کیا ہم اپنی خواتین کے تئیں منصف ہیں 

مکرمی:

لڑکیوں کی شادی کے لئے کم سے کم عمر مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین کو مالی طور پر،جسمانی طور پر ،سماجک طور پراور نفسیاتی طور پر با اختیار بنایا جا سکے ۔ اسلام نے کچھ ترغیبات خواتین کو دی ہیں تاکہ وہ خود کو سماج میں روشن کر سکیں اور مناسب تعلیم ،والد اور شوہر کی جائےداد میں سے وراثت حاصل کر سکیں وغےرہ ۔ سبھی مسلمانوں کو کچھ اسلامک اصول بتائے گئے ہیں کہ وہ اپنی بےٹیوں اور بیویوں سے یکساں طور پر برتاوَ کریں جےسا کہ بےٹوں سے کرتے ہیں اور انھیں مناسب تعلیم اور بہترین مستقبل دے سکیں ۔

اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستان میں جلد شادی ہونے کی وجہ سے لڑکیاں اپنی تعلیم پوری نہیں کر پاتی ہیں ،کئی طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں ،غذائیت کا شکار ہو جاتی ہیں اور زچگی کی شرح اموات کے تناسب میں نمایاں اضافہ کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اسلام میں اےسا کوئی تصور نہیں ہے جو خواتین کی ترقی اور انھیں با اختیار بنانے کی راہ میں روڑا ہو ۔

اسلام تعلیم کی حصول یابی پر توجہ دےتا ہے کیوں کہ یہی سب سے طاقتور ہتھیار ہے جس سے ان خوابوں کو پورا کیا جا سکتا ہے جس کا اسلام میں ذکر ہے ۔ ہمارے پیارے نبی ;248; کے مطابق ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘ ۔ شادی کے لئے کم سے کم عمر کو بڑھانے سے انھیں مناسب تعلیم مل سکے گی ۔ لےکن قدیمی دور سے ہندوستان میں مذہب کی تفریق کئے بغےرخواتین کی جلد شادی انھیں اپنے مقاصد کو پورے کرنے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے ۔

سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر چل رہی حالیہ بحث کہ خواتین کی شادی کے لئے کم سے کم عمر کو بڑھانا چاہئے آج وقت کی ضرورت ہے اور یہ ایک شاندار قدم ہے جس سے لڑکیوں کی ترقی ہوگی اور وہ مالی اور سماجک طور پر با اختیار بنیں گی ۔ جب لڑکیوں کی صحیح عمر میں شادی ہوگی تو وہ بہتر طریقے سے اپنے کنبے اور بچوں کی پرورش کر پائیں گی ۔ اسلام اےسے قانون کی حمایت کرتا ہے جو انھیں بامعنی اور ترقی یافتہ زندگی گزارنے میں مدد کرے ۔

’’لڑکیوں کے لئے،پختگی کے معنی ’’ ایک لڑکی کی قابلیت سے ہے کہ وہ ایک بہتر زندگی گزار سکیں ،ماں بننے کی ذمہ داری کو قبول کر سکیں اور اسے اٹھا سکیں اور سماجک زندگی کو پختگی سے نبھا سکیں ‘‘ ۔ (شاد احمد،آئی سی اےن اے)

اسلامک اصول اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ لڑکیوں کی شادی کی مخصوص عمر کیا ہونی چاہئے بلکہ یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ لڑکیوں کی ماں بننے اور بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہونے پر انھیں یہ ذمہ داری دی جائے ۔ اس لئے ہر ملک میں وہاں کے حیاتیاتی حالات جو ان کی نسل اور قومیت پر مبنی ہوتی ہے،شادی کے لئے کم سے کم عمر مختلف ہوتی ہے ۔

ہندوستان بھی اب لڑکیوں کی ترقی اور بالیدگی کو دھیان میں رکھتے ہوئے اور موجودہ اعداد و شمار کے مطابق شادی کے لئے کم سے کم عمر کو بڑھانے کے عمل میں ہے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس بات کو سمجھنا چاہئے اور اس نئی پہل کی حمایت کرنی چاہئے جس سے مذہب کی تفریق کئے بغےر ہندوستان کی ہر لڑکی کے لئے فائدہ مند اور نتیجہ خےز ثابت ہو سکے ۔ بالا آخر اسلام نے ہمےشہ ہی خواتین کی بہتری کے تصور کی حمایت کی ہے ۔

سلطان احمد

جعفرآباد،دہلی ۔ ۳۵