کاش مودی جی کسانوں کے من کی بات سن لیتے!

پرویز حفیظحالیہ

;;من کی بات میں ;; وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ چھبیس جنوری کے دن ترنگے کے اپمان پر دیش بہت دکھی ہوا ۔ لال قلعہ کے اندر دندناتے ہوئے گھس جانا اور وہاں سکھوں کا مذہبی پرچم نشان صاحب لہرانا غلط اورغیر ذمہ دارانہ فعل ہوسکتا ہے لیکن غیر جانبداری سے یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی اس دن ترنگے کی توہین کی گئی تھی ۔ در اصل حکمران بی جے پی نے اپنے تابعدار میڈیا کے ذریعہ یہ پورا فرضی بیانیہ مینوفیکچر کروایا تھا ۔ اس دن نہ تو لال قلعہ پر لہراتے ترنگے کو کسی نے اتارا نہ ہی ہاتھ لگایا ۔ سکھوں اور کسان تنظیم کے جھنڈے قومی پرچم سے الگ اور نیچے نصب کئے گئے ۔ پچھلے دو ماہ سے کسانوں کو بدنام کرنے کی حکومت اور گودی میڈیا کی تمام کوششوں کو کسانوں نے اپنی بے مثال امن پسندی، میانہ روی اور ڈسپلن کے ذریعہ ناکام بنا دیا تھا ۔ لیکن یوم جمہوریہ کے موقع پر مٹھی بھر سر پھرے لوگوں نے جب لال قلعہ پر دھاوا بولا تو انہیں یہ موقع مل گیاکہ وہ کسانوں کی پوری تحریک پر غنڈہ گردی بلکہ دہشت گردی کا جعلی لیبل چسپاں کردیں ۔ راگ درباری الاپنے والوں نے لال قلعہ کے واقعے کو نہ صرف قومی پرچم کی توہین بلکہ پورے ملک کی سلامتی پر حملہ قرار دینے میں اپنی پوری توانائی صرف کردی ۔ کسانوں کے مطابق یہ حملہ تود یپ سدھو جیسے شرپسندوں نے کیا تھا جو بی جے پی کے ایجنٹ ہیں ۔ کسانوں کا الزام ہے کہ پولیس نے سدھو کو سازش کے تحت لال قلعہ میں ہنگامہ آرائی کر نے کی پوری چھوٹ دی تھی ۔ کیا اس کا گرفتار نہ ہونا کسانوں کے اس الزام کی تصدیق نہیں کرتا ہے کہ لال قلعہ کا پور ا ڈرامہ تحریک کو سبوتاڑ کرنے کے لئے رچایا گیا تھا ۔

کسانوں کو بدنام کرنے کی حکومت کی کوششیں تو ناکام ہوگئیں لیکن نہتے کسانوں کی پر امن تحریک کو کچلنے کے لئے ریاستی جبر کے استعمال سے ساری دنیا میں مودی سرکار کی کافی بدنامی ہورہی ہے ۔ بین الاقوامی پاپ سنگر ریحانہ کے ٹویٹ سے کسانوں کی تحریک کو عالمی حمایت حاصل ہوگئی ہے ۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈاسمیت دنیا بھر میں دنیا کی سب سے بڑ ی جمہوریت میں جمہوریت کی زبوں حالی پر مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ایک گلوکارہ کے ٹویٹ نے ایسا طوفان برپا کردیا کہ مودی سرکار کو نہ صرف ایک لمبا چوڑا بیان جاری کرنا بلکہ فلمی ستاروں اور کرکٹ کھلاڑیوں کو بھی اپنے دفاع کے لئے میدان میں اتار نا پڑا ۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ صدر رام ناتھ کووند اور خود مودی جی نے بھی قومی پرچم کی توہین کے اس بیانیہ پر سرکاری مہر ثبت کردی ہے ۔ اس بیانیہ کو فروغ دینے کے پیچھے سرکار کا مقصد یہ ہے کہ کسانوں کی تحریک کو رسوا اور بدنام کیا جائے، سکھوں کے خلاف بدظنی پیدا کی جائے،کسان تحریک کے اندر پھوٹ ڈالی جائے اور عوام کے دلوں میں کسانوں کے لئے جنمی ہمدردی اور حمایت کو ختم کر کے بد گمانی اور برہمی پیدا کی جائے ۔ اس حربے کے ذریعہ سرکار جائز جمہوری احتجاج کو پہلے بھی سبوتاژ کرچکی ہے ۔ جے این یو میں طلبا کی تحریک ہو یا شاہین باغ میں خواتین کے مظاہرے، حکومت ہر احتجاج کو اپنے خلاف بغاوت تصور کرتی ہے اوران کو کچلنے کے لئے پوری طاقت لگا دیتی ہے ۔ ہر تحریک پر چار سمت سے یلغار کی جاتی ہے ۔ تحریک کے آغاز میں ہی پولیس فورس لاٹھی، آنسو گیس اور بندوق کا استعمال کرکے اسے ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے;234;گودی میڈیا کے ذریعہ احتجاج کرنے والے گروہ کو دیش دروہی، اربن نکسل، جہادی، خالصتانی، دہشت گرد اور پاکستانی ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے;234; مظاہرہ گاہ میں گھس کر بی جے پی کے غنڈے احتجاجیوں پر سنگ باری کرتے ہیں اور انہیں سڑک خالی کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور اگر سب ستم سہنے کے بعد بھی احتجاجی پیچھے نہیں ہٹتے ہیں تو ان کے خلاف ;85658065; اور sedition کے تحت مقدمے درج کرکے انہیں گرفتار کرلیاجاتا ہے ۔ مودی سرکار، بی جے پی اور میڈیا کے اس مشترکہ ہتھکنڈے سے عوام اب اچھی طرح واقف ہوچکے ہیں اسی لئے کسانوں کی تحریک کے خلاف ان کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو پارہی ہے ۔ ویسے بھی سرکار کے جبر اور طاقت کا مقابلہ اس بار کسانوں کے عزم، حوصلے اورجذبہء ایثار سے ہے ۔ دلی کی سرحدوں کے پاس تین مختلف مقامات ٹیکری، سینگھو اور غازی پور پر پچھلے ڈھائی ماہ سے نبضوں میں خون منجمد کردینے والی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے اپنے گھر وں اور گھروالوں سے دورہزاروں کسان دن رات ڈٹے ہوئے ہیں ۔ ان میں 150سے زیادہ کبھی اپنے گھر واپس نہیں جاسکیں گے کیونکہ ان کی موت ہوچکی ہے ۔ سورو گنگولی کی علالت پر مودی جی فون کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکتے ہیں لیکن کسانوں کے مسیحا ہونے کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم ان المناک ا موات پر تعزیت کا ایک لفظ تک نہیں بولتے ہیں ۔

یو م جمہوریہ کے دن ہوئے تشدد کے سبب لگا تھا کہ کسانوں کی تحریک دم توڑنے والی ہے ۔ لیکن راکیش ٹکیت کے آنسووَں نے کسان اندولن میں ایک نئی جان پھونک دی ہے ۔ ڈیموکریسی میں جب سرکار کسی طبقے کے جائز مطالبات نہیں مانتی ہے تو وہ پر امن جمہوری طریقے سے سرکار کے خلاف احتجاج کرسکتا ہے ۔ یہ اس کا آئینی حق ہے اور کسان اسی حق کا استعمال کررہے ہیں لیکن سرکار مسلسل جبرو استبداد سے کام لے رہی ہے ۔ آج ملک میں جو انتشار اور بد امنی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرکار عوام کے ذریعہ کئے گئے اختلاف کو جرم اور احتجاج کو وطن دشمنی سمجھ بیٹھی ہے ۔ سرکار مارتی بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتی ہے ۔ اب جب کسان روپڑا ہے تو سرکار یہ سمجھ لے کہ حالات بری طرح بگڑ چکے ہیں ۔ جمہوریت میں قانون عوام کے فلاح و بہبود کے لئے اور ان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں ۔ قانون بنانے کے پہلے اس کے مسودے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جاتی ہے ۔ اس کی مخالفت اور حمایت میں تقریریں ہوتی ہیں ۔ اب تو ہر بل کو پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں جانچ پرکھ کے لئے بھیجا جاتا ہے اور اس پوری کاروائی کے قبل سماج کے جس جس طبقے کا مفاد مجوزہ قانون سے وابستہ ہو یا جس کے متاثر ہونے کا امکان ہو ان میں سے ہر ایک کے نمائندوں کے ساتھ مجوزہ قانون کی تجویزات پر صلاح مشورہ کرکے باہمی اتفاق رائے قائم کیا جاتا ہے تب جاکے کہیں کوئی نیا قانون معرض وجود میں آتا ہے ۔ زرعی قوانین بناتے وقت اگر سرکار نے یہ اقدام اپنائے ہوتے تو آج اسے اتنی شدید مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ مودی جی کا اصرار ہے کہ متنازع زرعی قوانین کسانوں کے فائدے کے لئے بنائے گئے ہیں جبکہ کسان یہ بات نہیں مانتے ہیں ۔ تو سوال یہ ہے کہ سرکار ان مورکھ کسانوں کو جنہیں خود اپنے بھلے برے کا کوئی گیان نہیں ہے اپنے حال پر چھوڑ کیوں نہیں دیتی;238; ان لوگوں پر ایسے قوانین تھوپنے کی اسے اتنی بے قراری کیوں ہے جو پچھلے چھ ماہ سے انہیں مسترد کر رہے ہیں ;238; در اصل سرکار کی پریشانی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ کسان ان قوانین کو سمجھ نہیں پارہے ہیں بلکہ حقیقی وجہ یہ ہے کہ کسانوں نے بہت اچھی طرح ان قوانین کوبھی سمجھ لیا ہے اور سرکار کی منشا کو بھی ۔ ان کو یہ آگہی ہے کہ سرکار کو ان کی نہیں اپنے سرمایہ دار دوستوں (crony capitalists)کے منافع کی فکر ہے ۔ ;79;xfam کی تازہ رپورٹ کے مطابق لاک ڈاوَن کے دوران ہندوستان کے ہر طبقے کی غریبی میں اضافہ ہوا سوائے ارب پتیوں کے جن کی دولت 35 فی صد بڑھ گئی ہے ۔ امیر ترین صنعت کار مکیش امبانی نے وبائی دور میں ہر گھنٹے 90 کروڑکا منافع کمایا ۔ سرکار پر ابھی بھی ان دھنوانوں کے دھن میں ہی اضافہ کرنے کی دھن سوار ہے ۔ جوہزاروں کسان فصل کی مناسب قیمت نہیں ملنے اور قرض کے بوجھ تلے خودکشی کررہے ہیں ان کی کوئی فکر نہیں ۔ مودی جی نے کسانوں کی آمدنی ڈبل کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی ان کے سب وعدوں کی طرح ;34; انتخابی جملہ;34; ثابت ہوا ۔ احتجاج کسانوں کا جمہوری اور آئینی حق ہے ۔ لیکن سرکار احتجاج کو کچلنے کے لئے ہر جائز اور ناجائز طریقہ اپنا رہی ہے ۔ کبھی مظاہرہ گاہ کی بجلی اور پانی کی سپلائی کاٹ دی جاتی ہے تو کبھی ان پر ڈنڈے برسائے جاتے ہیں ۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں شہریوں کی آزادی اظہار رائے کس طرح سلب کی جارہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ وادیء کشمیر ہی میں نہیں اب سرکار نے انٹر نیٹ دلی سے متصل ہریانہ میں بھی بند کردیا ہے ۔ مظاہرہ گاہ کے ارد گرد راتوں رات سیمنٹ کی اونچی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں ، نوکیلے تاروں کے جال بچھادئے گئے ہیں ، سڑکوں پر کیلیں گڑوادی گئی ہیں اورخندقیں کھدوا دی گئی ہیں ۔ سیکورٹی فورسز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کردیا گیا ہے ۔ کسی وقت بھی یہ تناوَ تصادم میں بدل سکتا ہے ۔ پولیس نے اگر نہتے امن پسند شہریوں کو طاقت اور تشدد کے ذریعہ ہٹانے کی کوشش کی تو جو احتجاج ابھی دلی اور شمالی ہند کے چار صوبوں میں محدود ہے وہ پورے ملک میں پھیل سکتا ہے ۔ طبی اور اقتصادی بحران سے ملک ابھی بھی نبرد آزما ہے ۔ سرکار کو چاہئے کہ لچکدار رویہ اپناکر اس مسئلے کو فوری طور پرحل کرلے ورنہ ملک میں بدامنی پھیل سکتی ہے ۔ سرکار ہریانہ اور اتر پردیش سے متصل دلی کے بارڈر کو خالی کروانے کے جنون میں مبتلا ہوچکی ہے ۔ وہ یہ بھول گئی ہے احتجاج کرنے والے ملک کے کسان ہیں ، پاکستانی یا چینی درانداز نہیں ۔ ان کسانوں سے دشمنوں جیسا سلوک کرنا سرکار کی بہت بڑی بھول ہے ۔ کاش سرکار نے طاقت اور استقامت کا یہ جارحانہ مظاہرہ بین الاقوامی بارڈر (ایل اے سی) پر کیا ہوتا تو چینی فوج لداخ اور اروناچل پردیش میں ہندوستان کی سرزمین پر ناجائز قبضہ نہ کرپاتی ۔