کسان اندولن کی عالمی حمایت کیا عالمی سازش ہے

پرویز حفیظ

ہندستانی سیاست کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خواہ حکمران کسی پارٹی کے کیوں نہ ہوں اور ان کے نظریات میں زمین آسمان کا فرق کیوں نہ ہو،اقتدار سے لپٹے رہنے کا جنون ان سب میں ایک جیسا ہے اور اس کے لئے وہ حربے بھی ایک جیسے اپناتے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا جب اپنی نا اہلیوں اور اپنی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اندرا گاندھی ;34; بیرونی ہاتھ ;34; کے مفروضے کا سہارا لیا کرتی تھیں ۔ جب کبھی بھی ان کے لئے اپوزیشن اور میڈیا کی تنقیدوں کا سامنا کرنا مشکل ہوجاتا تو مسز گاندھی بلا تاخیر یہ اعلان کر دیتی تھیں کہ کچھ نادیدہ بیرونی طاقتیں ہیں جو ہندوستان کو کمزور کر نا چاہتی ہیں ۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ وہ نریندر مودی جن کو کانگریس پارٹی سے ازلی بیر ہے اور جو نہرو گاندھی پریوار سے شدید نفرت کرتے ہیں ، جب ان کی حکومت دلی کے نواح میں ڈھائی ماہ سے جاری ایک جمہوری پر امن کسانوں کے احتجاج سے نمٹنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی، جب اس تحریک کو ملک کے عوام کی ہمدردی اور اخلاقی حمایت حاصل ہونے لگی اور جب ان کی حکومت پر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا میں تنقیدیں ہونے لگیں ، تو ان کو بھی بچاوَ کے لئے اسی دیرینہ کانگریسی چھتری کا سہارا لینا پڑا ۔ پردھان سیوک کو بھی کسان تحریک کی پشت پر اور اپنی سرکار کے خلاف اچانک بین الاقوامی ہاتھ نظر آگیا ۔ بنگال اور آسام میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی سطح پر بھارت کو بدنام کرنے اور اس کے امیج کو مسخ کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں ۔ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اقتصادیات کی اصطلاح ;706873; کی ایک نئی وضاحت بھی پیش کردی اور دعویٰ کیا کہ ملک کو;34; غیر ملکی تباہ کن نظریات ;34;سے خطرہ لاحق ہے ۔

عالمی شہرت یافتہ پاپ سنگر ریحانہ نے کسان اندولن کی حمایت میں ایک ٹوءٹ کیا کردیا کہ مودی سرکار، بی جے پی ورکرز اور گودی میڈیا نے منظم طریقے سے;34; ہندوستان کے خلاف بیرونی سازش کی جارہی ہے ;34;کے بیانیہ کا پرچار شروع کردیا ۔ ریحانہ کے ایک چھوٹے سے سوال سے ہندوستان میں ایک طوفان برپا ہوگیا ۔ وزارت خارجہ کو ایک طویل وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا اور نامور فلمی ستاروں اور کرکٹ کھلاڑیوں کو اپنے دفاع میں میدان میں اتار نا پڑا ۔ اس کے بعد تابعدار میڈیا کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ گلوکارہ ریحانہ، ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی بھانجی مینا ہیرس اور پورن اسٹار میا خلیفہ کے ٹوءٹس کی بنیاد پر کسانوں کو تخریب کار اور ان کی تحریک کو ملک کو توڑنے کی بین الاقوامی سازش بنا کر پیش کریں ۔ بی جے پی کے ترجمان یہ راگ الاپنے لگے کہ یہ امریکی اور یوروپی لوگ بالکل احمق ہیں جو ہندوستان کے حالات سے ناواقف ہیں اور جنہوں نے زرعی قوانین کو پڑھا تک نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ بھکتوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ان عالمی مشاہیر نے زرعی قوانین پر تنقید کی ہی نہیں ہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس موضوع کے ماہرہیں ۔ وہ تو محض کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ اور اندولن کو کچلنے کے لئے سرکار کے ذریعہ طاقت کے استعمال کی تنقید کررہی ہیں ۔ ان لوگوں کو ہندوستان جنت نشان سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ انہیں ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا بھی کوئی شوق نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس اس کے لئے وقت ہے ۔ انہیں دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی نا انصافی یا انسانی حقوق کی پامالی نظر آتی ہے تو وہ آواز اٹھاتی ہیں ۔ انہوں نے ہندوستا ن کے کسان کے لئے ہی نہیں میانمار کی فوجی بغاوت پر بھی آواز بلند کی ۔ در اصل دنیا آج ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے اور انسان عالمی شہری ۔ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا نے فاصلے مٹا دئے ہیں ۔ 2019 میں ہانگ کانگ کے مظاہرین کی اور 2020 میں امریکہ کے سیاہ فام شہریوں کی جب دنیا بھر کے لوگوں نے حمایت کی تھی تووہ ان ممالک کی خود مختاری کو چیلنج نہیں کررہے تھے ۔ اگر ٹکساس میں ;34; اب کی بار ٹرمپ سرکار;34; کا نعرہ بلند کرنا امریکہ کی انتخابی سیاست میں دخل اندازی نہیں تھی تو ذرا سوچئے کہ ریحانہ یا مینا ہیرس کے ٹوءٹس پر ہ میں انہیں گالیاں دینے کا کیا کوئی حق ہے ۔ بی جے پی کے لیڈران، گودی میڈیا یا پھر لتا منگیشکر، سچن تینڈولکر،کرن جوہر اور اکشے کمار جیسے ہندوستانی ستاروں نے جس طرح کے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ عدیم المثال ہے ۔ ایسے لوگ جواپنی فنکاری اور صلاحیتوں کے سبب کامیابیوں کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں انہیں اقتدار کے مصاحبین میں تبدیل ہوتے دیکھ کر ان کے لاکھوں چاہنے والوں کے دل ٹو ٹ گئے ہوں گے ۔ سچن نے سینہ ٹھوک کر جب کہا کہ ہندوستان کی خود مختاری کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے تو میرے دل نے یہ سوال کیا کہ جب چین نے ہماری سرحدوں کو پھلانگ کر ہمارے بیس جانبازوں کو شہید کردیا اور ہماری پاک سرزمین اپنے ناپاک قبضے میں لے لی اس وقت ان کی حب الوطنی کیوں نہیں جاگی تھی ۔ اگر یہ توجیہ مان لی جائے کہ کسی دوسرے ملک میں ہونے والی نا اانصافی پر سوال اٹھانا یا کسی مظلوم طبقے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار شجر ممنوعہ ہے تو پھر جنوبی افریقہ کے نسلی بھید بھاوَ کی پالیسی (;65;partheid)کے خلاف کسی ملک کو آواز بلند نہیں کرنی چاہئے تھی;234;غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے صہیونی مظالم پر کسی کو احتجاج کرنے کا کوئی حق نہیں ہے;234; عراق میں داعش اور افغانستان میں القاعدہ یا طالبان کے قتل و غارت گری کی مذمت نہیں کی جاسکتی ہے;234;پاکستان میں ہندووَں پر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف بولنا درست نہیں ہے ۔ پاکستانی نڑاد کینیڈین شہری طارق فتح پچھلے کئی برسوں سے ہندوستان کے متعدد متنازع امور پردھڑلے سے اپنے;34; فتوے;34; جاری کررہے ہیں ۔ ان پر تو کبھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام کسی نے نہیں لگایا ۔ کیا صرف اس لئے کہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کی ترجمانی کرتے ہیں ;238;

سوال یہ ہے ہم کس کس کا منہ بند کریں گے;238; دو ماہ قبل کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کسانوں کے اندولن کی حمایت کا اعلان کیا تھا، اس وقت بھی ہ میں بہت برا لگا تھا ۔ پچھلے ماہ برطانیہ میں سو سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم بورس جانسن کو خط لکھ کر ہندوستان میں کسانوں کے پر امن احتجاج کو کچلنے کے لئے کئے جارہے حکومت کے جابرانہ اقدام پر تشویش کا اظہار کیا اس پر بھی ہ میں غصہ آیا ۔ اب امریکی ایوان نمائندگان میں بھی بھارتی کسانوں کے احتجاج کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی حکومت کو تلقین کی ہے کہ وہ احتجاجی کسانوں سے نمٹنے میں نرمی سے کام لے کیونکہ پر امن مظاہرے اور اظہار آزادی رائے جمہوریت کے جزو لاینفک ہیں اور ہر قیمت پر ان کی حفاظت لازمی ہے ۔ ریحانہ ہوں یاگریٹا، مینا ہیرس ہوں یا میا خلیفہ ان معروف شخصیات نے اپنے ردعمل کا اظہار تب کیا جب دلی کی سرحدوں پر پولیس اور انتظامیہ نے فولاد کی دیواریں تعمیر کردیں ، کانٹے دار تاروں کے باڑ لگادئے، سڑکوں پر خندقیں کھود ڈالیں ، راستے میں موٹی موٹی کیلیں گاڑ دیں ، پانی، بجلی اور انٹر نیٹ کے کنکشن کاٹ دئے ۔ ایسے سخت حفاظتی اقدامات ملک کی سرزمین کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی جارحیت سے بچانے کے لئے ایل اے سی پر نہیں بلکہ ہندوستان کے دارالحکومت دلی کے بارڈر پر اپنے کسانوں کے اندولن کو سبوتاژ کرنے کے لئے کئے گئے ۔ جب دنیا نے ٹیلی وڑن اسکرین پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی یہ صورتحال دیکھی تو ان سے رہا نہیں گیا اور انہوں نے بیباکی سے اپنے خیالات کا اظہار کردیا ۔ دی اکنامسٹ کے تازہ ڈیموکریسی انڈیکس میں ہندوستان مزید دو پائیدان نیچے گرگیا ہے اور اسے ;34; ناقص جمہوریت;34; کے زمرے میں رکھا گیا ہے ۔ ریحانہ کا جرم کیا تھا;238; اس نے دلی بارڈر پر انٹر نیٹ پر بندش کے متعلق سی این این کی ایک رپورٹ کا لنک شئیر کرتے ہوئے یہ سوال کیا تھا ;34; ہم اس (کسانوں کی تحریک)کے متعلق بات کیوں نہیں کررہے ہیں ;23834; اگر حکومت نے اس پر اتنے شدید ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہوتا تو بہت ممکن تھا کہ بات آئی گئی ہوگئی ہوتی ۔ لیکن اب تو سار ی دنیا میں اس پر بات ہو رہی ہے ۔ دنیا بھر کے جمہوریت پسند لوگ حیران ہیں کہ ہندوستان جیسے ملک میں اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنے والے کسانوں کے اندولن کو اور غیر جانبدار پریس کی آزادی کو کچلنے کی سرکار ایسی کوششیں کیوں کر رہی ہے ۔ پس نوشت: 2014 میں وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں دنیا کو بھارت کے قدیم تہذیبی اور ثقافتی ورثے سے روشناس کرا تے ہوئے فخر سے کہا تھا کہ ہندوستانی ;34; وسودھیوا کٹمبکم;34; میں یقین رکھتے ہیں ۔ اس فلسفے کے مطابق پوری دنیا ایک کنبہ ہے ۔ مودی جی کے اپدیش کی روشنی میں تو کنبے کے ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کنبے کے کسی معاملے میں اپنے خیال کا اظہار کرسکتا ہے خواہ وہ فرد ہندوستان کا ہو یا امریکہ کا ۔