سعودی قطر رشتوں میں ہم واری سے مشرقِ وسطیٰ میں نئے دور کا آغاز

امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد وسط ایشیا اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی اس کے اثرات نظرآنے لگے ہیں
صفدرامام قادری
اخباروں میں چلتی پھرتی خبر کی طرح یہ اطّلاع سامنے آئی کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے اور دونوں مُلکوں نے اپنی سرحدیں ایک دوسرے کے لیے کھول دی ہیں ۔ عام طور سے جس طرح عمومی خبروں کا حال ہوتا ہے،اُسی طرح ہندستان کے اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات میں اس خبر کا حشر ہوا ۔ معاملہ ایک یا دو کالم میں سِمٹ گیا ۔ یہ بھی بات کالم نگاروں کی خصوصی توجّہ میں نہ آ سکی کہ یہ کیوں کر ممکن ہو سکا اور آنے والی دنیا میں کس انداز کے اثرات اس فیصلے سے مُرتّب ہوں گے ۔
خلیج کے مُلکوں کی سیاست میں دل چسپی رکھنے والے افراد یہ بات جانتے ہیں کہ کسی نہ کسی جہت سے وہاں کے معاملات سے بہ راہِ راست یا بالواسطہ طَور پر دنیا کے مسلم سماج سے اُس کا رِشتہ قایم ہو جاتا ہے ۔ جن لوگوں کو خلافت تحریک کی یاد ہوگی اور آج سے ٹھیک ایک سو بَرس پہلے کے سیاسی اور سماجی منظر نامے کو سمجھنے کے لیے ان کا ذہن تیّار ہوگا، انھیں یاد آجائے گا کہ اس مُلک میں مولانا محمد علی جوہر اور ان کے ساتھیوں نے جو تحریک چلائی تھی، اور جِسے مہاتما گاندھی کے ساتھ پوری کانگریس کا تعاون حاصل تھا;234; وہ بھی معاملہ ہندستان سے متعلّق نہیں تھا بلکہ تُرکی حکومت اور اس کے زیرِ اثر سعودی عرب میں مکّہ اور مدینہ کے حرمین شریفین کے معاملات تھے ۔ ہندستان کے لوگ بالخصوص تحریکِ خلافت کے افراد کی یہ خواہش تھی کہ وہ تمام معاملات تُرکی کی سلطنت کے زیرِ سایہ ہی رہیں ۔ حالاں کہ یہ ممکن نہ ہو سکا مگر ہندستان سے لے کر تُرکی اور مکّہ معظمہ تک اور پھر لندن تک ان سوالوں کے اِرد گرد یہ سماج سرگرم سیاسی معاملات کا مطالعہ و محاسبہ کرتا رہا ۔
ابھی چار برس نہیں ہوئے، سعودی عرب اور قطر کے سلسلے سے اختلافی صورتِ حال کا سامنا ہوا ۔ ہ میں معلوم ہے کہ سعودی عرب حرمین شریفین اور بڑی آبادی کے سبب خلیج کے ممالک میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ دولت اور آبادی کے لحاظ سے بھی اس کی حیثیت بڑی ہے ۔ اُسی طرح گذشتہ نصف صدی میں قطرچھوٹا ملک اور کم آبادی ہونے کے باوجود انتظامی، تعلیمی اور مالیاتی ترقّی کی مُہم میں خلیج کے ممالک میں اپنا ایک خاص مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ فی کس آمدنی میں دنیا کا سب سے خوش حال ملک قرار دیا گیا اور جدید کاری کی مہم میں ہر حلقے نے یہ مانا کہ یہ مُلک آگے بڑھ رہا ہے ۔ اس اعتبار سے قطر اور سعودی عرب کو سیاست اور سفارتی امور میں مرکزی اہمیت حاصل ہے ۔
قطر اور سعودی عرب کی سرحدیں جب ایک دوسرے کے لیے بند ہوئی تھیں ، اچانک متعدّد طرح کی پریشانیاں پیدا ہوئیں ۔ خلیج کے مُلکوں کا آپسی رِشتہ کہیں نہ کہیں بگڑنے لگا ۔ گلف کونسل کے ممالک توازن قایم کرنے میں پریشانی محسوس کرتے رہے ۔ تُرکی کے سامان جن کی بنیاد پر خلیج کے ممالک اپنی سطحِ زندگی استوار کرتے رہے ہیں ، ان کی دستیابی میں دشواری ہوئی ۔ لوگوں نے اس وقت خبریں پڑھی تھیں کہ قطر میں جب دودھ کی قلت شروع ہوئی تو ایک وقت میں آسٹریلیا سے پانچ ہزار گائیں منگائی گئیں اور انھیں جس درجہَ حرارت میں رہنے کی ضرورت تھی، اسے حاصل کرنے میں کامیابی پائی گئی ۔ اسی طرح سبزیوں کے سلسلے سے حکومت نے لوگوں کی حوصلہ افزائی شروع کی اور قطر میں کھیتی کے بارے میں بھی ایک تصوّر اُبھرا ۔ بہت ساری صنعتی مصنوعات جو سعودی عرب کے کارخانوں میں بنتی تھیں ، قطر نے اپنے یہاں بنانے کا سلسلہ شروع کیا ۔ دولت قطر کے پاس تھی اور سیاسی سوجھ بوجھ اور عالمی سطح پر ماحول سازی میں بھی وہاں کے حکم راں کامیاب ثابت ہوئے جس کا نتیجہ یہ سمجھوتا ہے ۔ مگر قطر کو بہت سارے معاملات میں خود کفیل بننے کا اس دوران موقع ہاتھ آیا اور شاید اس اختلاف سے اُس نے اپنی قومیت کی تعمیری جہات کی تلاش میں مزید استحکام کے حصول کی راہیں ہم وار کر لیں ۔ اب کویت، متّحدہ عرب امارات اور عمّان جیسے ممالک کو ان دونوں ملکوں سے رِشتوں میں جو پریشانیاں ہو رہی تھیں ، ان کا حل آسانی سے نکل جائے گا ۔
خلیج کے مُلکوں کے لیے اصل پریشانی امریکی تسلّط ہے ۔ سعودی عرب خاص طَور پر اور کویت یا قطر جیسے ممالک کہیں نہ کہیں امریکی حکم رانوں کی تابع داری میں جیتے ہیں ۔ پٹرول کی ایسی طاقت ہے کہ طاقت ور مُلکوں کی ایک نگاہ خلیج کی طرف رہتی ہی ہے ۔ کویت اور عراق جنگ کے بعد امریکا نے اپنا تسلّط مزید بڑھایا اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ دوسرے خلیجی ممالک نے اسے بہ خوشی قبول کیا ۔ آج یہ حالت ہے کہ بیت الحرام کے علاوہ تمام خلیجی ممالک میں کسی نہ کسی جہت سے امریکی غلامی بہ دستور قایم ہے ۔ پٹرول کی کمپنیوں میں تکنیکی مدد کے نام پر امریکا سے جس قدر معاہدات ہیں ، ایک طویل مدت تک امریکا کو دخل اندازی سے ہٹایا نہیں جا سکتا ۔ یہ دخل اندازی اس وجہ سے بھی بڑھی کیوں کہ امریکی حکومتوں نے مختلف اوقات میں خلیج کے الگ الگ مُلکوں میں کچھ اختلافات کی ایسی لہر چلائی جس کی وجہ سے دونوں فریق مبتلاے جنگ رہیں اور ان کی ثالثی امریکا کے ہاتھ میں رہے ۔ گذشتہ دوتین دہائیوں سے ایک طرف ایران اور دوسری طرف تُرکی عالمی سطح پر امریکی غلامی سے خود کو الگ رکھنے کے لیے سَر اُٹھاتے رہے ہیں ۔ ان مُلکوں کو امریکا کے دوست ممالک بار بار سیاہ فہرست میں ڈالتے رہے ہیں مگر یہ ممالک اب بھی اپنا وجود نہ صرف قایم رکھنے میں کامیاب ہیں بلکہ اسے استحکام اور توسیع بھی دیتے رہے ہیں ۔ ایران اور تُرکی دونوں کے راستے سعودی عرب کے لیے رہ رہ کر بند ہوئے ہیں اور حقیقی وجہ یہی ہے کہ ا س کی پُشت پر بھی ہمیشہ امریکی اشارے ہی کام کرتے رہے ہیں ۔ سیاسی اعتبارسے ایران اور تُرکی کے داخلی تضادات بھلے ہوں مگر عالمی طَور پر وہ کسی نہ کسی جہت سے امریکا مخالف حلقے میں خود کو رکھ کر اپنے مُلک کی ترقّی کے لیے کوشاں رہے ۔
قطر اور سعودی عرب کی سرحدیں ایک دوسرے کے لیے کھول دی گئی ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ خلیج کے دو طاقت ور ممالک ایک ساتھ بیٹھ کر میدانِ عمل میں آ سکتے ہیں ۔ خلیجی ممالک کے آپسی اختلافات اور پس ماندگی کو دوٗر کرنے کے لیے ان دونوں مُلکوں کے اختلافات کا کم ہونا بہت بہت ضروری ہے ۔ اس سے دنیا کے اسلامی مُلکوں کے وقار اور ترقی اور سا لمیت کے لیے ان کے خلوص کی پہچان بھی ہوگی ۔ جب خلیج کے ملکوں میں اختلافات کم ہوں گے، تب اُن کی ایک سیاسی شناخت اور خاص نقطہَ نظر بھی واضح ہو سکے گا ۔ جب یہ صورتِ حال سامنے آئے گی اُس وقت ایران اور تُرکی سے مِل کر وہ دنیا میں خود کو ایک بڑی سیاسی طاقت کے طَور پر پیش کرسکتے ہیں ۔ آج اُن کی حیثیت امریکا کے پِچھ لگّوٗ اور ماتحت سے زیادہ نہیں ۔ اُن کا سارا تیل اور ساری دولت اس معاملے میں بے اثر ہیں ۔ ان کی آبادی سماجی جدیدکاری میں پچھڑی ہوئی ہے ۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں انھیں قبیلائی تہذیب اور بربریت کی تاریخ رکھنے والی قوم سے الگ کوئی پہچانتا بھی نہیں ۔
یہ ایک خوش گوار موقع ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب اور قطر مِل کر خلیجی ممالک کے آپسی اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کریں ۔ ہر مُلک میں تعلیم اور صنعت کا کیسے جال بِچھایا جائے گا، اس کے لیے بلوٗ پرنٹ بنانے کی شدید ضرورت ہے ۔ خلیج کے ممالک کی بڑی تنظیم کو یہ بھی آسانی سے سمجھ میں آنا چاہیے کہ اگر وہ سنجیدہ کوشش کریں اور عالمی سطح پر اپنی سیاسی شناخت اور طاقت کو منوانے کے لیے آگے بڑھیں تو تُرکی اور ایران ہی نہیں ، انڈونیشیا، ملیشیا اور ہندستان ، پاکستان اور بنگلا دیش کے شامل دنیا کے مختلف گوشوں میں موجود مسلمانوں کی بھی اُن کی طرف نگاہ ہوگی ۔ مگر یہ قیادت انھیں امریکا کے پیچھے چلنے اور قبیلائی عہد میں جینے سے نہیں ملے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں خود کو رفتہ رفتہ جمہوریت کے قریب بھی لانا ہوگا اور خاندانی اقتدار کو ایک سلسلے سے عوامی اقتدار میں بدلنے کی مہم قایم کرنی ہوگی ۔ خاندانی اقتدار کی کمزوریوں سے وہ خوب خوب واقف ہیں اور ان کمزوریوں کا دنیا کے طاقت ور مُلک ہمیشہ فائدہ اُٹھاتے رہے ہیں ۔ اس لیے ان رشتوں کے خوش گوار لمحوں میں مستقبل کی تیّاری اور کامیابی عالمی قیادت کے لیے ایک جذبہ بھی ہونا ضروری ہے ۔ اس کے بغیر خلیج کے مُلکوں کا تیل دیر سویر بہہ جائے گا یا ریت میں جذب ہو جائے گا ۔ دنیا جس طرح روز بہ روز بدل رہی ہے، ا س طرح خلیج کے مُلکوں کو بھی اپنے ذہن کو بدلنا ہوگا ۔ ابھی تک وہ آسایشوں میں یا دولت کے دکھاوے میں آگے ہیں مگر انھیں اور بڑا بننا ہے اور عالمی قیادت کی طرف قدم بڑھانے ہیں ، تو انھیں اپنا نیا طَور سامنے لانا ہوگا ۔ یہ ملوکیت کے بجاے جمہوریت کے راستے سے زیادہ آسان اور دیر پا ہوگی ۔ خلیج کے مُلکوں میں کئی بار اصلاحی کوششیں ہوئیں ، کامیابی بھی حاصل ہوئی مگر ابھی جدید کاری کی مہم میں ان ملکوں کو میلوں چلنا ہے ۔ بہ قولِ فیض:
’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘
مضمون نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس میں صدر شعبہَ اردو ہیں ۔
mail:  safdariamamquadri@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔