سپریم کورٹ زرعی قوانین پر روک لگانے کیلئے تیار حکومت ہوش کے ناخن لے اور قانون کو منسوخ کرے

مرکزی زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کا معاملہ بالآخر سپریم کورٹ پہنچا ۔ سوموار کے د ن سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ نئے زرعی قوانین کی عمل آوری پر روک لگانے کا خواہشمند ہے اور اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے کسی سابق جج کے ذریعے ایک کمیٹی کی تشکیل کرے جو اس مسئلہ کا اطمینان بخش حل نکالے ۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو سخت لتاڑ لگائی کہ اس سلسلے میں اس نے صلاح و مشورہ کو کوئی راہ نہیں دی ۔ عدالت نے کہا کہ مرکز نے اس مسئلہ کو جس طرح سے حل کرنے کی کوشش کی ہے اس سے ہم سخت مایوس ہیں ۔ احتجاجی کسانوں نے جو زرعی قوانین کی منسوخی پر اصرار کررہے ہیں ، اس خوف کا اظہار کیا کہ اگر ان قوانین پر عمل کیا گیا تو وہ کارپوریٹ گھرانوں کے رحم و کرم پر ہوں گے ۔ کسانوں نے عدالت کے خیالات کے تئیں احترام کا اظہار کیا لیکن حکومت کے ہٹ دھرم رویہ کے پیش نظر انہوں نے مجوزہ کمیٹی کی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کردیا ۔ دریں اثنا ء چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ وہ صرف ان قوانین کی عمل داری پر روک لگانے پر غور کررہی ہے نہ کہ خود قوانین پر ۔ منگل کو اس سلسلے میں کسی قطعی حکم کی توقع ہے ۔ قانونی ماہرین اس بات پر منقسم ہیں کہ کیا عدالت ایک ایسے قانون پر روک لگا سکتی ہے جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے اور کیا سپریم کورٹ کو کسی کمیٹی کے تشکیل کرنے کا اختےار ہے ۔ وکلاء کے ایک حلقہ کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کو اس قسم کے کسی قانونی بکھیڑے میں پڑنے کی بجائے اس پر غور کرنا چاہئے کہ کیا مرکز کو ایسے قوانین بنانے کا اختےار ہے جو ریاستوں کے زمرے میں آتے ہیں کیوں کہ زراعت ایک ریاستی موضوع ہے ۔ جو وکلاء کورٹ کی طرف سے ایک کمیٹی بنانے کے حق میں ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ دستور کی دفعہ 142کے تحت سپریم کورٹ کو اس کا اختےار ہے ۔ بے شک پارلیمنٹ قانون بناتی ہے اور حکومت اس کی عمل آوری کرتی ہے لیکن عدالت اس پر روک لگا سکتی ہے ۔ وکلاء کی تجویز کی تائید کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سابق جج آر ایس لودھا کو کمیٹی کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سوموار کے دن سماعت کے دوران بنچ نے جس کے دیگر ممبر جسٹس اے ایس بوپنا اور ڈی راما سبرمنیم ہیں ،کہا کہ ’’ہم سپریم کورٹ آف انڈیا ہیں اور ہم اپنا کام کریں گے ۔ آپ نے بغیر وافر صلاح و مشورہ کئے قانون بنایا ۔ حکومت نے اس معاملے کا جس طرح نمٹارا کیا ہے اس سے ہم سخت مایوس ہیں ۔ ہ میں نہیں معلوم کہ قوانین بنانے سے پہلے آپ نے کیا مشاورتی طریقہ کار اختےار کیا ۔ کئی ریاستیں اس (قانون) کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں ۔ ہر طرف احتجا ج اور ہڑتالیں ہورہی ہیں ‘‘جسٹس بوبڑے نے کہا کہ ہ میں افسوس ہے کہ حکومت ہند اس مسئلہ کو حل کرنے سے قاصر ہے ۔ آپ نے بغیر صلاح و مشورہ کئے قانون بنادیا ۔ ہمارا خیال ہے آپ یہ مسئلہ حل کرسکتے ہیں ۔ چیف جسٹس بوبڑے نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال اور سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’آپ بتائیں کہ آپ ان قوانین پر عمل در آمد نہیں کریں گے ورنہ ہم کارروائی کریں گے ۔ آخر اس مسئلہ کو التواء میں رکھنے کا مقصد کیا ہے ;238;‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔