اترپردیش میں خواتین کی زندگی غیر محفوظ

بدایوں کے اگھیتی پولیس اسٹیشن حدود میں اتوار کی شام کو پچاس سال کی ایک خاتون گاؤں کے مندر میں پوجا کرنے گئی اور جب کافی دیر تک واپس نہیں لوٹی تو گھر کے افراد پریشان ہوگئے ۔ بعد میں رات ساڑھے گیارہ بجے مندر کا پجاری دیگر دو افراد کے ساتھ شدید طور پر زخمی اس خاتون کو گھر کے پاس پھینک کر فرار ہوگیا ۔
اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا اور آخر اس کی موت ہوگئی ۔ صرف اتنے پر ہی پولیس کو فوری متحرک ہوکر کیس کی تحقیقات کرنی چاہیے تھی، لیکن لاپرواہی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رات میں ہی رشتہ داروں کی شکایت کے بعد بھی پولیس اگلے دن پہنچی اور پہلے رپورٹ درج نہیں کی ۔ حالانکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی خاتون کی اجتماعی عصمت ریزی اور وحشیانہ طریقے سے اس کے قتل کے ابتدائی الزامات کی تصدیق ہوئی ۔ رپورٹ کے مطابق اس کے نازک اعضاء بری طرح زخمی تھے، لوہے کی سلاخ سے گہرا زخم لگا یا گیا تھا اور اس کا ایک پیر توڑ دیا گیا تھا ۔
ظاہر ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کے لئے غیر سہولت بخش تھی لہٰذا اس کے بعد محض چہرہ بچانے کے لئے ایف آئی آر درج کی گئی اور چہار شنبہ کو دو ملزمین کو گرفتار کیا گیا ۔ جبکہ اصل ملزم مندر کا پجاری فرار ہوگیا اور ویڈیو بنا کر سب کو گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔
سوال ہے جب متاثرہ خاتون کی حالت اور پھر موت کے بعد بادی النظر میں ہی واردات کی تصویر صاف لگ رہی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا تب پولیس نے آخر کن وجوہات سے اصل ملزم کی بات کو درست مان کر چلتی رہی اور معاملے کو حادثہ کی شکل دینے کی کوشش کرتی رہی ۔ جب پوسٹ مارٹم میں عصمت ریزی اور اس کے بعد حیوانیت کے حقائق سامنے آئے اور معاملے نے طول پکڑ لیا تب جا کر متعلقہ پولیس ملازمین اور پولیس اسٹیشن انچارج کو معطل کرنے کی بات کہی گئی ۔
لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پولیس کے اس طرح کے رویہ کی وجہ سے ہی ایسے واقعات کی زمین بنتی ہے اور مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد سنگین جرم کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے;238;
یہ کوئی واحد معاملہ نہیں ہے جس میں پولیس نے لاپرواہی دکھائی یا پھر فوری سرگرم ہوکر معاملے میں ضروری کارروائی کرنے کے بجائے ملزمین کے گمراہ کن بیانات کو ہی تحقیقات کی بنیاد مانتی رہی ۔ کچھ عرصہ قبل ہاتھرس کیس میں بھی حکومت اور پولیس محکمہ کا جو رویہ سامنے آیا تھا، وہ ملزمین کے بجائے اجتماعی عصمت ریزی و وحشیانہ قتل کی شکار لڑکی اور اس کے خاندان کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر رہا تھا ۔
جبکہ بعد ازاں سی بی آئی نے تحقیقات کے بعد متاثرہ فریق کے الزامات کو درست تسلیم کیا ۔ پولیس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے مجرمین کے بڑھتے حوصلے ایسی ریاست کی تصویر بنتے جارہے ہیں جسے جرائم سے پاک کرنے کا دعویٰ بڑھ چڑھ کر کیا جاتا ہے ۔
خواتین کی حفاظت اور احترام کی دہائی دے کر کئی قواعد و قوانین نافذ کئے جارہے ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہےکہ دن بہ دن اترپردیش میں خواتین کی زندگی غیر محفوظ اور مشکل ہوتی جارہی ہے ۔ سماجی سطح پر حالت یہ ہوچکی ہے کہ مندر جیسی جس جگہ کو خاتون نے سب سے محفوظ جگہ مانا ہوگا، وہاں بھی اس کے خلاف ایسا سنگین جرم ہوا کہ اس سے جینے کا حق چھین لیا گیا ۔ اترپردیش میں سب کچھ ٹھیک کرنے کے یقین دہانی اور دعوے کا کیا یہی مطلب ہوتا ہے;238;

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔