نئے رزعی قانون سے باغبانون کی آمدنی میں ہوگا اضافہ

نئی دہلی ،2 جنوری  ہارٹیکلچرریسرچ سے وابستہ سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے زرعی اصلاحات قوانین کے متعارف ہونے سے باغبانی شعبے میں انقلاب آئے گا جس سے کسانوں کو ان کی پیداوار کواچھی قیمت مل سکے گی اور ان کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔
اس قانون میں کسانوں کے مکمل تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ یہ قانون کسانوں کی فصل ، منڈی ، فصل کی قیمت اور مارکیٹ ویلیو وغیرہ سے منسلک ہے ۔ ملک کے زرعی شعبے میں ہو رہی ترقی میں بھی باغبانی کا قابل ستائش کردار ہے ۔
جس طرح ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں زراعت کا تقریبا 17 فیصد حصہ ہے، اسی طرح باغبانی کا زراعت میں 30.4 فیصد کا تعاون ہے ۔ باغبانی کے ماتحت پھل، آلو سمیت سبزیاں ، مشروم ،کٹ فلاورسمیت سجاوٹی پودے، مصالحے ، فصلیں اور ادویات اور خوشبودار پودوں کا کئی ریاستوں کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ہے۔
انڈین کونسل برائے زرعی تحقیق – سینٹرل انسٹی ٹیوٹ فار سب ٹراپیکل ہارٹیکلچر کے ڈائریکٹر شیلندر راجن کے مطابق آم کی پیداوار 2.516 لاکھ ہیکٹر میں کی جاتی ہے ، جس سے 18.48 لاکھ ٹن آم پیدا ہوتا ہے۔ آم کی پیداوار کے شعبے میں پوری دنیا میں ہندوستان پہلے نمبر پر ہے ۔ یہاں پوری دنیا کی پیداوارکا 52 فیصد آم یہاں تیار ہوتا ہے۔(یواین آئی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔