بی جے پی ممبر پارلیمنٹ سمترا خاں کی بیوی سجاتا ترنمول کانگریس میں سمترا سجاتا کو طلاق دینے کو تیّار

سیاست تلخ اور تُرش ہونے کے باوجود بہت دلچسپ بھی ہوتی ہے ۔ اس وقت جبکہ ترنمول کانگریس کے خیمے میں شوبھندو ادھیکاری سمیت ایک ممبر پارلیمنٹ اور کئی ایم ایل ایز کے پارٹی چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہونے پر بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے تو بشنو پور کے بی جے پی ایم پی سمترا خاں کی بیوی سجاتا منڈل خاں نے ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ اسے سمترا خاں اور بی جے پی کے لئے ایک بڑا جھٹکا قرار دیا جاسکتا ہے ۔ سمترا خاں نے فوراً ایک پریس کانفرنس بلائی اور یہ انکشاف کیا کہ وہ طلاق کی درخواست داخل کرنے والے ہیں ۔ واقعہ ہے کہ بنگال کی تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ پہلے دیکھنے میں نہیں آیا ۔ ٹی وی چینلس پر اس ڈرامائی واقعہ کی دھوم مچی رہی اور ایسا محسوس کیا جاتا رہا کہ آج بنگال کے ہر گھر میں پولرائزیشن کا عمل جاری ہے ۔ ٹی وی چینل پر سمترا اور سجاتا دونوں ہی کئی مرتبہ رو پڑے ۔
سجاتا اور سمترا دس سال تک ریلیشن شپ میں رہنے کے بعد بالآخر رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور اُن کی شادی پر پانچ سال کا عرصہ گزار چکا ہے ۔ سجاتا کو بی جے پی میں کوئی عہدہ نہیں ملا لیکن 2019 میں اس حالت میں کہ اُن کے شوہر ایک عدالتی حکم کے تحت بشنو پور میں داخل نہیں ہوسکتے تھے سجاتا نے اپنے شوہر کے حق میں انتخابی مہم چلائی اور سمترا کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ سوگت رائے اورکنال گھوش کے ہاتھوں ترنمول کانگریس کا جھنڈا تھامتے ہوئے سجاتانے کہا کہ ’’ میں آج ایک سیاسی فیصلہ کررہی ہوں ۔ اب میں سیاست پر لب کشائی کروں گی ۔ میں اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گی ۔ کون جانتا ہے کہ کسی دن سمترا ترنمول کانگریس میں آجائیں ۔ سجاتا کی ترنمول میں شمولیت کے چند منٹ بعد سمترا نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نجومیوں کے مشورہ پر سجاتا نے ترنمول میں شمولیت اختیار کی ہے اور اس کے سیاسی عزائم ہیں تاہم اسی کے ساتھ ساتھ سمترا نے سجاتا کا شکریہ ادا کیا کہ بشنو پور سے اُن کی جیت میں سجاتا کا بڑا حصّہ ہے ۔ پریس کانفرنس میں سمترا نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جس پارٹی سے میرا تعلق ہے (بی جے پی)، اُس میں خاندان کے لوگ سیاست میں نہیں اُترتے ۔ آج سجاتا نے جو حرکت کی ہے اُس سے ہر چیز کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ یہ کہہ کر وہ زارو قطار رونے لگے اور سجاتا سے درخواست کی کہ وہ اپنے نام کے آگے سے لفظ ’’خان‘‘ ہٹا دے ۔
سمترا خاں نے اب تک دو مرتبہ پارٹیاں بدلی ہیں ۔ پہلے وہ بانکوڑہ میں کوتل پور اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے ایم ایل اے تھے ۔ اس کے بعد وہ ترنمول کانگریس میں آگئے اور 2014 میں بشنو پور کی لوک سبھا سیٹ سے کامیاب ہوئے ۔ اس کے بعد 2019 میں لوک سبھا انتخابات سے پہلے وہ بی جے پی میں چلے گئے اور اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب رہے ۔ سجاتا نے کہا کہ بی جے پی میں اُن کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اُس سے وہ نالاں تھیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ شبھندو ادھیکاری کو اپنا لیڈر تسلیم نہیں کرسکتیں ۔ سجاتا نے کہا کہ جمہوریت میں کسی کو کسی بھی پارٹی میں شامل ہونے کی آزادی ہے ۔ اُنہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بی جے پی سمترا پر مجھے طلاق دینے کے لئے دباءو بنا رہی ہے ۔ ترنمول کانگریس جوائن کرنے کے بعد سجاتا نے کہا کہ اب میں آزادی سے سانس لے سکوں گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس وقت ’’سڑے ہوئے آلو‘‘ کو بھی چاند کا وعدہ کیا جارہا ہے جس سے مجھے نفرت ہو رہی ہے ۔ سجاتا کے ترنمول کانگریس میں آنے سے پارٹی کو تقویت ملے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔