کورونا وائرس کا ٹیکہ لگوانے میں پس و پیش کیوں ٹیکہ کے منفی اثرات نہ کے برابر

بلاشبہ کورونا وائرس کے خلاف ہندستان میں دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم شروع ہوئی ہے اور تین دنوں کے اندر کل 457049افراد کو ;67 covid shield اور covaxinکے ٹیکے لگائے گئے ہیں جو کہ کورونا وائرس کے سرگرم کیسوں سے دوگنے سے بھی زیادہ ہے ۔ مرکزی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں میں ملک کے 3930 مقامات پر 223669 لوگوں کو ٹےکے لگائے گئے ۔ اب تک صرف 0;;18 فیصد افرادپر ٹےکے کے خراب اثرات مرتب ہوئے ہیں جب کہ صرف 0;46;002فی صد افراد کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا ۔ اعدادو شمار سے ظاہر ہے کہ امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے مقابلے میں گزشتہ تین دنوں میں ہندستان میں سب سے زیادہ ٹےکے لگائے گئے تاہم افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ ٹےکہ لگوانے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں ۔ منگل کے دن مغربی بنگال میں 24000لوگوں کو ٹیکہ لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن 13693لوگ ہی حاضر ہوئے ۔ اس طرح دیکھا جائے تو ٹےکہ کاری کے تےسرے دن صرف 57فی صد ی لوگ ہی ٹےکہ لگوانے آئے جب کہ اس کے پہلے دو دن 75 ;9فی صد لوگوں نے ٹےکے لگوائے ۔ 11لوگوں پر ٹےکہ کاری کے مضر اثرات دیکھے گئے جب کہ صرف ایک شخص کو اسپتال میں داخل کیا گیا ۔ منگل کو ٹےکہ کاری کا پروگرام اگرچہ سو فیصدی ڈیجیٹل ہوگیاتاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ;67Co-win کے نظام میں کچھ دقتیں آئیں نیز کچھ لوگوں نے عمداً ٹےکہ لگوانے سے انکار کیا ۔

کلکتہ میونسپل کارپوریشن اپنے داکٹروں کو تےار کررہا ہے کہ وہ ہیلتھ ورکرز اور فرنٹ لائن ورکرز کے درمیان جاکرانہیں ٹےکہ لگوانے کی تلقین کریں ۔ کارپوریشن کے بورڈ آف ایڈ منسٹریٹرز کے ایک سینئر ممبر اتن گھوش نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ملازمین کو ٹےکہ لگوانے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ کارپوریشن کے محکمہ صحت کے مشیر ٹی کے مکھرجی نے کہا کہ فرنٹ لائن کو وڈ واریئر ز کے شکوک و شبہات کو ہر طرح سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

ٹیکہ کاری کی مہم میں ;Co-winکے نظام کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے جب کہ اسی میں دقتےں پیدا ہوگئیں ۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ یوں ہی ٹےکہ لگوانے سے احتراز کررہے ہیں ۔ ;Co-win نظام کی ایک دقت یہ بھی رہی کہ ٹےکہ لگوانے کیلئے متعینہ لوگوں کو بر وقت آگاہی نہیں دی جاسکی ۔ اس کے علاوہ ;Software میں خرابی کے سبب بھی رجسٹریشن کے عمل میں تاخیر ہوئی ۔ ;Co-win نظام کے تحت ہر ٹیکہ کاری مرکز کیلئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے ،ٹےکہ لگوانے والوں کی شناخت کی جاتی ہے اور انہیں ٹےکہ کاری کے مراکز سے آگاہ کیا جاتاہے ۔ ;Software کی دقتیں بھی جلد سے جلد دور کی جانی چاہئیں تاکہ ٹکنالوجی ٹےکہ کاری کی مہم میں مزاحم نہ ہونے پائے ۔ ٹیکہ لگوانے کے معاملے میں مغالطہ انگیزی بھی پھیلائی جارہی ہے نیز یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ;67Covaxin اپنے ٹرائل کے آخری دور سے نہیں گزرا ہے ۔ ان حالات میں حکام پر لازم ہے کہ ٹےکہ کی سلامتی اور اثرداری کے حوالے سے وہ بار بار پیغام دیں اور اثر انگیزی کے حوالے سے اعداد و شمار بار بار پیش کئے جائیں ۔ یہ بھی واضح کیا جائے کہ ٹےکہ کاری کے معاملے میں ہیلتھ ورکروں اور فرنٹ لائن ورکروں کو کیوں ترجیح دی گئی ہے ۔ واقعہ ہے کہ ہیلتھ ورکروں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے ، اس لئے ترجیحی طور سے انہیں ٹےکہ لگوانے کیلئے سامنے آنا چاہئے ۔ یہ وقت پس و پیش کا نہیں ہے ۔ ہمت کر کے میدان میں آنے کا ہے ۔