عرب ممالک میں نئی گرم جوشی کی ابتدا

اسد مرزا

جس طریقے سے سال کے پہلے مہینے کے پہلے ہفتے میں مختلف عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور قطر کے درمیان گزشتہ تین سالوں سے چلے آرہے تنازعہ کا خاتمہ ہوا ہے، اس سے یہی امید اور دعا کی جاسکتی ہے کہ رواں سال کے دوران عرب دنیا کو باقی تنازعات اور مسائل سے بھی اسی طرح نجات حاصل ہو ۔

علاقائی مبصرین کا ماننا ہے کہ ایک علاقائی شراکت داری کو حاصل کرنے کے لئے یہ بہترین قدم ہے جس کے ذریعے دیگرعرب ممالک کو مشرق وسطی میں استحکام لانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جاسکتا ہے ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے جو کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے انتہائی با اثر ارکان ہیں 2017 میں قطر سے تعلقات منقطع کرلئے تھے ۔ انہوں نے الزام عائد کیاتھاکہ دوحہ دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے ۔ ایران کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے اور ترکی کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ مصر اور خطہ کے دیگر علاقوں میں اخوان المسلمون کی تائید کرتا ہے ۔ تاہم حالیہ واقعات کو علاقائی اور وسیع عرب تعلقات کے تناظر میں ایک مثبت قدم سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔

عرب دنیا کے ساتھ ترکی کے تعلقات : عرب ممالک کے ساتھ ترکی کے تعلقات خاص طور سے سعودی عرب کے ساتھ ہمیشہ تند اور سخت رہے ہیں ۔ دونوں ممالک مسلم دنیا کی قیادت کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ تاہم ترکی وہ پہلا مسلم ملک ہے جس نے 4 جنوری کو سعودی عرب اور قطر کے درمیان مصالحت کا خیرمقدم کیا ۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک تحریری بیان میں دونوں ممالک کے درمیان زمینی ، فضائی اور سمندری راستوں کے دوبارہ استوار ہوجانے کا خیرمقدم کیا اور ایک جامع اور دیرپا حل کی امید ظاہر کی اور کہا کہ جی سی سی کو قطری عوام کے خلاف جتنی جلدی ممکن ہوسکے تمام پابندیاں برخاست کردینی چاہئےں ۔ بیان کے ;200;خری جملے میں ترکی نے ایک انتہائی اہم پیام پہنچانے کی بھی کوشش کی ہے ۔ ’’ خلیج تعاون کونسل کے ایک اہم شراکت دار کی حیثیت سے اور خلیج میں سلامتی اور استحکام کو اہمیت دیتے ہوئے ترکی اس سمت میں تمام کوششوں کی تائید جاری رکھے گا ۔ ‘‘ یعنی کہ خطے میں عملاً ایک متحرک کردار ادا کرنے کےلیے ترکی زمین ہموار کررہاہے ۔ اس کے علاوہ یہ قدم یو اے ای اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور ترکی کے لئے علاقائی صورتحال میں تبدیلی لانے کےلیے بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے ۔ ترکی مبصرین کا ماننا ہے کہ قطر اور جی سی سی کے درمیان مسائل کا حل ترکی کے یو اے ای اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت پر مثبت اثرات مرتب کرے گا ۔ تاہم ترکی دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے مختلف راستے اختیار کرسکتا ہے ۔

ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں اس وقت زبردست تناوَ آگیا تھا جب سعودی عرب کے صحافی جمال خشوگی کا 2018ء میں استنبول کے ریاض کے قونصل خانے میں سعودی ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعہ بہیمانہ قتل کردیا گیاتھا ۔ تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی سمت کئی کاوشیں کی ہےں ۔ صدر طیب رجب اردگان نے شاہ سلمان سے جی ۔ 20 کانفرنس کے موقع پر گذشتہ نومبر میں فون پر بات چیت کی تھی ۔ ساتھ ہی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی کانفرنسوں کے موقع پرباہمی ملاقاتیں بھی کی تھیں ۔

دوسری طرف ترکی اور یو اے ای کے تعلقات زیادہ پیچیدہ ہیں ۔ ترکی نے اس رویہ پر اپنی فکرمندی کا بھی اظہار کیا ہے ۔ ایسا نہیں لگتا ہے کہ ترکی اور یو اے ای کے تعلقات میں مستقبل قریب میں کوئی بہتری رونما ہونے کے امکانات ہیں ۔ گذشتہ ہفتہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ترکی کے وزیر خارجہ میلوت چاوش اوگلو نے یو اے ای کے ترکی کے تئیں رویہ کو غیردوستانہ قرار دیا اور انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کیوں وہ ملک اس طرح کی ایک ترک مخالف پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اس وقت ایک بڑی دراڑ پڑگئی تھی جب مصر میں بغاوت رونما ہوئی تھی اور جس کے بعد عملی طور پر عرب بہار یکسر ختم ہوگئی تھی ۔ ابوظہبی انقرہ پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کی مدد کرتا ہے اگرچہ کہ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ اخوان المسلمین اور دوسروں کی زیر قیادت حکومتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا ۔ اس جھگڑے نے ترکی کے دیگر عرب ممالک جیسے کہ شام سے لیبیا تک ، یمن سے سوڈان اور صومالیہ تک کے ساتھ تعلقات میں بھی کڑواہٹ پیداکردی ہے ۔

لیبیا کا تصادم :قطر اور سعودی عرب کے درمیان جھگڑے نے کئی علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں جس میں لیبیا کا تنازعہ بھی شامل ہے ۔ لیبیا ہنوز علاقہ میں ایک بڑا میدان جنگ بنا ہوا ہے ۔ اس تصادم میں سعودی عرب نے جنگی کمانڈر خلیفہ ہفتر کی تائید کی ہے جب کہ قطر ہفتر کے حریف کی تائید کرتا ہے جو کہ تریپولی میں اقوام متحدہ کی مسلمہ حکومت ہے ۔ انقرہ کے ایک سیاسی مبصر ڈاکٹر علی باقر نے ٹی ;200;رٹی ورلڈ پر ایک مباحثہ کے دوران خبردار کیا کہ قطر اور سعودی عرب کی دوستی کی روشنی میں لیبیا کے تصادم کے مستقبل پر کسی نتیجہ پر پہنچنے کی جلد بازی نہیں کرنی چاہئے ۔ ان کے مطابق لیبیا کی جنگ میں کوئی بھی عرب ملک اصل فریق نہیں ہے ۔ علاقائی دوستی کے اس معاہدہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر باقر نے مزید رائے ظاہر کی کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات میں بہتری کا مطلب ، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعلقات میں بہتری بھی ہے ۔ یہ تین ممالک علاقائی توازن کو اپنے طرف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر وہ مصر کو بھی اس میں شامل کرلیتے ہیں تو اس کا اثر خطے میں کلیدی کردار ادا کرنے میں ان کی خواہش پر مثبت طور پر اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ اور اس کے ذریعے مختلف علاقائی اور باہمی تنازعوں کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے ۔

لیبیائی ڈاکٹر گما الگماتی نے جو کہ لیبیا کے ماہر تعلیم اور سیاست دان ہیں اور لیبیا میں تغیر سیاسی پارٹی کے سربراہ ہیں ٹی ;200;ر ٹی ورلڈ پر رائے ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی روشنی میں لیبیا میں بین الاقوامی مسلمہ جی این اے کی حکومت کے تئیں خلیجی ممالک کے رویہ میں کسی تبدیلی کی توقع کم ہے ۔ گماتی کے مطابق سعودی اور اس کے خلیجی حلیف اس وجہ سے جی این اے کی مخالفت کررہے تھے کیو ں کہ ان کا ماننا تھاکہ قطر ، ترکی کے ساتھ مل کر اس حکومت کی مدد کررہا ہے ۔ جیسا کہ متحدہ عرب امارات پر لیبیا میں امن اقدامات میں منقسم رول ادا کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے ،گماتی نے کہا کہ دوحہ ۔ ریاض مصالحت نے ابوظہبی کو ایک غیراہم علاقائی ملک میں تبدیل کردیا ہے ۔ دوحہ ، سعودی عرب دوستی کے بعد لیبیا کی ہائی کونسل کے سربراہ خالد المصری نے اس اقدام کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جامع خلیجی مصالحت اقوام متحدہ کی مشترکہ کوششوں کے ساتھ لیبیا کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

مختصر یہ کہ خلیج میں اس نئی تبدیلی کے بعد ترکی کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ دیگر جی سی سی عرب ممالک کے ساتھ مثبت اثر مرتب ہونے کے امکانات بھی ہےں ۔ تاہم اس کا انحصار باہمی رضامندی اور ایک دوسرے کے نقطہَ نظر کو ماننے پر بھی محیط رہے گا ۔ علاوہ ازیں امریکہ کی نئی انتظامیہ مشرق وسطی اور خلیج میں اپنی پالیسی پر کافی محتاط رویہ اختیار کرے گا کیو نکہ وہ علاقے میں ایران کوزیادہ اہمیت دیتا ہے اوراسے اپنا بڑا حریف تصور کرتا ہے ۔ اور ابتدائی ایام میں اس کی توجہ دیگر عرب ممالک کے مقابلہ میں ایران پر زیادہ مرکوز رہے گی ۔

گو کہ اس سلسلہ میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے پہلے ہی اشارے دے دیئے ہیں کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کی نئی کاوشوں کو مکمل تائید دینے کے لیے آمادہ ہیں اور ا س سلسلے میں وہ حتی الامکان امریکی پالیسیوں کی تائید کریں گے،جس سے کہ بین عرب تعلقات ایک نئی سمت اختیار کرسکتے ہیں اور ہم عرب دنیا میں تعلقات اور اشتراک کے ایک نئے باب کا تصور کرسکتے ہیں ۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں ۔ )