امریکہ میں ایک نئی صبح کا ظہور جوبائیڈن اور کملا ہیرس نے حلف لیا ٹرمپ بے آبرو ہوکر کوچہ سے نکلے

بدھ 20 جنوری کو جوبائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر بن گئے ۔ اُنہوں نے ایک ایسے وقت میں عہدہَ صدارت سنبھالا ہے جب قوم دو متوازی خطوط میں بٹی ہوئی ہے ۔ شاید ماضی میں کسی صدر کو ایسے بحرانی دور کا مقابلہ نہیں کرنا پڑا ہے ۔ اس وقت پورے ملک میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور بے یقینی کا عالم ہے ۔ آج جس جگہ صدر نے حلف وفاداری لیا دو ہفتہ پہلے ٹرمپ کے حامیوں نے اس کا محاصرہ کر رکھا تھا ۔ حلف برداری کی تقریب میں اگرچہ تین سابق صدور بل کلنٹن، جارج بُش اور براک اوباما کے علاوہ دیگر عمائدین نے شرکت کی لیکن بغرض حفاظت اتنی بڑی تعداد میں فوجی تعینات تھے کہ قلعہ کا گمان گزر رہا تھا ۔ اس موقع پر نو منتخب صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ’’ملک میں جمہوریت کا بول بالا ہوا ہے ۔ ‘‘ صدر نے کہا کہ عوام کی خواہش پوری ہوئی ہے اور ہم نے دوبارہ یہ سیکھا کہ جمہوریت قیمتی بھی ہوتی ہے اور نازک بھی ۔ اُنہوں نے کہا کہ آج امریکہ کے لئے تاریخی دن ہے ۔۔۔ اُمید کا دن، نئے ارادوں کا دن ۔ اس موقع پر جوبائیڈن نے قوم کو یاد دلایا کہ کورونا وائرس کی وبا ابھی بھی ملک کی سلامتی کے لئے چیلنج بنی ہوئی ہے جس میں اب تک چار لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ وبا کی وجہ سے قومی معیشت پر اس کے اثراتِ بد کا بھی اُنہوں نے ذکر کیا ۔ اُنہوں نے نسلی امتیاز و نا انصافی کو بھی اپنا موضوع بنایا جو گرمیوں کے موسم میں احتجاج اور مظاہروں سے مترشح تھا ۔

روایت سے بغاوت کرتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریبِ حلف برداری کا بائیکاٹ کیا ۔ تقریب کے انعقاد سے پہلے ہی بدھ کی صبح کو ٹرمپ واشنگٹن چھوڑکر فلوریڈا روانہ ہوگئے جبکہ تین سابق صدور کلنٹن، بُش اور اوباما انتقالِ اقتدار کا منظر دیکھنے کے لئے کیپیٹل ہل پر بہ نفس نفیس موجود تھے ۔ ٹرمپ آخر آخر تک اپنے حامیوں سے کہتے رہے کہ بائیڈن کی کامیابی ناجائز ہے ۔

نئے صدر نے اپنے افتتاحی خطاب میں قوم کو للکارا کہ وہ تفریق اور تقسیم سے ابھرے ۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ بغیر اتحاد کے امن نہیں قائم ہوسکتا ۔ بائیڈن نے عہد کیا کہ وہ اس وقت جبکہ قوم کو بحرانی حالات کا سامنا ہے ایمانداری کا مظاہرہ کریں گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ رہنماءوں کے لئے لازم ہے کہ وہ سچ کی مدافعت کریں اور جھوٹ کو شکست دیں ۔ اُنہوں نے اُن لوگوں سے جنہوں نے اُنہیں ووٹ نہیں دیئے اپیل کی کہ وہ اُنہیں ایک موقع دیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ جب میں پیش قدمی کررہا ہوں تو میری باتیں غور سے سنیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ تمام امریکیوں کے صدر ہیں اور اُن کے لئے بھی سخت لڑائی لڑیں گے جنہوں نے اُن کی حمایت نہیں کی ۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’غیر شہری‘‘ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہئے جس میں سرخ اور نیلا (بلیو) ایک دوسرے سے صف آرا ہیں ۔ ٹرمپ کے ایجنڈے کی نفی کرتے ہوئے بائیڈن نے اپنی صدارت کے پہلے ہی دن کورونا وائرس، آب و ہوا کی تبدیلی اور ترکِ وطن جیسے مسائل پر ایکزیکیوٹیو آرڈرز جاری کئے ۔ واشنگٹن میں رہ کر چالیس برس سے زیادہ عرصہ سے اُنہوں نے ملکی سیاست کے زیر و بم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ وہ تجربہ کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ 78 سال کی عمر میں وہ ملک کے سب سے معمّر صدر ہیں ۔ صدر کے ساتھ ساتھ نائب صدر کملا ہیرس نے بھی نائب صدر کے عہدے کا حلف لیا جو امریکہ کے لئے ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے ۔ امریکہ کی دو سو سال کی تاریخ میں وہ پہلی خاتون ہیں جو اس عہدہَ جلیلہ پر فائز ہوئی ہیں اور اس پر مستزاد اُن کا ’’سیاہ فام‘‘ ہونا ہے ۔ سالِ نو پر امریکہ میں ایک نئی صبح کا ظہور ہوا ہے ۔