نندی گرام سے اسمبلی انتخاب لڑنے کا ممتا کا فیصلہ یہیں سے انہوں نے بایاں محاذ کو اکھاڑ پھینکا تھا

یہ حسن اتفاق ہے کہ سوموار کو ترنمول سپریمو ممتا بنرجی اور اب ان کے کٹر مخالف شوبھندو ادھیکاری ایک دوسرے کی چراگاہ میں ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے ۔ اس دن ممتا بنرجی نندی گرام کی ترنمول ریلی میں شوبھندوادھیکاری کو چیلنج کررہی تھیں تو شوبھندو بھوانی پور میں ایک احتجاجی ریلی میں شریک تھے ۔ نندی گرام ریلی میں ممتا نے اعلان کیا کہ اگلے اسمبلی انتخابات میں وہ بھوانی پور کے علاوہ نندی گرام حلقہ سے بھی انتخاب لڑیں گی ۔ ان کی نظر میں نندی گرام چھوٹی بہن ہے جب کہ بھوانی پور بڑی بہن ہے ۔ ممتا کے اس فیصلے سے ظاہر ہے کہ وہ ان علاقوں میں دشمن کا پنجہ مروڑنے کیلئے پر عزم ہیں جہاں سے بغاوت کے سوتے پھوٹے ہیں ۔ گزشتہ مہینے شوبھندو کے بی جے پی خیمے میں داخل ہونے کے بعد انتخابات سے قبل ممتا کی نندی گرام میں یہ پہلی ریلی تھی ۔ ممتا نے اپنی تقریر میں کہا کہ نندی گرام سے ان کا پرانا رشتہ ہے ۔ یہی وہ سر زمین ہے جہاں 2011 میں انہوں نے بایاں محاذ کی حکومت کو چیلنج کیا تھا جو بالآخر محاذ کی شکست کا موجب بنا ۔ اس موقع پر انہوں نے نندی گرام کے ان 14شہیدوں کو بھی یاد کیا جو 2007کی نندی گرام پولس فائرنگ میں مارے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ نندی گرام ان کیلئے خوش قسمت ترین جگہ ہے جہاں سے 2016 میں انہوں نے اپنی انتخابی مہم شروع کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بھی وہ نندی گرام ہی سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گی ۔ انہوں نے ترنمول صدر سبرتا بخشی سے اپیل کی کہ وہ انہیں نندی گرام سے امید واربنائیں ۔
شوبھندو ادھیکاری اور ان کے حامیوں کا نام لئے بغیر ممتا بنرجی نے کہا کہ جو لوگ ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شرکت کررہے ہےں انہیں بھاری رقم دے کر خریدا گیا ہے ۔ اپنی دولت چھپانے کیلئے انہیں پناہ گاہ کی ضرورت ہے اور بی جے پی انہیں پناہ دے رہی ہے ۔ ممتا نے کہا کہ بی جے پی ایک واشنگ مشین ہے جس میں دھل کر سیاہ رقم سفید ہوجاتی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ جب تک زندہ ہیں بنگال کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتیں ۔ ممتا نے یہ بھی کہا کہ اس وقت جو لوگ پارٹی چھوڑکر جارہے ہیں وہ پارٹی کی پیدائش کے وقت موجود نہیں تھے ۔ زرعی قوانین کی منسوخی کیلئے اس وقت کسانوں نے جو تحریک چلا رکھی ہے اس کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی نندی گرام کی تحریک بھی کسانوں کے خلاف چلائی گئی مہم کی مخالفت میں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرمرکز نے قوانین واپس نہیں لئے تووہ کسانوں کے حق میں نندی گرام سے اپنی تحریک کا آغاز کریں گی ۔
اس موقع پر ممتا بنرجی نے نندی گرام اور ہلدیا میں ترقیاتی کاموں کی بھی خوشخبری سنائی ۔ انہوں نے کہا کہ تاجپور میں گہری سمندری بندر گاہ بنائی جارہی ہے جس سے نندی گرام اور ہلدیا کے رہنے والوں کو روز گارملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ شمالی 24پرگنہ کے اشوک نگر میں تیل صاف کرنے کے کارخانے لگائے جارہے ہیں جس سے بھی نندی گرام اور ہلدیا کے لوگوں کو روز گار ملے گا ۔ علاوہ ازیں نندی گرام اور پٹاس پور میں پندرہ ہزار کروڑ روپئے کے صرفہ سے ایک واٹر پروجیکٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے جس سے بارہ لاکھ خاندان استفادہ کر سکیں گے ۔ نندی گرام اسمبلی حلقہ میں اقلیتی فرقے کا غلبہ ہے اور ممتا کی ریلی میں جس جوش و خروش کے ساتھ مسلمانوں نے شرکت کی اس سے صاف ظاہر ہے کہ ممتا اس حلقہ سے ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کریں گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔