نفاق اور منافقت کی نشانیاں اور علامتیں

مولانا ندیم احمد انصاری
نفاق و منافقت کے موضوع پر چند باتیں دو ہفتے پہلے ہم پیش کر چکے ہیں،اس مضمون کو اس کا تتمہ سمجھنا چاہیے۔نفاق کی تعریف و اقسام وغیرہ کا ذکر سابقہ مضمون میں کیا جا چکا تھا، اس وقت اس کی بعض علامتوں کا ذکر کرنا مقصود ہے۔لیکن بہ قول حضرت مولانا سید فخر الدین احمد رحمۃ اللہ علیہ حدیث شریف میں ان چیزوں کو صرف علامت قرار دیا گیا ہے، علت نہیں فرمایا گیا، جس سے معلول کا تخلف نہیں ہوتا، اس بنا پر بعض حضرات کا یہ اشکال کہ ایسے انسان کو منافق کہا جائے! درست نہیں ہے، کیوں کہ یہاں صرف علامت فرمایا ہے، اور ضروری نہیں کہ جہاں علامت موجود ہو، وہاں اصل شے بھی پائی جائے؛ بلکہ علامتیں مشترک بھی ہوتی ہیں۔ نبض کی سرعت بخار کی علامت ہے، مگر کبھی قوتِ نفس کی بنا پر بھی ایسا ہو جاتا ہے۔اسی طرح یہاں ان چیزوں کو نفاق کی علامت بتلایا گیا ہے یعنی ان سے نفاق کا اشتباہ ہوتا ہے۔ وحی کا سلسلہ بند ہو جانے کے بعد اب کسی کا نام لے کر اسے منافق نہیں کہا جا سکتا، ہاں رسول اللہ ﷺ نے جو نشانیاں بتائی ہیں، ان سے بچنے کا اہتمام ضرور کیا جانا چاہیے،کیوں کہ بہ قول حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ؛ نفاق تو حضرت نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بھی تھا، اور آج بھی ہے، نفاق گویا ایمان لانے کے بعد کفر کرنا ہے۔ (بخاری )
نفاق اسی کو کہتے ہیں
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مفاد کے لیے حاکموں سے ایسی بات کرتے ہیں، جو اُنھیں پسند ہو، اور جدا ہوتے ہی ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں، جو بالکل مخالف ہوتی ہیں، لوگوں نے اس کا نام مصلحت رکھ لیا ہے۔ بعض لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا تھا کہ ہم اپنے حاکموں کے پاس جاتے ہیں اور ان کے حق میں وہ باتیں کہتے ہیں کہ باہر آنے کے بعد اس کے خلاف کہتے ہیں، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا: ہم اسے نفاق کہتے تھے۔ (بخاری)
نماز میں سُستی
نماز میں سُسی کرنا نفاق کی علامت بتایا گیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:(مفہوم)یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکے بازی کرتے ہیں، حالاں کہ اللہ نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے،اور جب یہ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کے سامنے دکھا وا کرتے ہیں، اور اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرتے ہیں۔ (سورۂ نساء) علاء بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ وہ بصرے میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گئے، جب کہ وہ ظہر کی نماز پڑھ چکے تھے اور ان کا گھر مسجد کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ حضرت انس نے فرمایا: اٹھو اور عصر کی نماز پڑھو! علاء بن عبدالرحمن کہتے ہیں ہم کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز ادا کی۔ جب ہم فارغ ہوئے تو حضرت انس نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ منافق کی نماز ہے کہ سورج کو بیٹھا دیکھتا رہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوجائے تو اٹھے اور چار چونچیں مارلے اور اللہ کا ذکر بہت کم کرے۔(ترمذی)
جماعت میں سُستی
بعض لوگ نماز تو پڑھتے ہیں لیکن بلا شرعی عذر جماعت ترک کر دیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:پانچوں نمازوں کی پابندی کرو، جب ان کے لیے بلایا جائے (یعنی اذان دی جائے)، کیوں کہ یہ سننِ ہدیٰ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان نمازوں کو اپنے نبی ﷺ کے لیے سننِ ہدیٰ بنایا ہے اور ہم نے دیکھا کہ جماعت کی نماز میں صرف وہی لوگ نہ آتے تھے، جن کا نفاق کھلا ہوا تھا، اور ہم دیکھتے تھے کہ کسی کو تو دو دو آدمی سہارا دے کر لاتے تھے اور اس کو صف میں کھڑا کردیتے تھے، تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے گھر میں نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہو، لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو گے اور مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم گویا اپنے نبی کے طریقے کو چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کے طریقے کو چھوڑ دوگے،تو تم نے گویا کافروں جیسا کام کیا۔ (ابوداود)
فجر و عشاء کا بھاری ہونا
بعض لوگ بقیہ نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن فجر و عشاء ان پر گراں گزرتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ گراں منافقوں پر کوئی نماز نہیں، لیکن اگر ان کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں کو وقت پر پڑھنے میں کیا ثواب ہے، تو وہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ انھیں گھٹنوں کے بَل چل کر آنا پڑے۔ میں نے یہ پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ مؤذن کو اذان دینے کا حکم دوں، پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے اور میں آگ کے شعلے لے لوں اور جو لوگ اب تک گھر سے نماز کے لیے نہ نکلے ہوں، اُن کے گھروں کو اُن کے ساتھ جلا دوں، لیکن اُن کے اہل و عیال کا خیال آنے سے یہ ارادہ ترک کردیا۔(بخاری)حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں ایک دن فجر کی نماز پڑھائی اور فرمایا: فلاں شخص حاضر ہے ؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے پوچھا : فلاں شخص موجود ہے ؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: یہ دو نمازیں (عشاء اور فجر) منافقوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں، اگر تم جان لیتے کہ ان دو نمازوں کا کتنا ثواب ہے، تو گھٹنوں کے بل چل کر آتے، اور صفِ اول (ثواب کے اعتبار سے) فرشتوں کی صف کی طرح ہے،اگر تم جان لیتے کہ اس کی فضیلت کیاہے؟ تو یقیناً تم اس کی طرف سبقت کرتے۔ اور دو آدمیوں کا مل کر نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے،اور تین آدمیوں کا مل کر نماز پڑھنا دو آدمیوں کے مل کر نماز پڑھنے سے افضل ہے، اور نماز میں جس قدر بھی لوگ (زیادہ) ہوں گے، اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہوگی۔(ابوداود )
دل میں جہاد کا جذبہ نہ ہونا
مومن کے لیے سب سے بڑا مقام یہ ہے کہ اس کی جان اور مال سب اللہ تعالیٰ کے لیے نچھاور ہو جائے، اس لیے ہر ایمان والے کے دل میں جذبۂ جہاد کا موجزن ہونا ایمان کی علامت قرار دیا گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: جو اس حال میں مرا کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ ہی اس کے دل میں جذبۂ جہاد پیدا ہوا، تو گویا وہ ایک طرح کے نفاق سے مرا۔(ابوداود )
فحش گوئی اور زیادہ باتیں کرنا
آج کل باتیں بنانے کو فن تصور کیا جاتا ہے، زیادہ بولنے کا ایسا رواج ہو چلاہے کہ صحیح غلط، جائز ناجائز کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا، اور کسی کی تعریف کرتے ہیں تو خوشامد کیے بغیر نہیں رہتے۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا: حیا اور کم گوئی ایمان کے دو شعبے ہیں، فحش گوئی اور زیادہ باتیں کرنا نفاق کے شعبے ہیں۔ الْعِيُّ قلت کلام، الْبَذَائُ  فحش گوئی اور الْبَيَانُ سے مراد کثرتِ کلام ہے۔ جس طرح ان خطیبوں کی عادت ہوتی ہے کہ خطبہ دیتے وقت بات کو بڑھا دیتے ہیں اور لوگوں کی ایسی تعریف کرتے ہیں، جس پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ ‏‏(ترمذی )
لباس کو ٹخنوں کے نیچے تک لٹکانا
مومن مَرد کے لیے لباس کو ٹخنوں کے نیچے نہ لٹکانے کی بھی بہت تاکید آئی ہے، لیکن فیشن میں یا جانے ان جانے میں اس طرف خاص دھیان نہیں دیا جاتا۔ عورتوں میں چھوٹےاور مَردوں میں لمبے کپڑے پہننے کا عام رواج ہے، اسے بھی ایک روایت میں منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے؛ منافق کی علامت شلوار کو لمبا کرنا ہے، جس نے اپنی شلوار لمبی کی- یہاں تک کہ اس کے دونوں قدموں کے نیچے تک پہنچ گئی، اس نے اللہ ورسول کی نافرمانی کی، اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ (کنزالعمال)
منافق کی تین/ چار نشانیاں
گفتگو کرتے ہوئے جھوٹ بولنا، امانت میںخیانت کرنا، وعدہ کرنے کے بعد اس کی پروا نہ کرنا اور بحث و مباحثے میں پھوہڑپن اور بے ہودگی کا مظاہرہ کرنا بھی ہمارے معاشرے کا عام دستور ہو چکا ہے۔حدیث شریف میں ان تمام امور کو نفاق کی علامت بتایا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں؛جب بولے تو جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور جب امانت سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔(بخاری) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا: چار باتیں جس کسی میں ہوں گی وہ خالص منافق ہے، اور جس میں ان چار میں سے ایک بات ہو، اس میں ایک بات نفاق کی ہے، یہاں تک کہ اس کو چھوڑ نہ دے (وہ یہ ہیں)؛ جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اُسے پورا نہ کرے اور جب لڑے تو بےہودگی کرے۔ (بخاری )
اللہ تعالیٰ ہم سب کی نفاق اور علاماتِ نفاق سے مکمل حفاظت اوراپنے مخلص بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین
(مضمون نگار الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا کے ڈیرکٹر اور محقق ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔