ویکسی نیشن: ملک میں دھیمی رفتار اور الٹے اثرات کے بیچ عوام کی بے چینی میں اضافہ

دنیا میں مختلف ممالک میں کورونا کے ٹیکے کی رفتار کے مقابلے ہندستانی حکومت کی کار کردگی ہرگز قابلِ اطمینان نہیں قرار دی جا سکتی

صفدرامام قادری

کورونا وبا کا ایک برس مکمل ہوا ۔ ہندستان میں بھی افواہ، مرض اور اس کی شناخت کے اب گیارہ ماہ پورے ہونے کو آئے ۔ دنیا میں مختلف ممالک نے ٹیکے بنائے اور گذشتہ مہینوں سے ان ٹیکوں کے عوامی سطح پر استعمال کی خبریں آرہی ہیں مگر اس کے مقابلے حکومت ہند اور اس کی نگرانی میں صوبائی سرکاروں کی کارکردگی کسی سطح پر اطمینان بخش نہیں معلوم ہوتی کیوں کہ افراتفری کے اس عالمی ماحول میں ہندستان کے سیاست داں کسی بھی جہت سے موثر خدمات انجام دینے میں کامیاب نہ ہوئے ہیں ۔ عوام کی پریشانی اور عمومی معیشت اور دیگر شعبوں کی تباہی کے بارے میں ساری حکومتیں بے پروا ہیں اور کسی بھی جہت سے ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ ٹیکہ کاری کی مہم کو جنگی سطح پر آزمانے اور عوام کو اس وبا سے نجات دلانے کے لیے ہندستانی حکومتیں سنجیدہ اور حساس ہیں ۔

ہندستانی حکومت نے ویکسن کے انتخاب میں اچھی خاصی ڈرامے بازی والی مشقّت کی ۔ یہاں دیسی بدیسی کا سوال اٹھا اور کسی نہ کسی مصلحت سے ایک ہندی نثراد ویکسن کو منظوری دے دی گئی ۔ دنیا جانتی ہے کہ ہندستانی حکومت نے ویکسن کی ایجاد اور اسے آزمانے کے لیے اپنی تحقیق اور دواسازی میں کوئی پہل نہیں کی تھی ۔ عالَم کاری کے دور میں یہ آسانی ہر ملک کو میسّر ہے کہ دوسرے تحقیق کاروں سے معاملہَ باہم کرکے کوئی بات آگے بڑھائی جائے ۔ ہندستان میں یہی ہوا ۔

ویکسن کے انتخاب میں یہ بات بھی دنیا نے ملاحظہ کی کہ اسے چوں کہ ہر شہری کو دینا ہے، اس لیے اس کے پیچھے روپے کی کمائی بھی ایک بنیادی کام ہے ۔ ہندستانی حکومت اور دواساز کمپنیوں کے ساتھ اُن کی پشت پرخاموشی سے حکمراں صنعت کاروں کی حقیقی توجہ اسی پہلو سے نظر آتی ہے ۔ آکسفورڈ کے ٹیکے کے بارے میں عالمی سطح پر ایک سنجیدہ اور کارآمد نقطہَ نظر سامنے آچکا تھا مگر ابھی ٹرائل کے مرحلے میں ہونے کے باوجود جس دیسی ویکسن کے لیے راستہ کھولا گیا، حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے سوچی سمجھی ہوئی ایک معاشی ترکیب کام کر رہی ہے ۔ یہاں عوامی صحت اور دنیا کے سامنے جواب دہی کے معاملات ہرگز نہیں ، صرف اور صرف’ دوائی سے کمائی‘ کا راستہ تلاش کرنے کا انداز نظر آیا ۔

ویکسی نیشن کے لیے تاریخ متعین کرنے میں بھی ایک خاص مذہبی رویّہ اختیار کیا گیا ۔ کھرماس سے پہلے یہ سلسلہ شروع نہیں کرنا یہ بتاتا ہے کہ عوامی مفاد اور سائنس وطب کے معاملات بھی دقیانوسی مذہبی نقطہَ نظر سے طے کیے گئے ۔ مہم ایک دو ہفتے پہلے شروع ہوتی تو راحت رسانی کے کاموں میں بھی آسانی ہوتی اور ملک میں حکومت کی تندہی اور مستعدی کے بارے میں بھی کوئی رائے قائم ہو سکتی تھی ۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔ ویکسی نیشن کے پہلے ہفتے کی جو رپورٹ حکومت اور اس کی ایجنسیوں نے پیش کی ہے، اس سے یہ پتاچلتا ہے کہ ہندستان میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسن دے دی گئی ۔ حکومت جہاں جہاں ممکن ہے، اپنی پیٹھ تھپتھپاتی نظر آرہی ہے کیوں کہ اُسے حقیقی کاموں سے کم اور واہ واہی سے دل چسپی زیادہ ہے ۔ ہندستان کی آبادی کے تناسب میں دس لاکھ کی تعداد ایک بوند بھی نہیں کہی جا سکتی کیوں کہ حکومت نے جنہیں فرنٹ لائن ورکر کہہ رکھا ہے، ان کی تعداد بھی پانچ کروڑ کے قریب ہے ۔ بزرگوں ، مہلک امراض میں مبتلا افراد کی تعداد بھی دس کروڑ سے زیادہ ہی ہوگی ۔ پندرہ کروڑ افراد کو پہلے مرحلے میں ٹیکہ دینے میں ہفتے لگیں گے یا سال، یہ کہنا مشکل ہے ۔ حکومت ایسے سوالوں پہ خاموش رہنا ہی مناسب سمجھتی ہے ۔ ابھی جس انداز سے کام چل رہا ہے، اس سے یہ ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں بدلنے والی اسکیم معلوم ہوتی ہے ۔

پہلے ہفتے میں ہر صوبے کے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں ۔ کرناٹک، آندھراپردیش نے جہاں رفتار تیز کر رکھی ہے، ان کے مقابلے بہار، اترپردیش، مہاراشٹر اور مغربی بنگال جیسے صوبوں کے حالات بے حد نازک ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ان ٹیکوں کی ضرورت ہی نہیں ۔ ایسی سست رفتار ی سے یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ اس کام میں نریندر مودی اور ان کے حلیفوں کی کئی بار حکومتیں قائم ہوں گی مگر ویکسی نیشن کے نشانات حتمی طور پر پورے نہیں ہو سکتے ۔

ہندی نژاد ویکسن کے ساءڈافیکٹ پر چہ می گوئیاں زور و شور سے جاری ہیں ۔ کہیں کوئی مر رہا ہے اور کہیں کسی دوسرے مرض میں مبتلا ہے ۔ جہاں جہاں یہ ویکسن دی جا رہی ہے، وہاں خوف کا بھی ایک ماحول پیدا ہوا ہے ۔ یہ بات صرف ہندستان میں ہی نہیں ہے ۔ ناروے میں تو فائز ر ویکسن کے بعد بھی مرنے والے سامنے آئے ۔ ہندستانی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بہانے بازیاں زیادہ ہیں اور حقیقی اعدادو شمار اور مسائل کو پیش کرنے میں گریز کا معاملہ ہوتا ہے ۔ دنیا میں کوئی نیا مرض پیدا ہوا اور اس کے لیے کوئی نیا ٹیکہ بنا ہے تو اس کے چاہے جتنے بھی ٹسٹ ہوئے ہوں ، ساءڈ افیکٹ کے مسائل متوقع رہیں گے ۔ کوئی بھی علاج خطروں کے بغیر ممکن نہیں ۔ لیکن حکومت ہند کے کارپرداز شفافیت کے بجاے سیاست دانوں کے انداز سے ان معاملات کو نبٹا رہے ہیں ۔

یہ درست کہ ہندستان کی آبادی زیادہ ہے اور یہاں ویکسی نیشن کا مکمل کام چند ہفتوں اور مہینوں میں ممکن نہیں ۔ یہ بھی یاد رہے کہ دواساز کمپنیاں بھی اتنی تعداد میں ٹیکے نہیں فراہم کر سکتیں ۔ مگر صوبائی حکومتوں سے رابطہ کرکے جس مساویانہ انداز سے ٹیکوں کو لگانے کی مہم شروع کی جانی چاہیے تھی، اس میں کوتاہی نظر آتی ہے ۔ کمال یہ ہے کہ اتر پردیش جہاں ہندستان کا ہر پانچواں آدمی بستا ہے، وہاں ایسی سست رفتاری یہ بات ثابت کرتی ہے کہ حکومت کو عوامی زندگی سے کوئی مطلب نہیں ۔ یہ جمیعتِ انسانی کے ساتھ بڑا کھلواڑ ہے ۔

ابھی حال کے دنوں میں ہندستان کے صدر مملکت نے ایودھیا کے رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ دیا ۔ ایسا کسی سیکولرجمہوریت میں پہلی بار دیکھنے کو ملا ۔ اب رام مندر کی تعمیر کے لیے گھر گھر پہنچ کر آر ۔ ایس ۔ ایس ۔ اور فرقہ پرست جماعتیں پیسے جمع کریں گی ۔ اصل کام انھیں ۴۲۰۲ء میں پھر سے نریندرمودی کے لیے ووٹ طلب کرنا ہے ۔

حکومت کے پاس یہی راستہ ہے کہ وہ اپنی عوام موافق کارکردگی کے لیے میدان میں نہ آئے اوراس کے بجاے وہ مذہبی جنون اور پرانے آزمائے ہوئے کھیل تماشے میں لوگوں کو جھونک دے ۔ اسے حکومت چاہیے اور بار بار چاہیے ۔ ۹۱۰۲ء میں رام مندر کے لیے جگہ منتخب ہوئی ۔ مندر کی تعمیر کے ادھورے کام پر ۴۲۰۲ء میں پھر ایک بار حکومت حاصل کرنے کے خواب کومکمل کرنے کی تیاری ہے ۔ یہ ہمارے ملک کا عجیب وغریب مقدّر ہے کہ جب دنیا تباہی وبربادی اور معیشت کی سطح پر مشکلات سے دوچار ہے، اس وقت حکومت ہند اپنے پُرانے جذباتی اور خرافاتی ایجنڈے کے اِرد گرد ہی رہنا چاہتی ہے ۔

موقع تو یہ تھا کہ کورونا سے لڑنے کے لیے فلاحی ریاست کے مثالی انداز کو آزما کر حکومتِ ہند موثر کار کردگی پیش کرتی مگر ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ اسے یہاں بھی ڈرامے بازی اور مذہبی جنون سے ہی زیادہ سروکار ہے ۔ عام آدمی زندگی کی دوڑ میں مارا جائے، حکومتوں کو اس سے کیا غرض ;234;کورونا ویکسن اب برسہا برس کے لیے ایک ایجنڈا ہے پولیو سے بڑھ کر;234; اور حکومت اس سے دواساز کمپنیوں کو کچھ نہ کچھ غیر اخلاقی فائدہ ہی پہنچانا چاہتی ہے ۔