نیپال میں بیٹوں کے لئے بیٹیوں کی قربانی

بیٹوں کی خواہش کا جنون ہندوستان میں ہی نہیں پڑوسی ملک نیپال میں بھی حد درجہ بڑھا ہوا ہے ۔ ’’کٹھمنڈو پوسٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق وہاں کی سات بیٹیوں کی ۵۳ سالہ ماں سپنا ہر دوسرے سال بچہ پیدا کرتی رہی ہے تاکہ وہ ایک بیٹے کو جنم دے سکے، اس ملک کی ایک اور مثال یہ ہے ۵۴ سال کی لال مت دھامی جس نے اس اخبار کو بتایا کہ مسلسل بچے پیدا کرنے کی وجہ سے اُس کی صحت سال در سال خراب ہوتی چلی جارہی ہے ۔ اس کی پہلی چار اولادیں بیٹیاں ہیں ۔ اس کے بعد اس نے دو بیٹوں کو جنم دیا ۔ یہ دونوں ہی خواتین جس بیتڑی ضلع کی ہیں ، وہاں کے ہیلتھ افسر کا کہنا ہے کہ خواتین کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کے صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیوں کہ جب تک بیٹا نہ ہوجائے، ان پر بچے پیدا کرنے کا دباوَ رہتا ہے ۔ بینڑی کی کہانی نئی نہیں ہے کیونکہ بیٹے کی شدید خواہش اور صنفی امتیاز کا کلچر پورے نیپال میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد بھی اس ذہنیت سے آزاد نہیں ہوپاتے ۔ نتیجتاً عورتوں کی صحت کے ساتھ سمجھوتہ کیا جاتا ہے اور اکثر تو وہ موت کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ ڈاکٹروں کے مطابق بار بار حمل عورتوں کی صحت پر دور رس منفی اثرات مرتب کرتا ہے ۔ جسمانی اور ذہنی صحت کا مسئلہ اس صنفی امتیاز کے کئی نتاءج میں سے ایک ہے ۔ قانون کے باوجود جہیز کی روایت اور جائیداد میں وارثت جیسے مسائل بھی عورتوں کے خلاف جرائم کی دیگر وجوہات ہیں ۔ ’’ایشین مانیٹر آف ہیومن راءٹس‘‘ نے ۶۱۰۲ء میں اپنے ایک سروے میں بتایا تھا کہ نیپال میں لڑکے کو ملنے والی اہمیت سماجی روایات، معاشی اور مذہبی وجوہات سے متاثر ہیں جو مردوں کو خصوصی اختیارات، ذمہ داریوں نیز ترجیحات سے مالا مال بنا دیتی ہے ۔ گزشتہ سال ملک کے چھ علاقائی اسپتالون میں الٹراساوَنڈ کے اعداد و شمار کا ایک سروے ہوا تھا جس سے معلوم ہوا کہ ستمبر ۵۱۰۲ء سے مارچ ۷۱۰۲ء کے درمیان ۰۰۱ لڑکیوں پر ۱۲۱ لڑکوں کی پیدائش ہوئی ۔ رپورٹوں کے مطابق اس عدم توازن کی اہم وجہ تھی مادر رحم میں جنین کشی ۔ قانون کے باوجود ایسی صورت حال نیپال کے لئے تشویشناک بات ہے ۔ وہاں کی حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بیٹے کے لئے بیٹیوں کو اپنی قربانی نہ دینی پڑے کیوں کہ کسی بھی مہذب معاشرہ کے لئے یہ شرمندگی کا پہلو ہی ہوتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔