امریکہ میں ٹرمپ کی ناکام بغاوت!

پرویز حفیظ
جو امریکہ ساری دنیا کو دن رات جمہوریت کا درس دیتا رہتاہے، جس امریکہ نے ایشیا اورافریقہ کے متعدد ممالک کو جمہوریت کا پرچم لہرانے کے بہانے تہ و بالا کر کے رکھ دیا اور جو امریکہ دنیا کی قدیم ترین جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،کسے خبر تھی کہ اسی امریکہ میں جمہوریت کے منہ پر یوں کالک مل دی جائے گی ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کارنامہ کسی ا ور نے نہیں خود امریکہ کے رخصت پذیر صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے انجام دیا ۔ آئینی جمہوریت کے بنیادی اصول کے مطابق سیاسی حریفوں پر لازم ہے کہ وہ انتخابات کے نتاءج کو خواہ وہ ان کے حق میں ہوں یا ان کے خلاف، خندہ پیشانی سے قبول کریں ۔ ٹرمپ نے امریکی جمہوریت کی اس مروجہ روایت سے انحراف کیا ۔ ان کا یہ انحراف الیکشن میں اپنی شکست تسلیم کرنے تک محدود نہیں تھا ۔ یہ انحراف انتخابات کے نتاءج کے اعلان کے بعد اقتدار کی پرامن منتقلی کے دیرینہ آئینی عمل پر ایک عدیم المثال حملہ تھا ۔ بدھ چھ جنوری کے دن امریکی جمہوریت کی علامت کیپیٹل ہل میں جس وقت سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے مشترکہ اجلاس میں جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کی رسمی توثیق کی جارہی تھی اس وقت ٹرمپ کے ہزاروں جنونی حامیوں نے وہاں چڑھائی کردی اور کئی گھنٹوں تک تخریب کاری اور تشدد کرتے رہے جن میں پانچ جانیں تلف ہوگئیں ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دارالحکومت واشنگٹن میں بغاوت اور خانہ جنگی ہورہی ہو یا کسی بیرونی دشمن نے حملہ کردیا ہے ۔
ٹرمپ کے ناقدین کو چھوڑیں خود ان کی ریپبلیکن پارٹی کی اہم لیڈرایلزبیتھ چینی نے صاف کہہ دیا کہ صدر نے ہی جنونی بھیڑ اکٹھا کی،بھیڑ سے خطاب کرکے اسے مشتعل کیا اور صدر نے ہی یہ آگ لگائی ۔ کیپیٹل ہل میں سیکورٹی کے اتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں کہ وہاں کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہے ۔ لیکن چھہ جون کو ٹرمپ کے حمائیتی تخریب کار وں نے جو بینر اور پرچم کے علاوہ ہتھیاروں سے بھی لیس تھے جتنی آسانی سے امریکی پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بولا اس سے لگا کہ اس دن وہاں حفاظتی بندوبست کا نام و نشان تک نہیں تھا ۔ تحقیقات سے یہ سنسنی خیز سازش سامنے آئی ہے کہ پولیس نے ایک منصوبے کے تحت تخریب کاروں کو بلا روک ٹھوک عمارت میں داخل ہونے دیا ۔ سی این این نے ٹرمپ کے متشدد حامیوں کو ;;گھریلو دہشت گرد ;; قرار دیا ہے ۔ واشنگٹن میں جو انتشار، لاقانونیت اور انارکی دیکھی گئی اس کی پیشن گوئی سیاسی پنڈتوں نے کئی ماہ قبل ہی کردی تھی ۔ ;;دی اٹلانٹک ;; نے ; ElectionThat CouldB reak America کے عنوان سے ایک طویل مضمون ستمبر میں شاءع کیا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انتخابات کے نتاءج کے اعلان کے بعد امریکہ میں بہت بڑا ;34;آئینی بحران پیدا ہوجائے گا کیونکہ ٹرمپ ہارنے کے بعد بھی ہار تسلیم نہیں کرنے والے ہیں ۔ امریکی آئین کے معروف اسکالر جوشوا گیلٹزر نے تقریباً دو سال قبل یہ کہ دیا تھا کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہارنے کے بعد ٹرمپ خاموشی سے رخصت ہوجائیں گے ۔  اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اور ان کے دوست عوامی ہسٹیریا اور تشدد بھڑکائیں گے ۔ ;;
خود ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی مئی 2019 میں نیویارک ٹائمز کو دئے گئے ایک انٹرویو میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ٹرمپ ہارنے کے باوجود رضاکارانہ طور پر واءٹ ہاوَس خالی نہیں کریں گے ۔ قانون کے پروفیسر لارنس ڈگلس نے تو صدارتی انتخاب اور ان کے نتاءج پر ٹرمپ کے متوقع ردعمل پر ایک مکمل کتاب لکھ ڈالی تھی جو آج بیسٹ سیلر ہوگئی ہے ۔ کتاب کا نام ہے ; ۔ ڈگلس نے حیرت انگیز بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین نومبر کے الیکشن کے بعد ٹرمپ کے ممکنہ رویے اورردعمل کی درست پیشن گوئی کردی تھی ۔  میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہوں کہ ٹرمپ شکست تسلیم کرلیں گے ۔ ایسا کرنا ان کے ڈی این اے میں ہی نہیں ہے ۔ ;34;ٹرمپ کی سگی بھتیجی میری ٹرمپ نے بھی امریکی عوام کو کافی پہلے خبردار کردیا تھا کہ اپنی شکست سے بوکھلاکر وہ بغاوت کی آگ بھڑکا سکتے ہیں اور انہوں نے ٹھیک ایسا ہی کیا ۔ ٹرمپ نے کسی کو اندھیرے میں نہیں رکھا تھا ۔ انہوں نے پچھلے کئی ماہ سے اس بات کے واضح اشارے دے دئے تھے کہ اگر انہیں شکست ہوئی تو وہ انتخابی نتاءج کو تسلیم ہی نہیں کریں گے ۔ یہ جمہوری نہیں آمرانہ انداز فکر ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹرمپ آمرانہ، نسل پرستانہ اور طبقاتی تعصب والی ذہنیت کے مالک ہیں ۔ امریکی سیاست میں ان کی حیثیت ایک ;79Outsider کی تھی ۔ وہ ایک ارب پتی بزنس مین ہیں جنہوں نے اپنی دولت کے بل بوتے پر 2016 میں ریپبلیکن پارٹی سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرلی اور بعد میں امریکی انتخابات کی پیچیدگیوں کے سہارے صدر منتخب ہوگئے حالانکہ انہیں ڈیموکریٹ امیدوار ہلری کلنٹن کے مقابلے 29 لاکھ کم ووٹ ملے تھے ۔ ٹرمپ ایک انا پسند، ضدی، بددماغ، منہ پھٹ، جھوٹے اور فریبی انسان ہیں جو خود کو ناقابل تسخیر تصور کرتے ہیں ۔ بیمار نرگسیت کا شکار اس شخص کے لئے شکست کا تصور ہی محال ہے ۔ انہوں نے پہلی بار واءٹ ہاوَس پہنچنے کے لئے امریکی جمہوریت کو استعمال کیا اور اس بار جب وہ جمہوریت ان کے کام نہیں آئی تو اس کا گلا گھونٹنے میں انہیں ذرا بھی تامل نہیں ہوا ۔
2016 کی انتخابی مہم میں ٹرمپ نے امریکی عوام کے دلوں میں سفید فام نسل پرستی، شدت پسند قوم پرستی اور اسلامو فوبیا کے جذبات بھڑکا ئے اور پورے ملک کو پولارائز کردیا ۔ انہوں نے 2016 میں عوام کو ;; سب سے پہلے امریکہ;; اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا ہے;34; جیسے دلفریب نعروں سے رجھایا تھا اور اس بار بھی ان گمراہ کن نعروں کے بدولت پچھلی بار کے مقابلے میں گیارہ لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کئے ۔ ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنے کی ہوس میں انہو ں نے اپنے ملک کو مکمل طور پر تقسیم کرکے رکھ دیا ہے ۔ امریکہ کو وہ عظیم کیا خاک بناتے! ہاں اپنے کرتوتوں سے انہوں نے دنیا کی واحد سپر پاور کو ساری دنیا میں مکمل طور پر رسوا ضرور کردیا اور خود بھی ذلیل و خوار ہورہے ہیں ۔ انہیں گرفتار کرکے ان پر وطن سے غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے،ان کے ٹوءٹر اور فیس بک اکاوَنٹس بند کردئے گئے ہیں اور ان کی اپنی ریپبلیکن پارٹی کے لیڈر ان کو اچھوت سمجھ رہے ہیں ۔ کیپیٹل ہل پر حملے کے ٹھیک ایک ہفتہ بعد بدھ کے دن ایوان نمائندگان نے ان کے مواخذے کو منظوری دے دی ۔ ووٹنگ کے وقت ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی کے دس ارکین نے بھی ان کے خلاف ووٹ دئے ۔ امریکہ کی تاریخ میں ٹرمپ وہ پہلے صدر بن گئے ہیں جنہیں دوبار مواخذے کا یہ ذلت آمیز طوق پہننا پڑا ہے ۔ ان کے خلاف اپنے حامیوں کو حکومت کے خلاف ;; بغاوت کے لئے اکسانے کا;; الزام لگایا گیا ہے ۔ مواخذے کے مسودے میں جوسنگین الزامات ان پر عائد کئے گئے ہیں وہ تاعمر ان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بنے رہیں گے ۔ اس میں صاف صاف لکھا ہے کہ صدرٹرمپ نے اپنی ایسی حرکتوں سے امریکہ اور امریکہ کے سرکاری اداروں کی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا اور اگر ان کو اپنے عہدے پر رہنے دیا گیا تو وہ قومی سلامتی، جمہوریت اورآئین کے لئے خطرہ بنے رہیں گے ۔ امریکہ کے صدر کو دنیا کا طاقت ور ترین شخص سمجھا جاتا ہے ۔ آج اس عظیم الشان منصب والے شخص کی ایسی درگت بن رہی ہے کہ اسے دھکے مار کر نکالنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ مواخذہ ایسی رسوائی ہے جوامریکہ کی دو سو چالیس سالہ سیاسی تاریخ میں ٹرمپ سے قبل صرف دو صدور کا مقدر بنی تھی ۔ پہلی بار 1868 میں اینڈریو جانسن نام کے صدر کا مواخذہ کیا گیا تھا اور دوسری بار(ایک سو تیس سال بعد) بل کلنٹن کا مواخذہ کیا گیا ۔ ٹرمپ ایسے بد بخت صدر ہیں جنہیں ایک نہیں دو دو بار یہ زہر پینا پڑا ہے ۔ حالانکہ بعد از خرابیء بسیار ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے تشدد سے گریز کرنے اور امن قائم رکھنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اب کسی قسم کا تشدد،تخریب کاری اور قانون شکنی نہیں ہونی چاہئے ۔ اس وقت واشنگٹن سمیت پورے ملک میں ہائی الرٹ ہے ۔ ایف بی آئی نے انتباہ کیا ہے کہ نو منتخب صدر بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کی حلف برداری کے دن یا اس سے قبل دائیں بازو کی جنونی تنظی میں اور ٹرمپ کے وفادارپر تشدد مظاہرے کرسکتے ہیں ۔ کیاکسی نے تصور بھی کیا تھا کہ جمہوریت کے سب سے قدیم اور مستحکم گہوارہ میں جمہوریت کی ایسی پامالی ہوگی;;
پس نوشت:اپنی تمام بدقماشیوں اور غیر ذمہ دارانہ کرتوتوں کے باوجود ٹرمپ کی اس بات کے لئے تعریف کرنی ہوگی کہ انہوں نے دوسرے امریکی صدور کی طرح کسی بیرونی ملک کے خلاف جنگ نہیں کی ۔
شمالی کوریا اور ایران تک پر چڑھائی نہیں کی ۔ عوامی جائزے جو بائیڈن کی فتح کی پیشن گوئیاں کرتے رہے پھر بھی کلنٹن یا بش کی طرح ٹرمپ نے اپنی انتخابی پوزیشن بہتر کرنے کے لئے کسی مسلم ملک پر بمباری نہیں کی ۔ انہوں نے طالبان کے ساتھ سمجھوتہ کیا اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو یقینی بنایا ۔ حیرت ہے کہ کسی بیرونی ملک پر چڑھائی کرنے سے احتراز کرنے والے ٹرمپ نے جاتے جاتے اپنے ملک پر ہی حملہ کردیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔