اخبار مشرق

مغربی بنگال میں 12 فروری سے اسکول کھل جائیں گے تمام اسکولوں کے پرنسپلوں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا

یوں تو کورونا وائرس کی وبا نے ساری دنیا میں ہلچل مچا دی اور اب تک لاکھوں لوگ لقمہَ اجل بن چکے ہیں لیکن اس سے سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو پہنچا ہے ۔ گزشتہ سال مارچ میں لاک ڈاءون کے اچانک اعلان نے زندگی کے سارے شعبوں کو اتھل پتھل کردیا ۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند کردی گئیں ۔ اب سے کئی مہینے پہلے اَن لاک کا اعلان ہوا جس کے نتیجے میں آفسوں میں کام کاج اور صنعتی سرگرمیاں شروع ہوئیں لیکن تعلیمی ادارے نہیں کھلے ۔ بہت سی ریاستوں میں ضروری شرائط کے ساتھ اسکول اور تعلیم گاہیں کھول دی گئی ہیں تاہم مغربی بنگال میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں ابھی تک بند ہیں ۔ اس تناظر میں ریاستی وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ 12 فروری سے ریاست کے تمام تعلیمی کیمپس میں نویں سے بارہویں کلاس کے طلبہ کے لئے اسکولوں کے کھل جانے کا امکان ہے ۔ نچلی کلاسوں کے لئے بعد میں فیصلہ کیا جائے گا ۔ بدھ کو اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے تفصیلات جاری کی جائیں گی ۔ بدھ کے دن وزیر موصوف متعدد یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ اعلیٰ تعلیم گاہوں کے کھلنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے ۔

بلاشبہ آج کا اعلان طلبہ کے لئے خوشی کا باعث ہوگا، خاص طور سے اُن لاکھوں طلبہ کے لئے جو اس سال نویں سے بارہویں درجہ تک بورڈ امتحانات میں بیٹھنے والے ہیں ۔ بنگال ملک کی واحد ریاست ہے جہاں اسکول نہیں کھلے ہیں ۔ وزیر تعلیم نے یاد دلایا کہ اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے پیش نظر حکومت چاہتی ہے کہ حفظانِ صحت کا پورا پورا خیال رکھا جائے ۔ چٹرجی نے اشارہ دیا کہ حکومت نہ صرف نویں سے بارہویں درجہ تک کلاس کھولنے کے حق میں ہے بلکہ پریکٹیکل کے لئے لیباریٹریز کا کھلنا بھی ضروری ہے ۔ جب وزیر سے سوال کیا گیا کہ بنگال میں اسکول اس قدر تاخیر سے کیوں کھولے جا رہے ہیں تو اُن کا جواب تھا کہ اُن کی صحت کی سلامتی کی غرض سے ایسا کیا گیا اور یہ کہ دس دن پیشگی کا موقع اس لئے دیا گیا ہے تاکہ اسکول حفظانِ صحت سے متعلق تمام ضروری اقدامات اُٹھا سکیں ۔ بنگال میں کالی پوجا کے بعد ہی اسکول کھولنے کی بات ہوئی تھی لیکن تہوار کے بعد کورونا کے زور پکڑنے کے خدشہ کے پیشِ نظر ایسا نہیں کیا گیا ۔ اس وقت مغربی بنگال میں کورونا وائرس کا زور بہت کم ہوگیا ہے ۔ حکومت کے اس فیصلے کا اسکول کے پرنسپلوں نے خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اسکول مرکز کی طرف سے جاری کئے گئے رہنما اصولوں پر پہلے ہی عمل درآمد کررہے ہیں نیز ریاستی حکومت کی جانب سے جو بھی ہدایت دی جائے گی اُس پر بھی عمل کریں گے ۔ لویو لال ہائی اسکول کے پرنسپل فادر روڈنی بورینو نے کہا کہ ضروری ہے کہ طلبہ کلاس میں شرکت کریں ۔ بورڈ امتحانات میں بیٹھنے والے طلبہ کے لئے کیمپس میں کلاسوں کا پھر سے شروع ہونا اُن کے لئے مددگار ثابت ہوگا ۔ تقریباً ایک سال سے اسکول آن لائن کلاس چلا رہے تھے، اسکول کھلنے کے بعد طلبہ کی زندگی معمول پر آجائے گی ۔ سینٹ آگسٹائین ڈے اسکول کے پرنسپل ریچرڈ گاسپر نے کہا کہ آن لائن امتحانات اطمینان بخش حل نہیں ہیں ۔ ہیریٹیج اسکول کی پرنسپل لولین سیگل نے کہاکہ طلبہ کیمپس میں دوبارہ آکر خوشی محسوس کریں گے ۔ ہم نے حفظانِ صحت کا سارا بندوبست کرلیا ہے ۔ بعض اسکول سالانہ ;80;en and paper امتحانات کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ برلا بھارتی اسکول کی پرنسپل ایالا دتّہ نے کہا کہ چونکہ ;67668369; کے امتحانات 4 مئی سے شروع ہوں گے اس لئے بورڈاُمید واروں کے لئے اسکول کھل جانے چاہئیں ۔ ویسٹ بنگال گورنمنٹ اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔

Exit mobile version