چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ایس اے بوبڈے اپنی 14 ماہ کی مدت پوری , ریٹائرمنٹ میں صرف دو ماہ باقی

نئی دہلی ،15فروری (ایجنسی)چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ایس اے بوبڈے اپنی 14 ماہ کی مدت پوری کررہے ہیں ۔ ان کی ریٹائرمنٹ میں صرف دو ماہ باقی ہیں ، لیکن اب تک ان کی سربراہی میں کالجیم ہائی کورٹ کے ججوں کو سپریم کورٹ میں لانے کے لئے پہلی سفارش نہیں کرسکا ہے ۔ معاملہ تریپورہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹسعقیلقریشی سے متعلق ہے ، جنہیں سپریم کورٹ لانے پر جدوجہد چل رہی ہے ۔ لیکن کالجیم میں کوئی اتفاق رائے نہیں بن پا رہا ہے ۔ اس سے قبل اس طرح کا تنازعہ 2015 میں چیف جسٹس ایچ ایل دتو کے دور میں ہوا تھا ۔ اس وقت عدلیہ اور حکومت کے مابین قومی جوڈیشل تقرری کمیشن پر تنازعہ تھا ۔ تاہم ، اس بار یہ تعطل داخلی ہے ۔ ذراءع نے بتایا ہے کہ کالجیم میں سپریم کورٹ میں جسٹس عقیل قریشی کیتقرری پر اتفاق رائے نہیں ہے ۔ تاہم ، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب قریشی کے نام کے نام کو لیکربات طے ہونے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ گجرات ہائی کورٹ کے جج جسٹس قریشی کی تریپورہ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری کے دوران سپریم کورٹ کالجیم کے لئے تنازعہ پیدا ہوا تھا ، اس سے قبل انہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے لئے چیف جسٹس بنایا گیا تھا لیکنحکومتکے اعتراضات کے بعد انہیں تریپورہ بھیجا گیا تھا ۔ تب کولجیئم کی قیادت سابق چیف جسٹس آء رجن گوگوئی کر رہے تھے ۔ موجودہ کالجیم میں سی جے آئی اروند شرد بوبڈے ، این وی رمنا ، روہٹن نریمن ، یویو للت ، اے ایمکھان ولکر شامل ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ کالجیم میں تعطل ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب سپریم کورٹ میں چار ججوں کی آسامیاں خالی ہیں ۔