مُنڈے تنازعہ میں نرمی مہنگی پڑے گی

جب مہاراشٹر کے وزیر انصاف پر ہی عصمت ریزی کا سنگین الزام عائد ہو تو اُسے پارٹی اور ریاستی حکومت کو پوری سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔ ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا جانا چاہیے کہ اس معاملے میں نرمی برتی جارہی ہے ۔ اس سے پارٹی کی شبیہ پر آنچ آتی ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ الزام سامنے آتے ہی وزیر دھننجے منڈے خود استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو تحقیقات کے لئے پیش کر دیتے ۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ یہاں قابل ذکر یہ ہے کہ مظلوم پر یہ رمانی کی جانب سے عصمت ریزی کا الزام عائد کئے جانے پر ایم جے اکبر کو مرکزی وزیر کے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا تھا ۔ مودی حکومت نے اس معاملے میں سخت موقف اختیار کیا تھا ۔ الزام عائد کرنے والی خاتون پر بلیک میلنگ کا الزام عائد کرنے سے معاملہ سرد خانہ میں نہیں جاسکتا ۔ جہاں آگ ہے وہاں دھواں تو اٹھے گا ہی ۔ جو بھی ہو ریاست کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے عصمت ریزی معاملے کی تحقیقات ۵ دنوں میں کمل کر لینے کا حکم سینئر پولیس عہدیداروں کو دیا ہے ۔ شکایت کنندہ رینوشرما کے الزامات واقعی سنگین ہیں ۔ ان کی شکایت ہے کہ ان کے ساتھ ۹۰۰۲ اور اس کے بعد ۳۱۰۲ میں بار بار بدسلوکی کی گئی ۔ پلے بیک گلوکاری کے شعبہ میں کیریئر بنانے کا جھوٹا یقین دلا کر بہلایا گیا اور ویڈیو دکھا کر دھمکایا بھی گیا ۔ یہ بات تو منڈے نے بھی قبول کی ہے کہ شکایت کنندہ لڑکی کی بڑی بہن سے ان کے تعلقات تھے اور دونون نے محبت کی شادی کی تھی ۔ منڈے کے رشتہ داروں نے بھی اس رشتہ کو قبول کیا تھا اور اس شادی سے ہوئے بچوں کا خیال رکھنے کی بات بھی منڈے نے کہی تھی ۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں نہ صرف عصمت ریزی کا الزام ہے بلکہ دو بیویوں پر امتناع کے قانون کا معاملہ بھی اٹھتا ہے ۔ اسے لیکر خواتین کمیشن بھی سرگرمی دکھا سکتا ہے ۔ لیڈر یا وزیر سے بڑی پارٹی ہوتی ہے اور پارٹی سے بڑا ملک ہوتا ہے ۔ اس مسئلے پر غور کرنا ضروری ہے ۔ وزیر داخلہ تحقیقات کروا رہے ہیں ، یہاں تک تو ٹھیک ہے، لیکن معاملے کی سنگینی وہیں سمجھ میں آتی ہے کہ خود این سی پی صدر شردپوار نے دھننجے منڈے کو طلب کرکے ان سے اس بارے میں بات کی تھی ۔ اسے دیکھتے ہوئے پارٹی کو اپنی شبیہ کا خیال کرنا چاہیے ۔ غیر ضروری نرمی دکھانا اسے یقینا مہنگا پڑ سکتا ہے ۔