آہ ! سیّد اختر علی

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
غالب

آج پھر ایک نابغہَ روز گار ہستی تہِ خاک ہوگئی ۔ سیّد اختر علی چل بسے ۔ 81سالہ افسانوی ٹینس کھلاڑی اور کوچ اختر علی کئی عارضہ میں مبتلا تھے ۔ جنوری کے آخری ہفتہ میں وہ جنوبی کلکتہ کے ایک اسپتال میں داخل کئے گئے ۔ گزشتہ سنیچر کو اسپتال سے فارغ ہوکر گھر آگئے ۔ بیٹی نیلو فر نے کہا کہ والد رات کا کھانا کھا کر دو بجے بستر پر گئے ۔ دو بجے انہیں دیکھنے گئی تو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی ۔ اسی بے چینی کے عالم میں ڈھائی بجے اُن کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ موت کے وقت صاحبزادہ ذی شان علی جو دہلی میں ایک ٹینس کیمپ کنڈکٹ کررہے تھے، موت کی خبر سن کر بعجلت تمام کلکتہ پہنچے ۔ اتوار کی شام کو اعزہ و احباب اور مداحوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں اُنہیں سپردِ خاک کیا گیا ۔ پسماندگان میں بیوی، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں ۔ ادارہ اخبار مشرق غم کی اس گھڑی میں اختر علی صاحب کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے رنج میں برابر کا شریک ہے ۔

اختر علی نے1958اور1964کے درمیان ڈیوس کپ مقابلے میں ہندستان کی نمائندگی کی تھی ۔ پریم جیت لال اور جے دیپ مکھرجی کے ساتھ ان کی جوڑی خوب جمی تھی اور ڈبلس میں انہوں نے صد فیصد کامیابی حاصل کی تھی ۔ دنیا کے پریمئر مقابلے میں انہوں نے سات سنگلز میچوں میں سے پانچ میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ 2008 میں ڈیوس کپ کے کیپٹن کی حیثیت سے اُن کی تقرری ہوئی ۔ کئی بار ڈیوس کپ کے کوچ رہے ۔ اپنے سابق پارٹنر کی باتےں یاد کرتے ہوئے جے دیپ مکھرجی نے کہا کہ ’’جوانی کے دنوں میں ساءوتھ کلب میں ہم دونوں نے ایک ساتھ کھیلنا شروع کیا ۔ وہ ایک بہت اچھے کھلاڑی تھے اور کوچ کی حیثیت سے تو اُن کا کہنا ہی کیا تھا ۔ اُنہوں نے رام ناتھن کرشنن، رمیش کرشنن، وجے امرت راج اور لینڈر پائیس سمیت خود خاکسار کی بھی کوچنگ کی تھی ۔ اپنے سابق کوچ کو یاد کرتے ہوئے وجے امرت راج نے ٹوئیٹ کیا ’’بحیثیت کوچ اختر علی کا جواب نہیں ، جب میں جونیئر تھا اور ڈیوس کپ ٹےم کا حصہ بنا تو اُنہوں نے مجھے تربیت دی ۔ وہ بہت محنت کرتے تھے اور ٹےم کو پُرسکون رکھتے تھے ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا ’’اختر علی کے انتقال سے بڑا صدمہ پہنچا ۔ وہ ٹےنس کی دنیا کے بادشاہ تھے ۔ اختر علی نے ہندستان کے بہت سے چمپئنس کو تربیت دی ۔ ‘‘ اخترعلی سے قربت رکھنے والے کاروباری شخص سنجے بدھیا نے اُن کی موت کو ذاتی خسارہ قراردیا اور کہا کہ وہ میرے حال پر بڑی شفقت رکھتے تھے ۔ مشہور ٹےنس کھلاڑی ثانیہ مرزا بھی اُن کی شاگردہ رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’اختر سر نے ٹےنس تکنیک کے حوالے سے ہمیشہ مفید مشورے دیئے، خاص طور سے میرے ابتدائی زمانہ میں ۔ وہ میرے کارنامے پر فخر کرتے تھے اور جب بھی میں کوئی بڑا میچ جیتتی تھی تو سب سے پہلے مبارکباد دینے والوں میں ہوتے تھے ۔ ‘‘ اختر علی خود کہا کرتے تھے کہ میں نے تین نسلوں کی تربیت کی ہے ۔ لینڈر پائس میرے زیر تربیت رہا ۔ میں نے رمیش کرشنن اور ذی شان علی کے ساتھ کام کیا اور وجے امرت راج کا پرائیوٹ کوچ رہا ۔ کسی دوسرے کوچ کے مقابلے میں میں نے زیادہ نیشنل چمپئنس اور ڈیوس کپ کھلاڑی پیدا کئے ۔ بحیثیت کوچ میری کامیابی اس راز میں مضمر ہے کہ میں سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور ابھی بھی سیکھ رہا ہوں ۔ 2000 میں اُنہیں ارجن ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا تھا ۔ جے دیپ مکھرجی نے کہا کہ وہ کھیل کے سب سے بڑے ایوارڈ درونا اچاریہ کے مستحق تھے لیکن افسوس کہ اُنہیں نہیں ملا ۔

اختر علی خاکسار اور میرے بیٹے محمد ندیم الحق کو بہت عزیز رکھتے تھے اور ایک مرتبہ پارک سرکس میدان میں نمازِ عید سے فراغت پاکر مشہور فٹبالر سیّد نعیم الدین کے ساتھ اخبار مشرق کے دفتر میں (جو خاکسار کی رہائش گاہ بھی ہے) تشریف لائے تھے ۔ ہم نے ساتھ بیٹھ کر سیویّاں کھائیں اور تادیر گپ شپ کرتے رہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اُنہیں جنت الفردوس میں جگہ ملے ۔