کسانوں کی حمایت میں غیر ملکی تائید پر حکومت مدافعتی پوزیشن میں آگئی

زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کی جس طرح سے غیر ممالک میں حمایت کی جارہی ہے اُس سے حکومتِ ہند مدافعتی پوزیشن میں آگئی ہے ۔ بدھ کے دن سوئیڈن کی ماحولیاتی رضاکار گریٹا تھمبرگ نے ٹویٹ کرکے جس طرح سے ہندستان کے کسانوں کی حمایت کی تھی اُس سلسلے میں دہلی پولس نے ایک ایف آئی آر درج کی ہے اور اس کے سائیبر سیل نے تحقیقات شروع کردی ہے ۔ پولس کا کہنا ہے کہ باہری طاقتوں نے جنوری اور فروری میں ہندستان میں ہنگامہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ پولس اُن کی شناخت کرنا چاہتی ہے ۔ 26 جنوری کو دہلی میں برپا ہونے والے تشدد کو پولس اس سلسلے کی سازش قرار دے رہی ہے ۔ ایف آئی آر میں ملک سے بغاوت، مجرمانہ سازش اور مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ ایف آئی آر میں اگرچہ تھمبرگ کا نام نہیں لیا گیا ہے تاہم پولس کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے اس کا سراغ مل جائے گا کہ کون سازش کررہا تھا ۔ تھمبرگ کے ذریعہ اپ لوڈ کئے گئے اوریجنل ڈاکیومنٹ حوالے کرنے کے لئے پولس گوگل سے رابطہ کررہی ہے ۔ ایف آئی آر کی بنیاد پر جلد ہی نوٹس بھیجی جائے گی ۔ اسپیشل کمشنر پروین رنجن کا کہنا ہے کہ اس میں ایک خالصتان نواز تنظیم پوئیٹک جسٹس فاءونڈیشن کا ہاتھ ہے ۔ رنجن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد سماجی، مذہبی اور ثقافتی گروپوں کے درمیان عدم خیر سگالی پھیلانا اور حکومت کے تئیں دشمنی کے جذبات پیدا کرنا ہے ۔ رنجن نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کی تحریک کے سلسلے میں دہلی پولس سوشل میڈیا کی نگرانی کررہی ہے اور اُس نے نفرت پھیلانے والے تین سو سے زیادہ ہینڈلس کی شناخت کی ہے ۔ بعض تنظی میں اور افراد ان ہینڈلس کے ذریعہ حکومتِ ہند کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ۔ ذرایع کے مطابق اس صورتِ حال پر مرکزی حکومت کو تشویش ہے ۔

اس سلسلے میں امریکی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ کسانوں کے پُرامن احتجاج اور اطلاعات کی بے جا مداخلت رسائی کو جمہوریت کے لئے طرّہَ امتیاز سمجھتا ہے ۔ امریکہ نے اختلافات کو دور کرنے کے لئے مکالمہ آرائی کی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ امریکہ نے انٹرنیٹ کی بحالی پر بھی زور دیا ہے ۔ وزارتِ خارجہ نے بڑی چترائی سے 6 جنوری کو کیپیٹل ہل عمارت پر حملہ کا 26 جنوری کو دہلی میں کسانوں کے تشدد سے موازنہ کیا ہے اور از روئے قانون اُن سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔

دریں اثناء کسانوں کی تحریک کی حمایت میں اپوزیشن پارٹیاں پیش پیش ہیں اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس مسئلہ کو مسلسل اٹھا رہی ہیں ۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ حکومت پہلے دہلی کی خبر لے، بعد میں بنگال کی فکر کرے ۔ کانگریس رہنما دپندر سنگھ ہُوڈا نے کہا کہ حکومت کو کسانوں کی حُب الوطنی پر سوال اُٹھانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا جن کے سپوت سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں ۔ اس دوران غیر ممالک میں کسانوں کی تحریک کی حمایت میں زیادہ زور شور سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں ۔ امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی بھانجی مینا ہیرس نے اپنے پہلے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہندستانی جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں جبکہ اپنے دوسرے ٹویٹ میں اُن کا کہنا ہے کہ وہ حکومتِ ہند سے معرکہ آرائی کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ جبکہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک کسانوں کی تحریک کی حمایت جاری ہے تو حکومت کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے کہ جن کسانوں کی فلاح و بہبود کی خاطر اُس نے قوانین بنائے ہیں ، آخر وہی اس کی اتنی شدت سے کیوں مخالفت کررہے ہیں ۔