جسمانی طور ناخیز افراد کا جموں میں احتجاجی مارچ، ڈس ایبلٹی ایکٹ لاگو کرنے کا مطالبہ

 جموں،5 فروری  جسمانی طور ناخیز افراد نے جمعے کے روز یہاں اپنے مطالبات خاص طور پر ڈس ایبلٹی ایکٹ کو لاگو کرنے کے حق میں احتجاجی مارچ کیا۔ بتادیں کہ جموں و کشمیر ہینڈی کیپڈ ایسو سی ایشن کے بینر تلے یہ لوگ گذشتہ چار دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات کو پورا نہیں کیا جائے گا تب تک وہ بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ احتجاجی مارچ کے موقع پر جموں وکشمیر ہینڈی کیپڈ ایسو سی ایشن کے صدر عبدالرشید بٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم لوگ گذشتہ چار دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں لیکن سرکار کا کوئی بھی نمائندہ ہمارے نہیں آٰیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں گذشتہ کئی برسوں سے صرف یقین دہانیاں دی جاتی ہیں لیکن ہمارے مسائل کو حل نہیں کیا جاتا ہے۔ موصوف صدر نے کہا کہ جب تک ہمارے مطالبات کو پورا نہیں کیا جائے گا تب تک ہم بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے یہ احتجاجی مارچ اس لئے نکالا تاکہ عام لوگ بھی ہمارے مسائل سے واقف ہوسکیں۔ ایک اور احتجاجی نے بتایا کہ ہمارے مسائل کو گذشتہ بیس برسوں سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملنے کے لئے سرکار کا کوئی نمائندہ تیار نہیں ہے۔ ان کا الزام تھا کہ کورونا کے نام پر یہ لوگ ہم سے ملنے سے انکار کرتے ہیں جبکہ خود باہر گھومتے رہتے ہیں۔ ایک خاتون احتجاجی کا کہنا تھا کہ ہم سرکار سے بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چار فیصد کوٹے سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے اور دفعہ 370 ختم ہونے کے بعد بھی ہمیں اپنے حقوق نہیں دیے جاتے ہیں۔

(یو این آئی)