چین اور یوروپی یونین کا معاہدہ دونوں کے مفاد میں

کورونا کے بعد معاشی طور پر پریشان ممالک کی جانب سے اقتصادی انحطاط سے باہر آنے کے لئے مختلف انداز مین کوشش کی جارہی ہے ۔ یہ صورت حال دوسرے ممالک سے کہیں بہتر موقف میں چین کے لئے فائدہ مند ہے ۔ امریکہ کے موجودہ مسائل میں سے ایک امریکہ سے کافی طویل عرصہ تک قریب رہے یوروپی ممالک کا چین کی طرف دیکھنا ہے ۔ خاص طور پر چین اور یوروپی ممالک کے درمیان سرمایہ کاری سے متعلق ایک یاد داشت مفاہمت طے پائی ۔ اس معاہدے پر دستخط ہونا باقی ہے ۔ امریکی مخالفت اور یوروپی ممالک میں سنے جارہے مخالف لب و لہجہ کے درمیان اس معاہدے کو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یوروپی ممالک کے ذمہ دار اس معاہدے کو کافی اہم قرار دے رہے ہیں ۔ چین میں بھی اس معاہدے پر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ حقیقتاً یہ معاہدہ جلد بازی میں قطعی نہیں کیا گیا ۔ گزشتہ سات سالوں سے اس کے متعلق مذکرات جاری ہیں ۔ اس وقت سے ہی امریکہ نے یوروپی یونین کو معاہدہ کرنے سے باز رکھا ہوا ہے ۔ سابق میں امریکہ کی ناراضگی اور چین کی جانب سے عائد شرائط معاہدہ میں رکاوٹ تھے، لیکن اب بدلتے حالات اور تقاضوں کے مطابق دونوں گروپس معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں ۔ امریکہ میں اقتدار کی منتقلی کے بعد یوروپی یونین پر دباوَ میں اضافہ ہونے کے خدشہ کو محسوس کرتے ہوئے چین نے حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور جلد معاہدہ طے پاگیا ۔

امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کا چار سالہ دور حکومت اب ختم ہورہا ہے ۔ ان کی جگہ جو بائیڈن حکومت سنبھالیں گے ۔ ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان کئی امور پر اختلافات ہونے کے باوجود چین سے متعلق اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔ امریکی صدارت پر چاہے کوئی بھی فائز رہے ہر صدر کی کوشش رہتی ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے ۔ ہارلی ڈیویڈسن بائیک پر ہندوستان کی جانب سے اضافی ٹیکس عائد کئے جانے پر ٹرمپ نے کئی بار ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ ٹرمپ نے اپنے حلیف ممالک کے خلاف منمانی بیانات دیتے ہوئے انہیں دور کر دیا ۔ بالآخر چین سے تنہا مقابلہ کرنے کی نوبت آگئی ۔ ان حالات میں بائیڈن تبدیلی لانے کے لئے پر امید ہیں ۔ برائے نام وجود کا حامل یوروپی یونین کورونا وبا کی مار سے معاشی طور پر کشمکش کی نذر ہوچکا ہے ۔ یہاں کی پیداوار کو وسیع بازاروں کی ضرورت ہے ۔ دوسری طرف چین اپنی الیکٹرک کاروں کی فروخت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا چاہتا ہے ۔ اس معاہدے کے بعد چین کو توقع ہے کہ مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ اس معاہدے سے چین اور یوروپی یونین دونوں کو فائدہ ہی ہوگا اور نقصان میں امریکہ ہی رہے گا ۔