سال 2020 کی ہنگامہ آرائیاں اور حوصلہ خیز کار گزاریاں ۔۔۔

عمیر محمد خان
ریسرچ سکالر
رابط: 9970306300

سال2020 ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ تروتازہ رہے گا۔اس سال دلدوز واقعات رونما ہوئے اور ساتھ ہی خوش آئنداور اختراعی کام عمل میں آئے۔خوف و ہراس ،دہشت و تشویش, اضطراب وبے بسی میں ڈوبا یہ سال بہت کچھ ہماری جھولی میں ڈال گیا اور بہت کچھ ہم سے چھین کر لے گیا۔
سال کے ابتدائی ایام میں دنیا کو وبائی مرض نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔کورونا،کوڈ 19 سے پورا عالم بدحواسی،تشویش،خوف اور ہیجان کا شکار ہو ا۔انسان انسان کے خوف میں مبتلا ہوا۔دوریاں بڑھتی گئیں لوگ گھروں میں سمٹ گئے۔گھر میں محصور ہو گئے ۔سڑکیں، عبادت گاہیں، تعلیمی مراکز ، میدان، تفریح گاہیں، دفاتر، صنعتی مراکز سب ویران و سنسان ہوگئے۔گھروں میں محصور بندی اور عالم ہو کا عجیب منظر دنیا نے دیکھا۔لوگ محصور مسکن و ماوی کر دیئے گئے ۔اپنے پرائے ہوگئے،پڑوسی اجنبی بن گئے،آشنا ناآشنا ہوگئے،
دنیا تھم سی گئی،پورا عالم تعطل کا شکار ہو گیا۔کاروبار ماند پڑگئے۔کئ افراد نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔غریب تنگ دامانی کا شکار ہو گئے ،امیر اشیاء کی قلت میں مبتلاء ہوگئے۔معاشی بدحالی سے دنیا نے مقابلہ کیا۔دوست احباب کی محفلیں بے رونق ہوگئیں۔شادی بیاہ کی تقریبات ماند پڑ گئیں۔مجالس و تقریبات کا ماحول سرد پڑ گیا۔بے شمار عزیز واقارب بچھڑگئے۔کئ افراد داغ مفارقت دے گئے ۔چاہنے والے ہم سے جدا ہوگئے۔جوان بوڑھے ہوگئے اور بچے بد حواس ہوگئے۔
تمام ناگفتہ حالات کے باوجود اس سال کچھ مثبت رخ سے ہم نے زندگی کو ڈھالا۔سن2020 نے ہمیں جینےکا نیا ڈھنگ سکھایا۔ ہم نے سنگین حالات سے نبرد آزمائی کا فن جانا۔نت نئے طریقوں کو حیاتِ کی جملہ میدانوں میں استعمال کیا۔انسانوں کی فنی خوبیاں اجاگر ہوئیں۔تخلیقی صلاحیتوں نے اپنے رنگ دکھائے۔تعلیم و تعلم کے نئے طریقے دریافت ہوئے۔تعلیم و تعلم کے وسائل میں اضافہ ہوا ۔جدت و ندرت سے تعلیم وتعلم کی راہ ہموار ہوئی۔مسکن آباد ہوئے گھر کی رونقیں بحال ہوئیں۔ دل کی قربتیں بڑھیں۔رشتوں کی اہمیت اجاگر ہوئی۔امداد باہمی کا جذبہ پھر سے زندہ ہوا۔ایک ساتھ مل بیٹھ کر کھانے، ہنسنے ،بولنے، گفت و شنید کی طرب انگیز یاں پروان چڑھیں۔ زندگی کے شعبہ جات میں نئے زاویوں سے کام ترقی کی طرف گامزن ہوا ۔

کورونا کی وبا سے ایک اندازے کے مطابق پورے عالم میں 16 لاکھ اموات ہوئی ہیں۔جو اب تک ہونے والے بد ترین اموات کے اعداد و شمار سے زیادہ نہیں ہے۔ضرور سال2020 ہمارے لئے پرآشوب سال رہا ہو۔مگر اس عالم نے اس سے بھی مزید تاریک ، نا شگفتہ اور ناگفتہ حالات کودیکھا ہے۔سن 1346، عالم ارضی نے بلیک ڈیتھ،بیو بونک طاعون کا سامنا کیا تھا۔ایک ایسی وبا تھی جس کی لپیٹ میں صرف یورپ کے دو کروڑ پانچ لاکھ عوام آئے تھے اور لقمہ اجل بن گئے۔پورے عالم میں اموات کی شرح 20 کروڑ تک پہنچ چکی تھی۔فرانس فلو ،چیچک،ایڈز جیسی وباؤں اور بیماریوں سے بھی دنیا نے مقابلہ کیا۔ ان امراض سے بے شمار لوگ ہلاک ہوئے۔ سن 536 میں تاریخ دان مائیکل میکورمک کے مطابق یورپ ،مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے ممالک کے لوگ 18 ماہ تک آسمان کی طرف دیکھنے کے قابل بھی نہیں تھے ۔ایک پراسرار دھند آسمان پر 18 ماہ تک چھائی رہی۔ فصلوں کا بھاری نقصان ہوا،اس سے لوگ غربت شکار ہوئے ہوئے اور طویل سرد ایام سے لوگوں کو گزرنا پڑا۔
یہ سالNRC,CAA کے لئے بھی یاد رکھا جائے گا۔ ہر مذہب و نسل کی عوام نے ملک گیر تحریکات برپا کرکے اس کا احتجاج کیا۔مزدوروں کی استقامت کے لئے بھی یہ سال یاد رہے گا۔یہ سال طلبہ کے ہمت واستقلال کے لئے بھی یاد رکھا جائے گا۔مسلمانوں پر کئے گئے جسمانی، ،روحانی جذباتی، عدلیاتی،فوجداری مظالم کو بھی ہم بھول نہیں پائیں گے۔حزن المسلمین کا یہ سال ہمارے اذہان پر نقش رہے گا۔عالمی سطح پر آسڑیلیا کے جنگلات میں لگی آگ بھی قابلِ ذکر ہے۔جسمیں ایک ارب جانور جل کر بھسم ہو گئے۔لبنان کے شہر بیروت میں ہوئے دھماکے نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ماہرین کے مطابق یہ اب تک کا سب سے بڑا غیر جوہری دھماکہ تھا۔اسمیں تین لاکھ افراد بے گھر ہوگئے اور کئ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

بہت تیزی سے حالات کو تبدیل ہوتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔یہ سال یقینا ہمارے لئے ایک بحران لایا تھا۔یہ سال ہمارے لیے سخت ترین سال تھا ۔اس سال انجانے خوف کے سائے ہم پر منڈلاتے رہے۔مگر اس سال نے ہم کو ساتھ ہی مثبت راہیں فراہم کیں۔عوامی زندگی میں اتھل پتھل مچی، انقلابی تحریکیں اٹھیں۔عوام بیدار ہوئے ۔آزادی کے نعرے بلند ہوئے۔
دنیا سے بے رغبتی جاگی۔مال و متاع انسان کو ہیچ لگا۔دنیاوی اسباب بیکار لگے ۔مادہ پرستی کی چاہ کم ہوئی۔خداوند سے رشتے استوار ہوئے۔روحانیت پھر سے زندہ ہوئی۔اس سال نے ہمیں اس دہرائے پر کھڑے کیاجہاں یہ یقین پختہ ہوا کہ زندگی مال و متاع کے بغیر ، مادہ پرستی کے بغیر گزاری جا سکتی ہے۔ صرف دو وقت کی روٹی پر سکون طریقہ سے مل جائے یہ ہی انسانی انمول متاع ہے۔سکون طمانیت، آسودگی حیات کا جز لاینفک گردانا گیا۔انسان نے انسان کے خاکی پیکر کو سمجھا۔دم توڑتی انسانیت نے سانس لیا اورجی اٹھی۔
یہ سال ہمیں اس لئے بھی یاد رہے گا کہ اس نے جہاں ہم سے بہت کچھ چھینا ہے وہیں بہت سے اقدار کو ہمیں لوٹا بھی دیا ہے۔آدمی کو آدمیت کا رنگ دیا ہے۔انسان کو انسانیت سکھائی ہے ۔مادہ پرستی کے خول سے نکال کر اخلاقی اقدار پر ابھارا ہے۔سائنسی ترقی پر سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے ۔ایک معمولی جرثومہ نے ہماری کھوج کو بے دست و پا اور ششدر کر دیا ۔جب انسان سچائی کے راستوں کو اپنانے سے کتراتا ہے اور مصلحین کی آواز دباتا ہے تو قدرت انسان کو کچوکے لگاتی ہے ۔ابلیس کی بہتری کا غرور جب عروج حاصل کرتا ہے تو الوہی قوتیں جوش میں آتی ہیں اور انسان کو اپنے وجود کی انتہائی بے بسی اور بے ثباتی کا احساس دلاتی ہیں کہ ۔۔۔انسان تو کارخانہ عالم کی ایک ادنیٰ مخلوق ہے۔تو مٹی کا وجود ہے۔ خدا کے عالم اسباب میں حقیر و پست عبدیت کا پیکر ہے۔ الوہی نظام انسانی نظام کے سامنے بیکراں و بے پایاں ہے ۔ہماری تمام توانائیاں اور ترقی بے دست و پا ہوجاتی ہیں۔ ایک ادنیٰ ذرہ کا مقابلہ کرنا جب محال ہو جاتا ہے تو ہم ایک نحیف و لاچار انسان کی مانند خدائے لم یزل کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔ اسی سے مدد طلب کرتے۔ اور یہ ہی انسانیت کی معراج ہے۔وہ ذات علیم و خبیر،سمیع وبصیر ہے ۔وہی ہمیں حفظ وامان میں رکھ سکتا ہے۔ اللّٰہ کی رحمتیں سال 2021میں اور ہمہ وقت ہم پر سایہ فگن رہے آمین۔
واللہ علی کلی شئ قدیر

عمیر محمد خان
ریسرچ سکالر
کھام گاؤں
مہاراشٹر الھند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔