_____غزل _______

جتنے ہیں گلے شکوے سارے بھول جائیں گے
مل کے ہم محبت سے زندگی بتائیں گے

مال کے ترازو میں تولئے نہ رشتوں کو
ورنہ ہاتھ سے پل میں یہ نکلتے جائیں گے

کام ہے بڑا مشکل غیر کی مدد کرنا
پھر بھی ہم اگر چاہیں کرکے یہ دکھائیں گے

دیکھنا ہمیں ہوگا کون وقت مشکل میں
درد بانٹ کر سارے حوصلہ بڑھائیں گے

بھول کر تری ساری خوبیاں "سعیدی” اب
یہ جہان والے ہی خامیاں گنائیں گے

فیروز رضا سعیدی کشن گنجوی بہار الہند