کورونا وائرس کےخلاف ٹےکہ کاری مہم کی کامیاب پیش رفت لوگوں کے خدشات دور ہورہے ہیں

کورونا وائرس کے خلاف دنیا بھر میں ٹیکہ کاری کی سب سے بڑی مہم ہندستان میں شروع ہوچکی ہے ۔ ٹیکہ کاری مہم کے پہلے دو دنوں کے اندر مقررہ ہدف 316375کا تقریباً64فیصد حاصل ہوسکا ۔ بنگال میں ٹیکہ کاری مہم 75;46;9فی صد کی حد تک کامیاب رہی جو دوسری ریاستوں کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے ۔ تمل ناڈو، پنجاب، تری پورہ اور پانڈیچری میں صرف 22فیصد لوگوں نے ٹیکے لگوائے جب کہ دیگر ریاستوں میں یہ نشانہ 50فیصد سے زیادہ رہا ۔ آسام،دہلی اور جموں کشمیر میں 54فیصد لوگوں نے ٹیکے لگوائے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکہ لگوانے کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھے گی جیسا کہ کسی بھی بڑے پیمانے کی عوامی صحت مہم میں دیکھا جاتا ہے ۔ مرکزی وزارت صحت کے مطابق مہم کے پہلے دو دنوں میں 224301 افراد نے ٹےکے لگوائے جو 71فیصد کے مساوی ہے ۔ ایڈیشنل ہیلتھ سکریٹری منوہر اگنانی نے کہاکہ ایک دن میں ہندستان میں امریکہ ،برطانیہ اور فرانس سے بھی زیادہ لوگوں نے ٹےکے لگوائے ۔ میدانتا لیور انسٹی ٹےوٹ کے چیئر مین ڈاکٹر اے کے سونی نے کہا کہ ٹےکہ لگوانے کے معاملے میں ابھی بھی بہت سے لوگوں میں ہچکچاہٹ اور خوف ہے ۔ دوسرے اس معاملے میں کچھ عملی دشواریاں بھی ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ ٹےکہ لگانے کیلئے تےار نہیں تھے اور انہیں کچھ شکوک و شبہات بھی تھے لیکن وقت کے ساتھ اعتماد بڑھتا جائے گا اور لوگ بڑی تعداد میں ٹےکہ لگوانے کیلئے سامنے آئیں گے ۔ اس کیلئے مثبت مواصلات اور ہیلتھ ورکروں کا خوشی خوشی ٹےکے لگوانا ضروری ہے ۔ ملک کی چھوٹی ریاستوں جیسے انڈمان و نکوبار جزائر اور اروناچل پردیش میں 90فیصد لوگوں نے ٹےکے لگوائے جب کہ تلنگانہ ، سکم، لداخ، اڑیسہ، لکشدیپ اورہریانہ میں یہ تعداد 80 فیصدی رہی ۔ اتر پردیش میں سب سے زیادہ لوگوں کو22644) ( ٹیکے لگائے گئے ۔ اس کے بعد مہاراشٹر،آندھرا پردیش اور بہار کی باری آئی ۔ وزارت صحت کے مطابق اتوار کو آندھرا پردیش اور اروناچل پردیش، کرناٹک، کیرل ، منی پور اور تمل ناڈو میں 553 مقامات پر 17072افراد کو ٹےکے لگائے گئے ۔ مرکز کی طرف سے ریاستوں کو کہا گیا ہے کہ ہفتے میں چار دن ٹیکہ کاری کا اہتمام کریں تاکہ معمول کی ہیلتھ سروس میں رخنہ نہ پڑے ۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ پہلے تےن کروڑ ہیلتھ اور فرنٹ لائن ورکروں کو ٹےکے لگائے جائیں ۔ اس کے بعد ترجیحی بنیاد پر 27کروڑ افراد کو فائدہ پہنچایا جائے ۔ مغربی بنگال میں کوشش ہوگی کہ اس ہفتہ ایک لاکھ ہیلتھ اور فرنٹ لائن ورکروں کو ٹےکے لگائے جائیں ۔ کووڈ شیلڈ کی دوسری کھیپ اس ہفتہ بنگال پہنچ رہی ہے ۔ اتوار کو ریاستی حکومت نے تمام202 ویکسی نیشن مراکز سے کہا ہے کہ وہ 100کی بجائے 120افراد کو ٹےکہ لگانے کا ہدف مقرر کریں ۔ سنیچر کے دن جن افراد کو ٹےکے لگائے گئے تھے ان میں سے بیشتر نے کہا کہ اتوار کی شام تک ان پر کوئی مضر اثر نہیں پڑا اور وہ سوموار سے حسب معمول اپنے کام پر جائیں گے ۔ انہوں نے چار ہفتے کے بعد دوسری خوراک بھی لینے کی خواہش ظاہر کی ۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے بدن میں درد،ہلکا بخار یا انجکشن لگائے جانے والے مقام پر ورم آنے کے سائیڈ ایفکٹ کی شکایت کی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا عام طور سے ہوتا ہے جس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
ملک بھر میں ٹیکہ لگانے کے پانچ ہزار مقامات پر ہر روز 100 لوگوں کو ٹےکے لگائے جارہے ہیں گویا ہر روز 5لاکھ افراد اس سے مستفید ہورہے ہیں ۔ دہلی میں ہر روز ایک لاکھ افراد کو ٹےکے لگائے جائیں گے ۔ بڑے پیمانے پر ٹےکہ کاری مہم کا ایک نفسیاتی فائدہ یہ ہوگا کہ زندگی معمول پر آجائے گی اور کارو باری مشغولیتیں بڑھ جائیں گی جس کے نتیجے میں 54فیصدی قومی پیداوار کا نشانہ پانا ممکن ہو سکے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔