علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریب سے مودی کا خطاب نئے ہندستان کی تعمیر میں حصّہ لینے کی للکار لیکن فرقہ پرست بی جے پی لیڈروں کا ذکر تک نہیں کیا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صد سالہ تقریبات میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شرکت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ سیاست سے قطع نظر کیا جاسکتا ہے لیکن ملک کی ترقی سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی کے ساتھ اُنہوں نے اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق کسی شخص کو مذہب کی بنیاد پر محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ اُنہوں نے کہا کہ آج ملک ایسی راہ پر گامزن ہے کہ دستوری حقوق کی روشنی میں محض مذہب کی وجہ سے کوئی پیچھے نہ رہ جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘‘ عہد کی یہی بنیاد ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مینی انڈیا کی نمائندگی کرتی ہے ۔ یہاں اردو بھی پڑھائی جاتی ہے اور ہندی بھی، عربی کی بھی تعلیم ہوتی ہے اور سنسکرت کی بھی ۔ یہاں کی لائبریری میں جہاں قرآنی نسخے موجود ہیں وہیں گیتا اور رامائن کے ترجمے بھی احتیاط سے رکھے گئے ہیں ۔ یہی تنّوع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ہندستان کی طاقت ہے ۔ مودی نے غریبوں کے لئے کی جانے والی کئی شروعات کا بھی ذکر کیا جس سے بلا امتیاز سبھی مستفید ہوئے ۔ اُنہوں نے اس موقع پر بانیَ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سرسید احمد خاں کا یہ قول پیش کیا کہ ہر شخص کو ملک کے بارے میں سوچنا چاہئے اور بلا امتیاز مذہب ہر شخص کی بھلائی کے لئے کام کرنا چاہئے ۔ مودی نے کہا کہ قوم کی ترقی کے لئے تمام اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیناچاہئے ۔ ہ میں ایک مشترکہ زمین پر کام کرنا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نئے ہندستان کی تعمیر کے لئے فلاح و بہبود کو سیاست کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہئے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بعض عناصر کے لئے یہ مسئلہ ہے لیکن اگر ہم سیاست سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہندستان کی بہتری کے لئے کام کریں تو ان لوگوں کو ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے ۔ سیاست سے تو صرفِ نظر کیاجاسکتا ہے لیکن ترقی سے نہیں ۔ مودی نے اپنی چالیس منٹ کی تقریر میں کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج ملک کو خود کفیل بنانا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلافات کا ہونا قدرتی امر ہے لیکن جب بات قومی مفاد کی ہو تو سارے اختلافات ختم ہوجانے چاہئیں ، اُنہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ ایک نئے ہندستان کی تعمیر میں اپنا حصّہ بٹائیں ۔ اس موقع پر مودی نے یاد کیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ لوگوں نے کس طرح نظریات سے بے نیاز ہوکر جنگِ آزادی میں حصّہ لیا تھا ۔ نئے ہندستان کی تعمیر کے لئے آج اسی جذبے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ نیا ہندستان ہر اعتبار سے خود کفیل اور خوشحال ہوگا اور تمام شہری اس سے مستفید ہوں گے ۔
وزیر اعظم نے بہرحال بعض زمینی حقائق سے چشم پوشی کی ۔ اُنہوں نے بی جے پی کے بعض لیڈروں کے کردار پر چُپّی سادھے رکھی جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر برابر حملے کرتے رہتے ہیں اور اسے قوم دشمن قرار دیتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے گزشتہ سال دسمبر میں علی گڑھ کے طلبہ پر پولس ظلم کا بھی حوالہ نہیں دیا جس نے یونیورسٹی کیمپس میں گھس کر حملہ کردیا تھا ۔ نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور طالبات کو پولس نے کیمپس اور لائبریری کے اندر مارا پیٹا تھا اور اشک آور گولے چھوڑنے کے علاوہ ربر بولٹ سے اُن پر فائرنگ بھی کی تھی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔