قومی سلامتی، ہر معاہدہ سے بالاتر

اقوام متحدہ کا جوہری ہتھیار پر امتناع کا معاہدہ نافذ ہوگیا ہے لیکن جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کا خواب جلد پورا ہوتا نہیں نظر آتا ۔ اس میں الگ الگ ملکوں کے لئے الگ الگ دفعات امتیاز کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ اس لئے ۵۴۹۱ میں بھاری تباہی جھیل چکا جاپان بھی معاہدہ سے دور ہے ۔ ہندوستان سمیت جوہری قوت کے حامل نو ملکوں نے بھی اس معاہدہ پر دستخط نہیں کئے ہیں ۔ ناٹو کے ۰۳ ممالک بھی معاہدہ میں شامل نہیں ہوئے ۔ اس لئے مذکورہ بین الاقوامی معاہدہ کا جواز سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں معاہدہ کو جولائی ۷۱۰۲ء میں منظوری مل گئی تھی ۔ تین سال سے اس پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش جاری تھی لیکن مطلوب کامیابی نہیں ملی ۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے معاہدہ نافذ ہونے کے بعد صاف طور پر کہا کہ ہندوستانی عالمی، غیر امتیازی اور لائق توثیق جوہری منسوخی کے لئے پابند عہد ہے لیکن وہ اس معاہدہ کا حصہ نہیں ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل بھی شروع سے معاہدہ کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ امریکہ نے ۵۴۹۱ء میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم گرائے تھے ۔ اس حملے میں لاکھوں افراد مارے گئے تھے ۔ کہا جارہا ہے کہ نئے معاہدہ کا مقصد ایسے جوہری حملوں پر لگام کسنا ہے ۔

جب جوہری عدم پھیلاوَ معاہدہ (این پی ٹی ) ۰۷۹۱ سے نافذ العمل ہے تو نئے معاہدہ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی;238; پانچ دہائیوں کے دوران این پی ٹی پر کتنا عمل ہوا;238; اگر این پی ٹی پر دستخط کرنے والے امریکہ اور روس نے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ پر تحمل برتا ہوتا تو شاید بین الاقوامی منظر نامہ آج کچھ اور ہوتا ۔ دنیا مین ۵۴۹۱ء کے بعد جو دو ہزار سے زائد معلوم جوہری تجربات ہوئے ان میں سے ۵۸ فیصد امریکہ اور روس نے کئے ۔ امریکہ کے ۲۳۳۱ اور روس کے ۵۱۷ جوہری تجربات پر زیادہ ہنگامہ نہیں ہوا ۔ ہندوستان کے چند جوہری تجربات پر بین الاقوامی برادری کی بھنویں تن جاتی ہیں ۔ ہندوستان اس بات پر زور دے رہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں پر لگام اور مکمل منسوخی کے لئے علاقائی نہیں بین الاقوامی سطح پر کوششیں ہونی چاہیے ۔ اب جبکہ پاکستان جوہری کلب میں ہے ہندوستان کے لئے قومی سلامتی کسی بھی بین الاقوامی معاہدہ سے بالا تر ہے ۔