مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور ہماری حالت زار

مکرمی: سرکاری سروے کے مطابق یہ حقیقت عیاں ہے کہ قوم مسلم میں شرح خواندگی سب سے کم ہے، جس قوم کے نبیَ کا فرمان ہے ’’طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم و مسلمۃ‘‘ (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے) اس قوم میں جہالت کی حکمرانی کا سبب کیا ہے;; آخر اس امر پر کسی نے توجہ دی;; بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا کہ مسلمان بحیثیت ملت تعلیمی اعتبار سے پسماندہ نہ رہے، تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے اور مسلم بچوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے بورڈ کا قیام ہوا تھا;; لیکن حیف صد حیف : بورڈ کے قیام کو چالیس سال ہوگئے اور غریب مسلم بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں ، آپ سوچیں گے کہ کثرت مدارس کے باوجود بھی نادار مسلم بچے تعلیم سے محروم! جی ہاں ! اس کے لیے مدرسہ بورڈ اور اس کے ہم نوا مدرسہ کمیٹی کے ذمہ دار ہیں ۔ چونکہ مدارس میں ٹیچرز کی بحالی میں دولت اور اقرباپروری حاوی ہے، صد حیف: کس قدر احمقانہ حرکت ہے کہ ٹیچرز کا انتخاب اور بحالی کا اختیار ناخواندہ اور علم دشمن لوگوں پر مشتمل کمیٹی کودیا گیا ہے;; کتنی مضحکہ خیز بات ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بالکل نا اہل، نالائق لوگوں کو جنہیں کچھ بھی نہیں آتابحال کرکے غریب و نادار بچوں کو حق تعلیم سے محروم کرنے کی ناپاک سازش ہے، بچے آخر مدرسہ کیوں جائیں ;; کوئی پڑھانے والا بھی تو ہو! کمیٹی کی حقیقت یہ ہے کہ یہ خود ساختہ ہے، عوام سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا، یہ ناپاک کھیل گذشتہ تین دہائیوں سے ہوتا آرہا ہے;; لیکن اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے، کیا اس قوم میں سرسید احمد خان، ڈاکٹر محمد اقبال، مولانا مظہر الحق کے وارث نہیں رہے;; بہار کے دانشور مسلمان اس قدر خود غرض و خود پرست ہوگئے ۔ پھر ملت و قوم کا کیا معنی;;کیا یہ مدارس اس لیے توجہ کے قابل نہیں کہ یہاں غریب اور نادار بچے پڑھتے ہیں ;; کوئی قوم اگر دنیا میں باوقار ہے تو علم کی بدولت;; قوم میں چند لوگ ڈاکٹرز اور انجینئرہوجائیں اور اکثریت جاہل اور ناخواندہ رہے تو قوم سربلند کیسے ہوگی
اگر حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو بات عیاں ہوجاتی ہے، بورڈ کا کردار قابل مذمت ہے، منافقت کی ایسی مثال کہیں دیکھنے میں نہیں آتی ہے، بورڈ کا’’ مونوگرام‘‘ دیکھ لیجیے( حدیث رسول  ہے’’طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم و مسلمۃ‘‘ اور رحل پر کھلا ہوا قرآن پاک اور روشن شمع) اور کردار اتنا گھناوَنا، رشوت خوری کا مرکز، سچ یہ ہے کہ مدرسہ میں ٹیچر بحالی کے جو بھی قوانین و ضوابط ہیں ، ان کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ، لہذا ان میں فوری اصلاح کی ضرورت ہے ۔
ماسٹر محمد یوسف، کولتھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔