یومِ جمہوریہ پر لال قلعہ پر یورش کے جلو میں کسانوں کے حوصلے عارضی اضمحلال کے بعد پھر بلند تحریک زور و شور سے جاری رکھنے کا عزم

یومِ جمہوریہ 26 جنوری کو راجدھانی دہلی میں احتجاجی کسانوں کی ریلی میں لال قلعہ میں بدبختانہ تشدد کے بعد کچھ کسانوں میں بددلی آگئی تھی اور بعض نے تحریک سے خود کو الگ بھی کرلیا تھا لیکن راکیش ٹکیت کے آنسوءوں نے تحریک میں نئی جان پیدا کردی اور کسان جوق در جوق تحریک میں شامل ہونے لگے ۔ دہلی;245;میرٹھ شاہراہ پر بڑی تعداد میں کسان جمع ہوگئے ہیں جبکہ ہریانہ اور پنجاب سے بڑی تعداد میں کسان سنگھو اور ٹیکری سرحدوں کی طرف چل پڑے ہیں ۔ سنیچر کو کسانوں نے سدبھاءونا دیوس (یومِ خیرسگالی) منایا اور بھوک ہڑتال کی ۔ غازی پور سرحد پر احتجاج کاروں سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ کسانوں کی تحریک دو مہینے سے جاری ہے اور اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک زرعی قوانین واپس نہیں لئے جاتے ۔

اس دوران عوامی رہنما انّا ہزارے نے کسانوں کی حمایت میں سنیچر سے بھوک ہڑتال کی دھمکی دی تھی وہ رنگ لائی اور حکومت نے بعجلت تمام ایک اعلیٰ اختیاری کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جو کم سے کم سہارا قیمتوں سمیت کسانوں کے تمام مسائل پر غور و خوض کرے گی ۔ کمیٹی کی سربراہی مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کریں گے ۔ مرکز کی یقین دہانی کے پیش نظر انّا نے اپنی بھوک ہڑتال ملتوی کردی ہے ۔ کمیٹی نیتی آیوگ کے ممبر رمیش چند، جونیئر وزیر زراعت پرشوتم رُوپالا، زرعی تجارت قانون اور پالیسی کے ماہر وجے سردانا، ہریانہ کے کسان کنول سنگھ چوہان اور کسانوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی ۔ کمیٹی چھہ مہینے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی ۔ اس کے پہلے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس مسئلہ کو حل کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو توقع ہے کہ دو مہینے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کردے گی ۔ دریں اثناء بھارتیہ کسان یونین کے سربراہ نریش ٹکیت نے تجویز کی ہے کہ حکومت اپنی میعاد کے اختتام تک متنازعہ زرعی قوانین کو التواء میں رکھے اور جن کسانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اُنہیں واپس لیا جائے ۔ 26 جنوری کو لال قلعہ پر کسانوں کے ایک گروپ کی یورش اور تشدد کے بعد بہت سے کسان بددل ہوگئے تھے اور سنگھو، ٹیکری اور غازیپور کی احتجاج گاہوں پر بھیڑ میں بھی کمی آگئی تھی لیکن ٹکیت کی جذباتی اپیل کے بعدپھر کسان بڑی تعداد میں تحریک سے جڑنے لگے ہیں ۔ تینوں سرحدوں پر کسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا جم غفیر نظر آرہا ہے ۔ غازی پور سرحد پر بڑی تعداد میں راجستھان، اُترکھنڈ اور اُترپردیش سے کسان جمع ہو رہے ہیں ۔ ان تمام کا کہنا ہے کہ کسان تحریک کو بدنام کرنے کے لئے یوم جمہوریہ پر ہنگامہ برپا کیا گیا لیکن ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہم آخری وقت تک تحریک کا ساتھ دیں گے ۔

اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے آل پارٹیز میٹنگ کے دوران کہا کہ حکومت زرعی قوانین واپس نہیں لے گی لیکن وہ کھلے دماغ سے کسانوں کے مسائل پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنا قول دہرایا کہ حکومت نے ڈیڑھ سال تک ان قوانین کو التواء میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کسانوں کی وفاقی تنظیم سنیکت کسان مورچہ نے بہرحال کہا ہے کہ اگرچہ وہ حکومت سے بات چیت کے حق میں ہیں لیکن زرعی قوانین کی واپسی کے اپنے مطالبہ پر قائم ہیں اور وہ اس سے کسی حال میں پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ سنیچر کو ترنمول کانگریس نے وزیر اعظم مودی پر زور دیا کہ وہ فوراً آل پارٹیز میٹنگ بلائیں تاکہ زرعی قوانین پر مفصّل بحث ہو اور قوم کے نام مثبت پیغام جائے کہ مرکزی حکومت اتفاق رائے قائم کرنے میں مخلص ہے ۔ کانگریس نے کہا کہ اگر زرعی قوانین منظور کرنے سے پہلے حکومت نے کسانوں اور سیاسی پارٹیوں سے صلاح و مشورہ کیا ہوتا تو کسانوں کی تحریک کی نوبت ہی نہیں آتی ۔