مذہب کی آڑ میں سیاسی فائدہ کیلئے بی جے پی نے رام مندر کے نام پر چندہ جمع کرنا شروع کردیا

رام مندر کی تعمیر کو سیاسی مقصد سے بھنانے کی غرض سے بی جے پی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اس کی شروعات ایل کے اڈوانی کی سومناتھ یاترا سے ہوئی تھی ۔ اڈوانی کا رتھ سارے ملک میں پھرتارہا اور اس کے نتیجے میں بی جے پی کو ریکارڈ کامیابی نصیب ہوئی ۔ سپریم کورٹ سے رام مندر کی تعمیر کی اجازت ملنے کے بعد کہا جارہا تھا کہ اب یہ مسئلہ کوتاہ ہوگیا ہے اور اس کی افادیت باقی نہیں رہی لیکن بی جے پی کے زر خیز اور فتوری دماغ نے اسے ابھی بھی زندہ رکھا ہے ۔ مذہب کی آڑ میں سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے سنگھ پریوار نے رام مندر کی تعمیر کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم شروع کی ہے ۔ اس کا آغاز مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی سے ہوا جب وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کے حامیوں نے ایک مندر کے سامنے جمع ہوکر چندہ مانگنا شروع کیا ۔ رام مندر کے نام پر چندہ جمع کرنے کا اصل مقصد بنگال میں اپنی سیاسی مقبولیت کا جائزہ لینا ہے ۔ اسی غرض سے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے عین پہلے پارٹی نے یہ مہم شروع کی ہے ۔ یوں تو شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے پر چم تلے چندہ کی مہم ملک گیر پیمانہ پر شروع کی جارہی ہے لیکن پریوار کے لوگوں نے صاف طور سے کہا کہ مغربی بنگال میں اسے سیاسی حربہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا ۔ جلپائی گوڑی میں وشو ہندو پریشد کے ضلع ترجمان کرشنندو گوہا نے کہا کہ جیسے جیسے انتخابات کے دن قریب آتے جارہے ہیں ہم ریاست کے تمام چندہ دہندگان کے حوالے سے بنیادی تفصیلات مرتب کریں گے ۔ جمعہ کو وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کے رضاکاروں نے چندہ جمع کرنے والوں کو10 100, اور 1000 روپئے کی چھپی ہوئی رسیدیں تھمائیں اور انہیں ہدایت دی کہ وہ گاءوں اور میونسپل وارڈوں سے اپنی مہم شروع کریں ۔ اس دوران وہ چندہ دینے والوں سے ساری تفصیلات اکٹھا کریں گے ۔ وشو ہندو پریشد اور بی جے پی کے ذراءع نے بتاےا کہ چندے کی یہ مہم 28فروری تک جاری رہے گی جس کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا جاسکے گا کہ ریاست میں بی جے پی کی جڑیں کتنی مضبوط ہیں ۔ بی جے پی سمجھتی ہے کہ رام مندر کے نام پر جو چندہ دے گا وہ لا محالہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دے گا ۔ ووٹروں اور ان کے خاندانوں کے تعلق سے تفصیلات جمع کرنے کے بعد پارٹی ان سے تعلق پیدا کرے گی اور انہیں بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کیلئے ترغیب دے گی ۔
سپریم کورٹ نے نومبر2019 میں اپنا فیصلہ سنایا تھا کہ اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی جائے ۔ اس سلسلے میں عدالت نے مندر کی تعمیر کیلئے ایک ٹرسٹ بنانے کا حکم دیا تھا ۔ اس کے بعد ہی مندر کی تعمیر کیلئے سنگھ پریوار نے 1100کروڑ روپئے جمع کرنے کیلئے رقم اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ جمعہ کے دن یہ ظاہر ہوگیا کہ چندہ کی آڑ میں بی جے پی انتخابات جیتنے کی کوشش کرے گی ۔ واضح ہوکہ ملک کے اول شہری صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے رام مندر کے ٹرسٹ کو 500100روپئے کا عطیہ دیا جب کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے ایک لاکھ روپئے کا چندہ دیا ۔
رام مندر کے نام پر چندہ جمع کرنے کا مقصد سیاسی غرض سے مذہب کا استعمال ہے لیکن یہ حکمت عملی کام نہیں کرے گی کیوں کہ بنگال کے لوگ طبعاً سیکولر واقع ہوئے ہیں اور وہ فرقہ پرستوں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ۔ وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی کی سر براہی میں مغربی بنگال میں نہ صرف یہ کہ فرقہ وارانہ امن و آہنگی قائم ہے بلکہ ریاست ہر اعتبار سے ترقی کررہی ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کی دال نہیں گلے گی اور اسے انتخابات میں منہ کی کھانا پڑے گی ۔ اللہ مغربی بنگال کوہر طرح کی نظر بد سے بچائے اور یہاں امن و امان بر قرار رہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔