مجلس اتحاد المسلمین کے اویسی کےخلاف مغربی بنگال کی مسلم مذہبی قیادتےں سامنے آئیں مجلس کو دیا جانے والا ہر ووٹ بی جے پی کو جائے گا

جیسے جیسے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں بی جے پی یہاں کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تار تار کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔ اس پر مستزاد بنگال میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی متوقع انٹری ہے ۔ پچھلے دنوں مجلس صدر اسد الدین اویسی نے فرفرہ شریف کے پیر زادہ عباس الدین صدیقی سے ملاقات کی اور ان کی قیادت میں مجلس کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ۔ اس کے پیش نظر آل انڈیا امام و موَذن کی مرشد آباد یونٹ اور سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن نے اتوار کو برہم پور میں ایک عام میٹنگ کی اور ملک کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے صفایا کیلئے مغربی بنگال میں ایک سیکولر پارٹی کو منتخب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ میٹنگ میں 650 نمائندوں نے شرکت کی جن میں ریاستی وزیر صدیق اللہ چودھری ، نماز عیدین کے امام مولانا فضل الرحمن ،جامع مسجد کلکتہ کے امام مولانا شفیق قاسمی اور ترنمول کانگریس کے سابق راجیہ سبھا ممبر احمد حسن عمران قابل ذکر ہیں ۔ اگرچہ میٹنگ میں مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی اور فرفرہ شریف کے پیر زادہ عباس الدین صدیقی کا نام نہیں لیا گیا تاہم ان کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی جو بنگال میں اقلیتی اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ اس قسم کے اتحاد سے مسلم ووٹ منتشر ہوجائیں گے جس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہوگا ۔ صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ ہر گاءوں کے امام اور موَذن کا فرض ہے کہ وہ تفریق پھیلانے والی طاقتوں کو بڑھ کر روک دیں ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مذہبی رہنما صحیح پسند کے معاملے میں ووٹروں کی رہنمائی کریں ۔
کلکتہ کی ناخدا مسجد کے امام مولانا شفیق قاسمی نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کو اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم سیکولر طاقتوں کے پیچھے کھڑے ہوجائیں ۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 2006تک سی پی آئی ایم کے دور حکومت میں مسلمان متحد ہوکر ووٹنگ نہیں کرتے تھے ۔ واضح ہوکہ 2006 میں مغربی بنگال اسمبلی میں مسلم ممبران کی تعداد 43تھی جب کہ ترنمول کانگریس کے پہلے ٹرم میں ان کی تعداد بڑھ کر 57ہوگئی اور موجودہ ٹرم میں ان کی تعداد 59ہے جن میں سے 22کا تعلق ترنمول کانگریس سے ہے ۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق مسلم ووٹروں کی تعداد ایک تہائی ہے اور مرشد آباد ،مالدہ اورشمالی دیناجپور میں وہ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ۔ بیر بھوم ، جنوبی 24پرگنہ اور ندیا اضلاع میں بھی ان کی معتد بہ آبادی ہے ۔ اسمبلی کی 294سیٹوں میں سے 90تا 100سیٹوں پر مسلم ووٹروں کا غلبہ ہے ۔
گزشتہ ہفتہ امام عیدین مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں مولانا نے کہا کہ لوگوں کو یہ حق ہے کہ جس کو چاہیں ووٹ دیں اور ہم ان کے فیصلے پر اثر انداز ہونا نہیں چاہتے لیکن یاد رکھنے کی بات ہے کہ اس بار فیصلہ صرف ریاست کی تقدیر کا نہیں ہوگا بلکہ کروڑوں لوگوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے پر بھی منتج ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی طاقتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں جو نہ صرف امن میں خلل ڈالنا چاہتی ہیں بلکہ نفرت کا بیج بو کر انہیں تقسیم کرنا چاہتی ہیں ۔ مذہبی عقیدے کی بنا پر بہت سے لوگوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے،اس لئے ہ میں اتفاق رائے پیدا کرنا چاہئے اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔ بنگال امام ایسوسی ایشن کے صدر محمد یحییٰ نے اپیل کی کہ وہ اسد الدین اویسی کی پارٹی کو ووٹ نہ دیں کیوں کہ ان کے حق میں ہر ووٹ بی جے پی کو جائے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔