جمعیۃعلماء کی اصلاح معاشرہ تحریکجمعیۃعلماء جالنہ کے اجلاس اصلاح معاشرہ کا کامیاب انعقاداصلاح معاشرہ کی محلہ کمیٹی تشکیل

 جالنہ/مہاراشٹر 3/ فروری: امت مسلمہ کا ہر شعبہ،ہر تحریک،عبادت گاہیں،تعلیم گاہیں،دینی مراکز اور ہر فرد اسلام دشمن طاقتوں کے نشانہ پر ہے۔ان کو اس نرغے سے بچانا،اور سیدھے راستے پر چلانے کی کوشش کرنا خیر امت کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے۔ان خیالات کا اظہار مولانا سید نصر اللہ حسینی سہیل ندوی صدر جمعیۃعلماء ہند ارشد مدنی ضلع جالنہ نے گزشتہ کل شہر جالنہ کے نیشنل نگر کی عالیشان مسجدعمر بن خطاب میں کیا۔  مولانا سید نصر اللہ حسینی ندوی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند ارشد مدنی ضلع جالنہ کے تحت اصلاح معاشرہ مہم الحمد للہ بڑی کامیابی سے جاری ہے،اس کے ذیل میں کئی مقامات پر پروگرام منعقد ہوچکے ہیں،اسی کی ایک کڑی آج کا یہ پروگرام بھی ہے۔ گزشتہ دن بتاریخ یکم فروری بروز پیر کو نیشنل نگر کی عالی شان مسجد عمر بن خطاب میں اسی موضوع پر مقامی ذمہ داران کی دعوت پر جلسہ منعقد ہوا۔جو خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑے اچھے طریقے سے منعقد ہوا،بعد نماز مغرب امام مسجد مولانا سید مختار فیضی کے اعلان پر تمام مصلیان جمع ہوگئے،پروگرام کے ابتداء میں مولانا محمد عیسیٰ خان کاشفی نے جمعیۃعلماء کے زیر اہتمام جو پورے ضلع میں اصلاح معاشرہ کے پروگرام منعقد ہورہے ہیں ان کی غرض و غایت بڑے جامع انداز میں رکھی،اور صوبائی جمعیۃعلماء سے اصلاح معاشرہ مہم چلانے کی جو ہدایت ملی ہے اس کی تفصیل بتلائی۔ مولانا سید نصر اللہ حسینی سہیل ندوی صدر جمعیۃعلماء ہند ارشد مدنی ضلع جالنہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آج امت مسلمہ کا ہر شعبہ،ہر تحریک،عبادت گاہیں،تعلیم گاہیں،دینی مراکز اور ہر فرد اسلام دشمن طاقتوں کے نشانہ پر ہے،آج اس ملک میں یہ طے کرلیا گیا ہے کہ اقلیتوں خصوصاً مسلم برادری کو ان کی اپنے عقیدہ توحید،ا ن کی اپنی اسلامی تہذیب و ثقافت،اسلامی معاشرت اور اسلامی تشخص سے محروم کرنا ہے،یہاں کی تعلیم مشرکانہ ہوگی،اس کے لئے ہماری کیا تیاری ہے،بلکہ اس کے بر خلاف ہمارا مسلم معاشرہ کا ہر فرد کیا اسلامی تصویر پیش کررہا ہے؟کیا وہ اپنے مذہب اسلام کا نمائندہ ہے،ہمارے بچوں کی ہمارے نوجوانوں اور بچیوں کی کیا حالت ہے،موبائل کلچر نے انہیں کس مقام پر لاکر کھڑا کردیا ہے،مغربی تہذیب اور ویسٹرن فحش کلچر سے ہمارا ہر فرد متاثر ہے،ایسی حالت میں ہم سب کو متحد ہو کر ان سب کے تعلق سے سوچنا ہوگا،کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا،اس کے لئے جمعیۃعلماء ہند نے یہ فیصلہ کیا ہے ہم ہنگامی طور پر اصلاح معاشرہ کے عملی کام کے لئے محلہ وار اصلاحی کمیٹیاں تشکیل دیں،اور یہ کمیٹی اپنے محلے کی نگراں کمیٹی ہوگی،وہ اپنے محلے کے مسائل اپنے محلے میں ہی حل کرنے کی کوشش کریں،محلہ والے انہیں اپنا خیر خواہ سمجھیں۔ مولانا محمد مختار صاحب فیضی امام مسجد کی نگرانی میں محلہ کے دیگر افراد ریاض بھائی،خالد بھائی،معین بھائی،شیخ اسلم،شیخ مجاہد،عبد الرؤف ٹیلر،شیخ الطاف،فیصل،شیخ اکبر،سید علیم،محمد مظہر،محسن خان،عزیز خان،مرزا نعیم بیگ،سمیر ڈانگر،وسیم خان،تاج احمد،شیخ اویس،مرزا عظیم بیگ،شریف تنبولی،شیخ ارباز،سید فیصل تنبولی،سید شبیر وغیرہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی،سب شرکاء جلسہ نے اس کام کو ضروری قرار دیا،اس کو کرنے کا عہد کیا، اس اصلاح معاشرہ کے پروگرام میں مقامی لوگوں کے علاوہ اطراف محلہ جات کے بھی کثیر تعدادمیں احباب موجود تھے،سب نے اپنے محلوں میں بھی یہ اصلاحی سلسلہ شروع کرنے کا وعدہ کیا۔مولانا سہیل ندوی کی دعا پر یہ نشست ختم ہوئی۔