صدر ٹرمپ کا دوسری مرتبہ مواخذہ امریکہ چھوڑ کر وہ دوسرے ملک میں منتقل ہوسکتے ہیں

ڈونالڈ ٹرمپ امریکی تاریخ میں پہلے صدر ہیں جن کا دو مرتبہ مواخذہ ;73;mpeachment) ( کیاگیا ہے ۔ پہلی مرتبہ 2019 میں ٹرمپ کا مواخذہ کیا گیا تھا جب یوکرین کے مسئلہ پر انہیں مات ہوئی تھی لیکن سینٹ نے 2020 میں ان کی گلو خلاصی کردی تھی ۔ واضح ہوکہ ٹرمپ کی طرف سے اشتعال دلانے پر فسادیوں کی بڑی تعداد پارلیمانی عمارت کیپٹل ہل پر ٹوٹ پڑی تھی جس میں پانچ آدمی مارے گئے ۔ مسلح نیشنل گارڈ دستے نے بڑی مشکل سے صورت حال پرقابو پایا ۔ بدھ کے دن 197کے مقابلے میں 232ممبران کی حمایت سے ٹرمپ کا دوسری مرتبہ مواخذہ ہوا ۔ ٹرمپ کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن پارٹی کے دس ممبران نے بھی تحریک مواخذہ کی حمایت کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ بے لگام ٹرمپ کو لگام دینے کی سخت ضرورت ہے کیوں کہ ان سے ملک اور قوم کو سخت خطرہ ہے ۔ 1998 میں صدر بل کلنٹن کا بھی مواخذہ کیا گیا تھا لیکن جس طرح سے ڈونالڈ ٹرمپ بے آبرو ہوکر نکلے ہیں اس کی امریکی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ کیپٹل ہل پر جب حملہ ہوا تو ایوان نمائندگان اور سینٹ کے ممبران سکتہ میں آگئے اور جان بچانے کےلئے ادھر ادھر بھاگنے لگے ۔ ایوان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے ابراہم لنکن اور بائبل کی قسم کھا کر ممبران ایوان سے کہا کہ دستورکے تئیں انہوں نے جو حلف برداری لی ہے اس کا تقاضا ہے کہ وہ تمام اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے اسے بچائیں ۔ انہوں نے کہا ’’ٹرمپ کو جانا ہی پڑے گا ۔ وہ ملک اور قوم کیلئے صریح خطرہ ہیں ‘‘
ہر طرف سے الگ تھلگ پڑ جانے کے بعد یو ٹرن (قلابازی) لیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ویڈیو بیانیہ میں اپنے حامیوں سے تشدد سے باز آنے کی اپیل کی ۔ اپنے حامیوں سے انہوں نے یہ بھی کہا کہ 20 جنوری کو منتخب صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں کوئی رخنہ اندازی نہ کرےں ۔ پہلی مرتبہ انہوں نے کیپٹل ہل پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سے بہت صدمہ پہنچا ہے ۔
توقع ہے کہ آئندہ منگل کو ری پبلکن سینٹ لیڈر مچ میکونل مواخذہ ٹرائل کی کارروائی شروع کریں گے ۔ اس کے ایک دن پہلے ہی ٹرمپ وہاءٹ ہاءوس سے رخصت ہوجائیں گے ۔ مواخذہ کا یہ بھی مقصد ہے کہ ٹرمپ دوبارہ صدارت کے عہدہ کیلئے مقابلہ نہ کرسکیں ۔ میکونل کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے بد ترین جرم کا ارتکاب کیا ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کی تحریک مواخذہ ایک موقع ہے کہ ملک و قوم پر صدر کی گرفت کو کمزور کیا جائے ۔ پہلی مرتبہ کے مواخذہ کے مقابل اس بار ٹرمپ کی پوزیشن کافی کمزور ہے ۔ پارٹی انہیں دوبارہ صدارتی انتخاب کیلئے کھڑا نہیں کرنا چاہتی ۔ علاوہ ازیں سینٹ میں ری پبلکن پارٹی کو اب اکثریت بھی حاصل نہیں رہی ۔ ہاءوس ری پبلکن لیڈر کیون میگارتھی نے بھی ٹرمپ کے تئیں اپنی وفاداری تبدیل کردی ہے اور بدھ کے دن کہا کہ کیپٹل ہل پر حملہ کیلئے ٹرمپ ذمہ دار ہیں ۔ چارصفحات پر مشتمل تحریک مواخذہ کی قرار داد میں کہا گیاہے کہ صدر نے مجمع کو اشتعال دلایا اور بائیدن کی انتخاب میں جیت کے حوالے سے کذب بیانی سے کام لیا ۔ ایوان کے 10ری پبلکن ممبران نے بھی تحریک مواخذہ کی حمایت کی ۔ ایسے وقت میں جب کہ ٹرمپ کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑی ہے اور ان کے ممدو مدد گار ،یہاں تک کہ افراد خاندان بھی ساتھ چھوڑ رہے ہیں تو ٹرمپ یکہ و تنہا رہ گئے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر متحدہ عرب امارات ،آئیر لینڈ یا اسکاٹ لینڈ منتقل ہوسکتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔