کسان تحریکوں میں عوامی سیلاب،کیاملک میں انقلاب آکر رہے گا 

سرفراز احمدقاسمی

کسانوں کی تحریک جاری ہے،70 دنوں سے زائد ہوچکے ہیں اس تحریک کوشروع ہوکر،26 جنوری کے بعد ایسالگتا تھاکہ اب یہ آندولن ختم ہوجائےگا اور حکومت طاقت کے نشے میں اسے کچل دےگی،لیکن اچانک راکیش ٹکیٹ کے آنسو نے اس تحریک میں نئی جان پیداکردی،اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہرجگہ ہجوم ہے،جم غفیرہے،عوامی سیلاب ہے،دہلی کے چار بارڈر،غازیپور،سنگھو،ٹیکری اور شاہجہاں پور میں مرکزی احتجاج چل رہاہے اور ان چاروں جگہوں میں روز بروز احتجاجی کسانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے،یہ تحریک جسطرح عوامی حمایت حاصل کررہی ہے ایسا لگتا نہیں ہے کہ بہت جلد یہ تحریک ختم ہوجائےگی،ہرشہر اور ہرجگہ کھاپ پنچایت بھی ہورہی ہے اس میں بھی لوگوں کا جم غفیر دیکھاجارہاہے،دوسری جانب اب اس تحریک کو عالمی سطح کی حمایت بھی حاصل ہونے لگی ہے،جسے دیکھکر بھارت کی سنگھی حکومت سکتے میں تو ہے لیکن وہ کسانوں کے تعلق سے تینوں بل واپس لینے کے موڈ میں اب تک دکھائی نہیں دیتی،پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے اوروہاں بھی گرما گرمی دیکھنے میں آرہی ہے،ایوان بالا کی کارروائی کئی بار کئی کئی گھنٹوں کےلئے ملتوی کردی گئی،ارکانِ پارلیمنٹ کے ہنگامے کے بعد حکومت کسانوں کے تعلق سے بحث کرانے پر راضی تو ہوگئی لیکن اس مباحثے کے نتیجے میں حکومت قدم پیچھے ہٹائےگی اسکے امکانات بہت کم ہیں ،کئی ارکان کو مارشل لاء کے ذریعے اجلاس سے باہر بھی کردیاگیاہے،کسان آندولن کو نئی زندگی دینے والے،کسان مورچہ کے قومی ترجمان راکیش ٹکیٹ بھی اپنے مطالبے پراٹل ہےں ،اور بار بار وہ اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ;;بل واپسی نہیں تو گھر واپسی نہیں ;;مطلب یہ ہے کہ تینوں بل کی واپسی کے علاوہ اور کوئی چیز قابل قبول نہیں ،یکم فروری کو جب پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیاگیا،اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے راکیش ٹکیٹ نے کہاکہ;;بل واپسی نہیں تو گھرواپسی نہیں ، اور کان کھول کرسن لو،یہ لٹیروں کا آخری بادشاہ ثابت ہوگا;;اسطرح کا بیان راکیش ٹکیٹ مسلسل دے رہے ہیں ، اور اب تو انکے لہجے میں نمایاں تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے،انکا عزم وحوصلہ بھی پہلے سے زیادہ مستحکم ہوتاجارہاہے،عوامی تائید اور مقبولیت کے نتیجے میں اب یہ تحریک اپنے عروج پر ہے،ہریانہ کے جیند میں کل ٹکیٹ نے کھاپ پنچایت کے ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ;;ابھی تو خالی بل واپسی کی بات کی ہے لیکن اگر ہم نے ستہ (اقتدار) واپسی کی بات کردی تو پھر کیاہوگا;;اس سبھا میں مردوں کے علاوہ ہزاروں خواتین بھی شامل تھیں جہاں لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے اسٹیج بھی ٹوٹ کر گرپڑا،اسٹیج پر موجوداکثر لیڈران کو معمولی چوٹ بھی آئی،کسی بڑے حادثے کی کوئی خبر نہیں ہے،کسان لیڈروں نے6 فروری کوپورے ملک میں چکا جام کرنے کابھی اعلان کیاہے،آنے والے اکتوبر تک اس احتجاج کوجاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے ٹکیٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ;;جب جب راجہ ڈرتاہے قلعے بندی کرتاہے;;یہ بھی کہاکہ;;گرفتار کئے گئے کسانوں کی رہائی تک حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی;; ۔ اب سوال یہ ہے کہ کسانوں کا بڑھتا ہوا ہجوم کیا ملک میں انقلاب لاکر رہےگا;; کیا یہ تحریک ملک کے اقتدار پر قابض سنگھی اورفرقہ پرست حکومت کے خاتمے کاذریعہ بنے گی;;کیا اس تحریک کے ذریعے ملک کے کروڑوں لوگوں کو نجات حاصل ہوگی;;100 سے زائد کسان اب تک جان گنوا چکے ہیں ،اور تقریباً ڈیڑھ سولوگوں کو پولس نے 26 جنوری کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیاہے،ایسے میں کسانوں کا غصہ آسمان پر ہے،جن لوگوں نے لال قلعے پر جھنڈا لہرایا اور جولوگ اصل مجرم ہیں اب تک انکی گرفتاری نہیں ہوسکی ہے،لیکن سو سے زائد کسانوں کو دہلی پولس نے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جنکے بارے میں کسان لیڈروں کا کہناہے کہ ہمارے جتنے لوگوں کو پولس نے گرفتار کیا ہے یہ سب بے قصور ہیں ،اصل مجرم آج بھی آزاد ہیں ، دہلی کی سرحد غازیپور اور سنگھو بارڈر پر جس طرح بی جے پی اور آرایس ایس کے غنڈوں نے اس احتجاج کوبدنام اور ختم کرنے اور غنڈہ گردی کے جتنے حربے استعمال کئے اور جتنی کوششیں کی گئیں یہ سب ناکام ہوچکی ہےں ،اور اب تو وہاں بیریکیڈنگ کردی گئی ہے وہ بھی ایسی جیسے سرحدوں پر کی جاتی ہے،سڑکوں کو کھودکر موٹے موٹے نوکیلے راڈ کو سمینٹ ڈال کر نصب کردیاگیا ہے،اور اسطرح قلعہ کی گھیرا بندی کی گئی ہے کہ کوئی پیدل بھی اس راستے سے نہ جاسکے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب چیزیں حکومت کو بحران سے نکلنے اور حکومتی قلعے کو مضبوط بنانے میں معاون ومددگار ثابت ہونگی;;کیا اسطرح ایک ایسی حکومت جس نے لوگوں سے مسلسل جھوٹے وعدے کئے اور سبزخواب دکھائے،7سال کے عرصے میں اس حکومت کا ایک بھی ایسا کوئی کام نہیں جسکو سراہا جاسکے، اور عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق ہو ایسا کوئی ایک بھی قدم نہیں جوقابل ذکر ہو،پھرایسی ناکام حکومت کیا ان چیزوں کے ذریعے اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہوگی;;بھارت میں اس سے پہلے بھی انقلاب آچکاہے کہیں ایسا تو نہیں کہ کسانوں کی یہ جاریہ تحریک اسی انقلاب کی دہلیز پر ہے;; آپ کو یاد ہوگا کہ 1974 میں بہار حکومت کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی تھی،جسے بہار تحریک کا نام دیا گیا تھا،یہ تحریک اس وقت بہار میں ریاست کی کانگریس حکومت کے خلاف تھی، کانگریس حکومت کے وزیراعلیٰ عبدالغفور تھے،پٹنہ یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ کی جانب سے اپنے کچھ مطالبات کو منوانے اوراسکی تکمیل کےلئے یہ تحریک شروع ہوئی تھی،اسکو مضبوط کرنے اور اسے بامقصد بنانے کےلئے پوری ریاست کے طلبہ پر مشتمل ایک تنظیم تشکیل دی گئی،اس تنظیم کا نام بہار چھاتر سنگھرش سمیتی رکھاگیا،اور اسکی صدارت کےلئے بہارکے سابق وزیر اعلی لالو یادو کو منتخب کیاگیا،اسی تحریک میں سشیل کمار مودی،رام ولاس پاسوان کے علاوہ محمدشہاب الدین اوردیگر رہنما شامل تھے،بعد میں اسی تحریک کی قومی سطح پر توسیع کردی گئی،جسکی قیادت جئے پرکاش نارائن کو سونپی گئی،قومی سطح پر جب اسکی تشکیل کردی گئی تو اسے سمپورن کرانتی کانام دیاگیا،یہ تحریک اس قدر مضبوط اور مستحکم ہوئی کہ اس تحریک نے نہ صرف یہ کہ بہار کی حکومت کو اکھاڑ پھنکا بلکہ اس تحریک کی آندھی نے اسوقت کی سب سے قدآور رہنما اور خاتونِ آہن کہی جانےوالی اندرا گاندھی کی حکومت کو بھی دہلی سے بے دخل کردیا،اسطرح بہار سے اٹھنے والی یہ تحریک دہلی کے قلعہ میں سیندھ لگانے میں کامیاب ہوگئی اور ملک میں انقلاب آگیا،عزم مستحکم اورجہدمسلسل کسی بھی تحریک کو انقلاب کی دہلیز پر پہونچانے میں اہم کردار اداکرتاہے،کسانوں کی جاریہ تحریک جس طریقے سے جاری ہے اگریہ اسی طرح کچھ اور مہینے تک امن وامان کے ساتھ جاری رہی تو ملک میں انقلاب ضرور آئےگا اور مودی کی ہٹلر شاہی حکومت ضرور زوال پذیر ہوگی،اسطرح کی تحریکیں نہ جانے کتنے فرعون، ہٹلر،ظالم وجابر اور بے لگام حکمرانوں کو انکی اوقات دکھاچکاہے اور تاش کے پتے کی طرح بکھیر کر رکھ دیاہے،ایسی بہت سی مثالیں تاریخ میں مل جائیں گی،جس نے ظالم ومتعصب حکومت کاغرور خاک میں ملاکر رکھ دیا،ان دنوں ملک کی جوحالت ہے ایسا آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ہواہے لوٹ کھسوٹ کا بازار جس تیزرفتاری کے ساتھ جاری ہے ایسا شاید انگریزوں کے دور میں ہی ہواتھا، گورنمنٹ انکم کے تمام اہم ادارے بیچے جارہے ہیں ،اسطرح ملک کو مکمل طور کنگال کیاجارہا ہے،عوام بے روزگار ہے،مہنگائی آسمان پرہے،مسائل کا انبار ہے لیکن حکومت ہندومسلم کرنے میں لگی ہے،ایسے میں ملک ترقی کیسے کرےگا یہ بھی ایک اہم سوال ہے;;

(مضمون نگار،کل ہند معاشرہ بچاوَ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں )

برائے رابطہ: 8099695186