عصمت دری اور دھوکہ دہی کے ملزم کو پندرہ برس قید بامشقت کی سزا

ممبئی، 13 فروریممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے ایک 25 سالہ نوجوان کو شادی کرنےکے وعدے اور 17 سالہ دوشیزہ کے ہمراہ جنسی تعلقات قائم کرنے نیز اس کے سونے کے زیورات لے کر دھوکہ دہی کے الزام میں 15 سال کی سخت قید بامشقت کی سزا تجویزکی ہے۔ خصوصی عدالت کی جج سنجری گھرات نے اپنے حکم میں کہا ہیکہ ، “موجودہ معاملے میں ملزم نے متاثرہ لڑکی کے اعتماد وبھروسہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے شادی کا جھوٹا وعدہ کرکے اس سے ناجائز جنسی تعلقات قائم کئے اور نقد رقم کے علاوہ سونے کے زیورات بھی لئے اور اس کے بعد وہ اپنے آبائی وطن چلا گیا جس کے بعد اس نے متاثرہ لڑکی کے فون موصول کرنے سے انکار کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا نمبر بھی بلاک کر دیا اسطرح سے اس نے نہ صرف عصمت دری کا جرم کیا بلکہ اس نے دھوکہ دہی بھی کی لہذا وہ سزا کا مستحق ہے تفصیلات کے مطابق مقامی نرمل نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی گئ تھی جس کے مطابق ،ملزم نوجوان جو ہکا پارلر میں کام کرتا تھا ،اور اپنے چند مشترکہ دوستوں کی معرفت سے اسکی متاثرہ لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد ان کے تعلقات گہرئے ھوگئے تھے۔ بہلی مرتبہ ملزم نے لڑکی سے اترپردیش کے بنارس شہر میں مقیم اپنی والدہ کی بیماری کا بہانہ بناتے ہوئے 50،000 روپیہ کا معالی تعاون حاصل کیا اسکےچند عرصہ بعد اس نے اپنی خالہ کی شادی کے لئے 8 لاکھ روپے مانگے جس پر لڑکی نے اپنے زیورات فروخت کرکے اور گھر میں رکھی نقد رقم اسکو ادا کی اس دوران نوجوان لڑکی کے گھر آنے لگا اور دونوں کے درمیان جنسی تعلقات قائم ہوگئے نوجوان نے لڑکی سے شادی کا وعدہ بھی کیا اور پھر ایک دن وہ اچانک یوپی چلا گیا اور اس نے اپنا نمبر بھی بلاک کردیا۔ کسی طرح سے بھی ملزم سے رابطہ قائم نہ ہونے پر لڑکی نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور پھر اسکی گرفتاری عمل میں آنے کے بعد اسکے خلاف مقدمہ چلایا گیا جس کے دوران عدالت نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے پندرہ برسوں کی قید بامشقت کے علاوہ جرمانہ بھی عائد کیا۔(یو این آئی )