حسان صاحب متعلم المعہد العالی کی تلاوت اورمولانا نسیم الدین صاحب متعلم المہد العالی کی نعت شریف سے ہوا،مولانا شمیم اکرم رحمانی صاحب معاون قاضی شریعت امارت شرعیہ نے اردو پر اقبال اشہر کی نظم ’’اردو ہے میرا نام ‘‘پیش کی۔ آخر میں حضرت امیر شریعت کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔ اجلاس میں مولانامفتی سہیل احمد قاسمی ، مولان مفتی سعید الرحمن قاسمی، مولانا مفتی وصی احمد قاسمی ، جناب سمیع الحق صاحب، مولانا سہیل اختر قاسمی، مولانا عبد الباسط ندوی، مولانا نور الحق رحمانی ، مولانا مفتی انظار عالم قاسمی ، مولانا قمر انیس قاسمی ، مولانا رضوان احمد ندوی ، مولانا راشد العزیری، مولانا نصیر الدین مظاہری،مولانا شہنواز عالم مظاہری، مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی ، مولانا محمد عادل فریدی قاسمی کے علاوہ مولانا ضلع پٹنہ اور اطراف کے علماء اور ائمہ مساجد کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔