گلوبل ری  سیٹ اور نیو ورلڈ آ رڈر

   از :شیبا کوثر
۔________________________________________
صرف ایک سال پہلے ،جنوری 2020ء کے ابتدائی دنوں میں کوئی تصور بھی نہیں  کر سکتا تھا کہ دنیا محض بارہ  ماہ میں بڑی اور وسیع تبدیلیوں سے گزرے گی ۔کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ (کو وڈ  19) اس وسی وسیع پیما نے پر پھیل جائے گا اور اتنے گہرے اثرات مر تب کرے گا ۔اور اس وائر س  کے با عث ساری صنعتیں راتوں رات بند ہو جائیں گی اور تیل پر انحصار کر نے والی معیشتو ں کو  نا قابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اور یہ کہ مغرب چین( اور مشرق )کے غیر متو قع عروج کو قبول کرنے پر مجبور ہو جا ئے گا اور چین کو قابو کرنے کے لئے و ضع کیا گیا انڈو۔ پیسیفک منصو بہ ہوا میں تحلیل ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں ہندو ستان خوف کے حالات میں جکڑا ہوا پائے گا ۔ایسا لگتا ہے کہ ہم دنیا کی تاریخ میں تیز رفتار تبدیلی کی دور سے گزر رہے ہیں ،جیسے بیسو یں صدی کے نصف اول میں دو عالمی جنگو ں کا دور یا 1991ءمیں سو ویت یونین کے خاتمے کا زمانہ ،جب عالمی طاقت کی حر کیات بڑی طاقتوں کے عروج و زوال پر منتج ہوئی تھیں ۔تاریخ اس تجر با تی حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ عالمی طاقت کے ڈھانچے میں رد و بدل لازمی طور پر حکمرانی کے نظم کو متاثر کرتا ہے ۔آئے اس دعوے کا بہ نظر غائر  جائزا لیں ۔
جدید تاریخ ،اس کے اتحاد اور اس کے فلیش پوانٹس صرف گذشتہ سو سال کے عرصہ پر محیط ہیں ۔بیسو یں صدی کے آغاز پر دنیا ایک نا قابل شناخت جگہ تھی ۔یو رپ اور مشرق وسطی بنیادی طور پر آسٹرو ہنگیرین سلطنت ،برطانوی امپا ئر خلافت عثمانیہ اور اقتدار کے فرانسیسی  مرا کز  میں منقسم تھے ۔روس چین اور جاپان کی اپنی سلطنتیں تھیں ۔ہندوستان جس پر صدیوں سے مغل سلطنت کی حکومت رہی ،تب انگریز وں کے تسلط میں تھا اور حکمران  طاقتوں کا امپا ئر سڑ کچر ہی یہ طے کرتا تھا کہ مقامی طور پر حکومتوں کو کس انداز میں چلا یا جانا چاہئے ۔راج ،خلافت اور کنگ شپ،قبول شدہ میعارات تھے۔تب عوام جمہوریت کا راگ نہیں الا پتے تھے اس وقت استشنا صرف ریاستہائے  متحدہ امریکہ کو حاصل تھا ۔جس کا اثر و رسو خ اس کی اپنی سمندری حدود سے باہر نہیں نکلا تھا ۔لیکن پہلی جنگ عظیم نے پرانے عالمی نظام کو مکمّل طور پر تبدیل کر دیا ۔تمام بڑی سلطنتیں منہدم ہو گئیں ۔سلطنت عثمانیہ کا مکمّل خاتمہ ہو گیا ۔آسٹر و ہینگر ین  سلطنت  ٹکڑوں میں بٹ گئیں اور جرمنی ،آسٹر یا ،جمہوریہ  ہنگر ی ،جمہوریہ چیکو سلو ا کیہ،کرو شیا،سر بیا اور رومانیہ جیسے ممالک وجود میں آئے ۔امریکہ تب نیا نیا بین الاقوامی منظر عام پر ابھر ا تھا اور ایسی طاقت نہیں تھا ۔جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں ۔اس کا طرز حکمرانی بھی دنیا کے بیشتر حصّوں میں ریاستی ڈھانچے کی ترجیح شکل کے طور پر قبول نہیں کیا گیا تھا ۔
اس کے بعد دوسری جنگ عظیم شرو ع ہوئی جس کا خاتمہ اتحاد ی افواج کی فیصلہ کن فتح پر ہوا ۔اس فتح نے "سلطنت "کے پرانے ڈھانچے کو ختم کر دیا ،یوں امریکہ جیسے جمہوریت کے نئے دور کا آغاز ہوا ۔جاپان نے مغربی طرز حکومت اپنا لیا ،حتیٰ کہ برطانوی سلطنت جو دوسری جنگ عظیم کے فا تحین میں شامل تھی لیکن زیادہ دیر تک اپنی سلطنت کی حیثیت برقرار نہ رکھ سکی ،اور اس نے بھی جمہوریت کا انتخاب کر لیا ۔اہم بات یہ ہے کہ جب سلطنتوں کا خاتمہ ہو گیا اور حکمران طاقتوں نے دنیا کا ایک نیا نقشہ تیار کیا تو اس میں سے سے اسرائیل بھی بر آمد ہوا ۔مشرق وسطیٰ عملی طور پر ملکہ کی خواہش کے مطابق تقسیم ہو گیا ۔بر صغیر کو بہت سی جگہوں پر مقامی لوگوں کی مرضی کے خلاف وا ئیسرائے کی کھینچی گئی سر حد کے تحت تقسیم کیا گیا ۔افریقہ کے کچھ حصّوں کو چھوٹی چھوٹی قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ۔اور اقوام متحدہ( اور دوسرے مغربی اتحاد )اتحاد ی طاقت کے ڈھا نچے کو ادارہ جاتی شکل دینے کیلئے قائم کئے گئے ۔اہم بات یہ ہے کہ مغربی عالمی طاقتوں،جنہوں نے اپنی خواہش کے مطابق زیادہ تر عالمی نقشے کو موڑ لیا ۔نئی نئی سرحدوں کے پاسداری کی ضمانت بھی دی گئی تھی ۔دوسری جنگ عظیم کے بعد کم و بیش چار دہا ئوں تک مغربی تسلط کو واحد چیلنج سو و یت یو نین کی طرف سے تھا ۔سو و یت یو نین کے زیر
کنٹرول علاقوں میں و امریکی جمہوری انٹر پرا یز  کی مزا حمت کی گئی ۔مشرقی یو رپ سے کیو با تک پھیلے ان علاقوں میں سو و یت یو نین کے "اشتر ا کی ریاست کے ڈھا نچے "سے حکمرانی میں مدد لی گئی ۔1991ءمیں سو ویت یو نین کا خاتمہ ایک ایک قطبی دنیا کے آغاز کا با عث بنا۔ رومن امپا ئر کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دنیا پر ایک ہی ملک غالب ہو گیا ۔ریاستہائے متحدہ امریکہ۔امریکی سامرا ج کے زمانے میں غیر معمولی واقعات کا آغاز ہوا ۔1990ءکے بعد سے امریکہ نے غالب ہونے کا لطف اٹھایا ۔اس نے اپنی مرضی کے مطابق کئی ممالک پر حملہ کیا ،ان حکومتوں کا خاتمہ کیا ،جسے وہ نا پسند کرتا اور اپنی پسند کے استعمار پسندوں کی حمایت کی ۔اہم بات یہ ہےکہ اس دور میں امریکی طرز حکومت کی نمو بھی دیکھنے میں آئ ۔اس عرصے میں امریکی برانڈ کی حکومت تر جیح نظام تھا ۔ یہاں تک کہ مقامی آبادی کی مرضی کے بر عکس بھی،جیسا کہ افغانستان اور عراق ،بین الاقوامی گورننس باڈیز( جیسے آئ ا یم ا یف) ممالک کو امریکی طرز حکمرانی اپنانے اور داخلی سطح پر ایسی اصلاحات لانے پر مجبور کر تیں، جو امریکہ کے مفادات کے مطابق ہوں۔ جنہوں نے اس امریکی بر تری کو تسلیم کر لیا،ان کو نوازا گیا ،جیسے جنو بی کوریہ ،ہندوستان ،جنہوں نے امریکہ سے اختلا ف کیا ان کو سزا دی گئی ،جیسے و نیزو یلا، عراق،شام ۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ 2020ءمیں یہ سب بدل گیا کو وڈ 19 کے پھیلا و  سے اپا ہج ہو چکی اور دو منا سب جنگو ں کے دوران اپنی عالمی توانائیوں کو ضایع کر دینے کے بعد ڈو نلڈ  ٹرمپ رد  عمل پر مبنی "امریکن فرسٹ "پا لیسی کا نتیجہ امریکہ کی بالا دستی کی عالمی سطح سے دستبر داری کی صورت میں نکلا ۔اس امریکی  انخلا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا نے مسا بقتی  مفا دات کو جنم دیا ہے ۔خاص طور پر چین کا عروج ،جو حالیہ عرصے تک سست تھا ،کورونا وائر س کی وبا ءکے دوران بیحد تیزی سے جڑ پکڑ گیا ۔چو نکہ مغرب ( کو و ڈ 19 )کے اثرات سے نمپٹنے  میں مصروف ہے ۔اور امریکہ داخلی تنا ز یات میں الجھا ہوا ہے تو اس دوران چین کی طاقت بڑھ رہی ہے ۔لد اخ میں چین کی سر گرمی ،اور کووڈ،لاک ڈاؤن کے باوجود سی پیک منصو بوں کی تکمیل میں تیزی ،چین کے عالمی سطح پر آگے بڑھنے کا ثبوت ہے ۔ایک عالمی ترتیب نو بالکل سامنے ہے اور "مشرق کی طرف دیکھو "کے حوالے سے ایک نیا دور شرو ع ہونے کو ہے ۔
گلو بل پاور میں اس تبدیلی کے ان بین الاقوامی سرحدوں پر اثرات مر تب ہو سکتے ہیں ،جو "مشرق وسطی” حتیٰ کہ ایشیا میں کھینچ دی گئی تھیں ۔وہ طاقتیں جنہوں نے سرحدوں کی ضمانت دی ،اب اس قابل نہیں رہیں کہ اپنے وعدے پورے کر سکیں ۔ ہانگ کانگ ،تا ئیوان ،حتی کہ لداخ اسکی بہترین مثال ہیں ۔اب جبکہ چین ان علاقوں پر اپنا کنٹرول مستحکم کر نے کا فیصلہ کر چکا ہے تو کیا امریکہ انہیں آزاد کرنے کے لئے کسی جنگ کا خطرہ مول لے گا ؟ اگر چین لداخ میں رہتا ہے یا نیپال کے راستے ہندوستان کی سرحد کے پار اپنا تسلط بڑھاتا ہے تو کیا امریکہ ہندوستانی فوجی مدد کے لئے آئیں گے ؟کیا وہ سی پیک یا اس سے بڑے منصو بے "بیلٹ اینڈ روڈ ا نشیی انیو” کو خطرے میں ڈالنے کے لئے  جنگ لڑیں گے ؟ اس نئے سال 2021ء میں غالباً  ۔ پوری دنیا کو ممکنہ طور پر امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے ۔چینی کیمپ میں آنے والے ممالک کو جمہوریت کے مستعار لئے گئے امریکی ماڈل  سے نکل کر "چینی  ماڈل "کے بھی قریب آنا پڑ سکتا ہے ،جہاں ڈھیلی ڈھالی جمہوریت کے ساتھ ریاست کی فیصلہ کن رٹ بھی ہے 2021ء مشرق کے عروج  کا پہلا سال ہو سکتا ہے اور یہ نیا عالمی نظام جو آج ہماری نظروں کے سامنے تیار ہوتا نظر آرہا ہے ہندوستان اور اس کے جمہوری  معاملات کے لئے گہرے اثرات لئے ہوئے ہو سکتا ہے ۔
sheebakausar35@gmail.com

خبریں

ڈاکٹر ہرش وردھن دہلی کے اسپتالوں میں ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں گے

  نئی دہلی، 16 جنوری  مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن آج دہلی کے مختلف اسپتالوں میں جا کر کورونا ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں۔…

مضامین و مقالات

سال 2020 کی ہنگامہ آرائیاں اور حوصلہ خیز کار گزاریاں ۔۔۔

عمیر محمد خان ریسرچ سکالر رابط: 9970306300 سال2020 ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ تروتازہ رہے گا۔اس سال دلدوز واقعات رونما ہوئے اور ساتھ ہی خوش آئنداور اختراعی کام عمل میں آئے۔خوف…

اسلامیات

مال دار تو بہت ہیں مگر دلدار نہیں ہیں

۔ شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی امام جامع مسجد شاہ میاں رہوا ویشالی بہار قارئینِ کرام ۔ اللہ تعالی نے جن کو مال سے نوازا ہے ان میں بہت کم ایسے…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے