پانی اور آنسو–ایک تجزیاتی مطالعہ

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ
=======================================================
حسن نواب حسن (متوفی ۷؍ دسمبر ۲۰۱۹ء )بن سید خورشید نواب ایڈووکیٹ (م۱۷؍ اگست ۱۹۹۲ء) بن ارشادحسن بن چودھری ہادی بخش دبستان عظیم آباد کے ایسے گل سر سبد تھے، جن کی شاعرانہ عظمت کے مداح شفیع مشہدی، ڈاکٹر جعفر رضا ، ڈاکٹر وہاب اشرفی ، سلطان اختر ، نقی احمد ارشاد ، ڈاکٹر علیم اللہ حالی، ڈاکٹر اعجاز علی ارشد ، پروفیسر حسین الحق، بہزاد فاطمی اور ڈاکٹر ظفر حمیدی جیسے اساطین علم وادب ہیں اور رہے ہیں ، حسنؔ نواب اس اعتبار سے خوش قسمت ر ہےکہ ان کے فن کے قدر داں ان کے معاصرین ہیں، معاصرین کی مداحی بڑی چیز ہے، اس لیے کہ تصوف کے باب میں تو معاصرت کو حجاب اکبر کہا گیا ہے، جو فن خالص اللہ کے لئے ہے ، اس کا تو یہ حال ہے کہ معاصرت پہچاننے میں رکاوٹ بن جاتی ہے، ایسے میں ادب وشاعری کا کیا ذکر ، یہاں تو اکثر کواپنے علاوہ کسی اور کی شکل کم ہی نظر آتی ہے، یہاں پر ہمیں وہ لطیفہ یاد آ رہا ہے کہ ایک شاعر کا انتقال ہو گیا ، اس کے لیے ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا ، مدعو ئین میں اس شخص کا بھی نام تھا جو مرحوم کا سخت مخالف تھا، اس نے اپنی تقریر میں مرحوم کی خلاف توقع خوب تعریف کی ، اور فن کے رموز ونکات سے واقفیت اور ان کی قادر الکلامی کا خوب خوب چرچا کیا اور جب تقریر ختم کیا تو کہا ، میری یہ معروضات اس وقت ہیں ، جب واقعتا ان کا انتقال ہو چکا ہو، لیکن حسن نواب حسن کا معاملہ دوسرا ہے ، ان کی زندگی میں ہی صاحب علم وفن ان پر تعریف کے ڈونگرے برسا تے رہے اور ہم جیسے لوگ سن کر اور انہیں دیکھ کر رشک کرتے رہےکہ یہ شخص اتنے اچھے اشعار کیوں کہتا ہے، اور ایسی نکتہ آفرینی کیوں کرتا ہے کہ لوگ اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔
میں نے اس مسئلہ پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ حسن نواب حسن کی فکر میں ندرت، تخیلات میں ترفع ،ہیئت کی پابندی اوراوزان وقافیہ کے سانچے میں ڈھلی شاعری لوگوں کے دلوں پر دستک دیتی ہے، ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا ترقی پسند، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کے نعروں سے دور رہنا ہے۔ ان کے موضوعات ہمارے ارد گر اور پاس کے ہوتے ہیں، کبھی کبھی تو عصری حسیت سیاسی بصیرت اور موضوعاتی آگہی کی وجہ سے ہمارے اوپر ہی وہ موضوعات چھائے ہوتے ہیں، ایسے میں ان کے اشعار ہماری اپنی آوازکی صدائے باز گشت محسوس ہوتی ہے، اور اپنی آواز کو خراب کہنے کا خطرہ تو کوئی بھی مول نہیں لے سکتا، پھر جو مسائل ا س میں زیر بحث ہوتے ہیں، جو نکات اٹھائے جاتے ہیں، وہ ہماری روز مرہ زندگی سے ہی مستعار ہوتے ہیں، اس لیے وہ ہمیں جگ بیتی نہیں، آپ بیتی معلوم ہوتے ہیں،مثال کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی کے حوالہ سے ان کی مزاحیہ نظم ’’نور نظر پیدا نہ ہو‘‘ ایک لا وارث گونگی لڑکی، اف ، آئی آر، شہر عظیم آباد ، مختلف رنگوں کے سانپ، مسلم مخالف سازش ، شناختی کارڈ، زخمی پرندہ، سوغات ، صدام حسین کے نام ، موت قبل زندگی، درد دل ، بیٹی کا مقام، دانش ایمن اورثنا کے نام ، نیا میزائیل امن وآشتی کے لئے، آگ، ماں، پانی اور آنسو نیز پردہ جیسی نظموں کو پیش کیا جا سکتا ہے، جو قاری کو متاثر کر تی ہیں ؛ حالانکہ ان میں سے کئی آزاد نظمیں ہیں ، لیکن الفاظ کے در وبست اور بر محل استعمال نے ان کی اثر آفرینی کو کمزور ہونے سے بچا لیا ہے، آزاد نظموں اور غزلوں کے بارے میں میری رائے کبھی بھی بہت اچھی نہیں رہی ، لیکن حسن نواب حسن کی آزاد نظموں کا معاملہ دوسرا ہے، میں نے انہیں پڑھا ہے اور ان سے بقدر ظرف مستفیض ہوا ہوں، کیونکہ ان کا اپنا ایک رنگ ہے، ایک آہنگ ہے جو مجھے پسند ہے، ان کی کئی نظموں کو پڑھ کر مجھے جوشؔ کی لفظیات اور روانی کا احساس ہوتا ہے۔ البتہ جوش کی طرح ان کا لہجہ انقلابی نہیں ہے، بلکہ سبک اور دریاؤں کی روانی جیسا ہے، جوہولے ہولے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور جب تخلیق ختم ہوتی ہے تو آدمی ان کے سحر سے دیر میں نکل پاتا ہے۔
حسن نواب حسن کی ایک دوسری خوبی یہ ہے کہ ان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ بہت ہے، اور جوش کی طرح الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انہیں دوسرے معاصر شعراء کی طرح الفاظ کی تشکیل نہیں کرنی پڑتی ہے، اور ان کے یہاں نا مانوس اور اجنبی الفاظ نہیں ملتے جن کے سمجھنے کے لیے ذہنی جمنا اسٹک کرنی پڑے اور معنی کی تفہیم کے لیے پس ساختیات والوں کی تشریح کا سہارا لینا پڑے۔
حسن نواب حسن نے غزلوں سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں، اور ہمارے وقت کے نقادوں نے ان کی نظموں کو کافی پسند کیا ہے، میں بھی ان کی بعض نظموں کا اسیر رہا ہوں، پانی اور آنسو نے مجھے کئی دنوں تک مسحور رکھا ، میں نے یہ نظم خود ان کی زبانی سنا ، عالمی سہارا میں پڑھا، اس اثر آفرینی میں شاعر کے تخیلات اور انداز بیان کا بڑا دخل ہے، اس کا تجزیاتی مطالعہ پرت در پرت پانی کی حقیقت کو واشگاف کرتا ہے۔ گو ان کو پڑھتے وقت بار بار ان کی نظم ’’پانی‘‘ کا خیال آتا ہے اور تخیل میں تکرارکاا حساس باقی رہتا ہے۔
تیس اشعار کی یہ نظم دس بند پر مشتمل ہے۔شاعر نے اس نظم میں پانی کی اہمیت ، خصوصیت اور ضرورت پر شاعرانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے، پانی سے متعلق محاوروں کو پوری شاعرانہ چابک دستی اور فنی آگہی کے ساتھ نظم کیا ہے۔ اسے علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی زندگی پانی سے قرار دیا ہے ارشاد ربانی ہے: وَجَعَلْنَا مِنْ کُل شَیِٔ حَی (ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی) وجود حیات کے بعد پانی کی خصوصیات حسن نواب حسن نے یہ بیان کی ہے کہ وہ مخلوق کی جان بچانے ، پیاس بجھانے، آغوش میں نہلانے، شانوں پر ٹہلانے، ساحل پر پہونچانے ، صحرا کو گلستاں بنانے، تشنہ کا موں کی تسکین کا سامان کرنے، حالت نزع میں راحت پہونچانے کے کام آتا ہے، لیکن اسی پانی کا دوسراپہلو یہ ہے کہ یہی پانی ہستی کو مٹانے، پیاس بڑھانے ، چٹان سے ٹکرانے، فولاد کوکھانے ، غرقاب کرنے ، کھیتوں کو ویران کرنے ، حد سے زیادہ بڑھ کر قیامت برپا کرنے، جسم میں گھٹ کر قوت کو گھٹانے، پانی پھیر کر ساری محنت کوبیکار کرنے اور شر م سے پانی پانی کرنے کی قوت و طاقت بھی رکھتا ہے اپنی اسی قوت کے بل پر جب سیلاب کا پانی امڈتا ہے تویہی پانی آگ کا دریا ہوجاتا ہے ، اور یہ روانی بجلی کی طرح ہوجاتی ہے ، کہتے ہیں پانی میں کرنٹ ہے ، اس پانی نے فرعون اور ان کے حواریوں کو جہاں ایک طرف غرقاب کردیا وہیں دوسری طرف کشتی نوح کو جودی پہاڑ تک پہونچانے اور لشکر موسی کو دریائے نیل سے نجات دلانے میں اس کا رول تاریخی بھی ہے اور مذہبی بھی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کبھی مہر رب بن کرکھیتوں پر برستا ہے اور کبھی قہر بن کر ظالموں پر ٹوٹ پڑتا ہے کبھی ریگ زاروں کی تہہ سے نکل پڑتا ہے ، اور کبھی پہاڑوں کے سینہ کو چاک کرکے ابل جاتا ہے، شاعر کا خیال ہے کہ نسل ابراہیمی کو اسی پانی کی بدولت ہدایت جادوانی ملی اور آب زم زم کا وہ چشمہ رواں ہوا ، جس سے ساری دنیا آج تک سیراب ہورہی ہے اور تاقیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔
شاعر نے پانی کی متضادصفات وخصوصیات کواس خوبی سے شعر میں ڈھالا ہے کہ قاری، حسن نواب حسن کے بیان کا معترف ہوجاتا ہے۔ عربی میں کہاگیا ہے کہ ’’تعرف الاشیاء باضدادھا‘‘ چیزوں کی معرفت اصلا اس کے اضداد سے ہوتی ہے، شاعر نے اس فارمولے کو پوری نظم میں برتا ہے اس طرح پانی کی خوبی اور اس کے ذریعہ برپا ہونے والے قہر اور نقصانات تک ہماری رسائی بآسانی ہوجاتی ہے ، مختصر یہ کہ بقول شاعر ؎
کبھی امرت تو کبھی زہر یہی پانی ہے
کبھی رحمت تو کبھی قہر یہی پانی ہے
پانی کا ذکر کرتے کرتے شاعر کا ذہن ایک اور پانی کی طرف منتقل ہوتا ہے ؛ جس سے زیادہ قیمتی پانی رب کائنات کی نظر میں کوئی نہیں ہے اس لیے یہ پانی سارے پانی سے مہنگا ہوتا ہے یہ پانی آنکھوں کے پیمانے سے چھلکتا ہے اور جذبوں کے دریا کو اشکوں کے کوزے میں سمولیتا ہے اس قطرہ میں جو طوفان بلا خیز ہوتا ہے اس کا ادراک عقل محدود سے نہیں کیا جاسکتاہے ،اس لئیے اس کی تہہ تک رسائی کم یاب ہی نہیں نایاب بھی ہے۔حضرت یوسف کی جدائی میں گریۂ یعقوب،حضرت امام حسین ؓ کی شہادت پر شام غریباں میں جو آنسو بہے،اس کی تہہ درتہہ گہرائیوں تک ہماری اور آپ کی عقل نارساکا گذر نہیں ہوسکتا ،اس تک رسائی کے لئے ایسے غم والم سے دوچار ہونا ضروری ہے اورجو دوچارنہیں ہوا و ہ اس آنسو کی تشریح نہیں کرسکتا ، جذبات کی فراوانی الفاظ کی تنگ دامانی کے ساتھ رقم نہیں کی جاسکتی ہے؛ اس لئے حسن نواب حسن کا خیال ہے کہ وہاں تک رسائی کم یاب اور نایاب دونوں ہے ۔
قطرہ اشک میں طوفان بھی سیلاب بھی ہے
اس کی تہہ پانا تو کم یاب بھی نایاب بھی ہے
شاعر کا یہ اپنا خیال ہے ورنہ واقعہ یہ ہے کہ جو چیز نایاب ہے وہ موجود ہی نہیں ہوتی اس لیے دونوں کو ایک ساتھ جمع کرنا صحیح نہیں معلوم ہوتا، البتہ شاعر نے کہہ دیا ہے تو ہم اس کی توجیہ کر سکتے ہیں کہ بعض کے حق میں کم یاب اور بعض کے حق میں نایاب ہے، یہ ممکن ہے لیکن اس توجیہ کے لیے شعر کے الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔
پانی کا ذکر کرتے ہوئے معرکۂ کرب وبلا کی طرف بھی شاعر کا ذہن منتقل ہوتا ہے اوراسے یاد آتا ہے کہ اسی پانی کے لئے حضرت عباس کا بازوکٹا تھا اورا سی پانی کی طلب میں چھ ماہ کے معصوم اصغر کا گلا چھد گیا تھا اور مرتے دم تک شہیدوں کو پانی نہیں مل سکا تھا ، پانی خود اس واقعہ پر پانی پانی ہے ، اور اب بھی اسے شرمندگی کرب وبلا ہے ؎
اب بھی پانی کو ہے شرمندگی کرب وبلا
بازوئے شہہ کا اسی کے لئے بازو تھا کٹا
اسی پانی کے لئے بچے لگاتے تھے صدا
اسی پانی کے لئے چھد گیا اصغرکا گلا
ظالموں کے توہر ایک خیمے میں پہونچاپانی
مرتے دم بھی نہ شہیدوں کو ملاتھا پانی
یہ نظم یہاں پر جاکرختم ہوجاتی ہے، میرے پاس اس نظم کا جو نسخہ ہے اس کے نویں بند میں ایک مصرعہ ’’ بحر یوسف میں ںیہ یعقوب کی آنکھوں سے بہا ،، درج ہے ،یقینا یہ بحر، ہجر ہوگا جو کمپوزر اور پروف ریڈر کی غفلت کی نتیجے میں بحر ہوگیا ہے ۔ ایک اور مصرعہ میں بازو کی تکرار نے تعقید معنوی پیدا کردیا ہے اور مصرعہ ذرا ہلکا ہوگیا ہے ۔
بازوئے شہہ کا اسی کے لئے بازو تھا کٹا
بازوئے شہ، سے مراد حضرت عباس ؓ کی ذات گرامی ہے جو اپنی جوانی، اولوالعزمی، طاقت وتوانائی کی وجہ سے حضرت امام حسین ؓ کے دست و بازو تھے ، شاعر ان تمام صفات کے رقم کرنے لئے ایک لفظ ’’بازوئے شہہ‘‘ استعمال کرتا ہے ، یقینا وہ حضرت امام حسین ؓ کے دست راست اوراس میدان کرب وبلا میں شہ کے بازو تھے ، یقینی طور پر پہلے بازوئے شہہ سے حضرت عباس مراد ہیں اور شعر میں ان کے ہی بازو کٹنے کا تذکرہ ہے ، اگر یہ تکرار نہ ہو او ر حضرت عباس کے لئے پہلے بازوئے شہہ کی جگہ کوئی ، دوسرا لفظ ہوتا تو میرے نزدیک زیادہ بہتر ہوتا ، میرے نزدیک کا لفظ میں نے شعور ی طور پراستعمال کیا ہے؛ کیوں کہ ہر قاری کی اپنی حس ہوتی ہے جو پڑھتے وقت اس کے حسن و قبیح کا فیصلہ کرتی ہے، ممکن ہے نکتہ بعد الوقوع کی تفصیلات اس قبح کو حسن میںبدل دے ، سلطان اختر کے ان اشعار پر اس تحریر کو ختم کرتا ہوں کہ یہی مسک الختام ہے ؎
نظموں میںعیاں شعلہ بیانی اس کی
غزلوں میں منور ہے روانی اس کی
وہ کہتا ہے ارباب ادب سنتے ہیں
ہوتی ہی نہیں ختم کہانی اس کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔