کیا حکمرانوں کے سارے وعدے جھوٹے ہیں 

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلایا جانے والا ملک ہندوستان، پڑوس کے چھوٹے چھوٹے ممالک سے بھی پچھڑ رہا ہے، نیپال (۳۷) اور سری لنکا (۴۶) ہندوستان سے کافی بہتر حالت میں ہیں ۔ گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق انڈونیشیا ۰۷، بنگلہ دیش ۵۷ اور پاکستان ۸۸ ویں مقام پر ہے ۔ ۴۱۰۲ء میں ہندوستان کا نمبر ۵۵واں تھا، یعنی چھ سال کے دوران ہندوستان ۹۳ سیڑھی لڑھکتے ہوئے ۴۹ویں مقام پر آگیا ہے ۔ رپورٹ یہ نہیں بتاتی ہے کہ کسی آدمی کو کھانا ملتا ہے یا نہں ۔ ہنگرانڈیکس کا آسان مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ملک کا ہنگر انڈیکس زیادہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہےکہ اس ملک میں بھکمری کے مسائل بھی زیادہ ہیں ۔ گلوبل ہنگرانڈیکس کو چار پیمانے پر ناپا جاتا ہے ۔ یہ پیمانے ہیں : قلت غذائیت، بچوں کی قلت غذائیت، بچوں کی نشو و نما میں رکاوٹ اور بچوں کی اموات کی شرح ۔ کیونکہ بچے کسی بھی ملک کا مستقبل ہوا کرتے ہیں ، بچوں کی نگہداشت اور ان کی بہتر طریقے سے پرورش کرنا ضروری ہے ۔ لیکن افسوس! جس ملک میں پنڈت نہرو کے یوم پیدائش کو ’’یوم اطفال‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، اسی ملک میں بچوں کی بڑی تعداد تغذیہ بخش غذاؤں سے محروم ہے ۔
جہاں ملک معاشی پستی کا شکار ہے وہیں دوسری طرف لا اینڈ آرڈر کی صورت حال انتہائی خراب ہے اور شرپسند عناصر ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کے درپے ہیں ۔ معصوم لوگوں کو گائے اور جئے شری رام نعروں کے نام پر زد و کوب کیا جاتا ہے، کبھی کبھی تو انہیں اس درجہ مارا پیٹا جاتا ہے کہ وہ اپنی جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ اس طرح کے بدبختانہ واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں ، لیکن حکومت مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ اترپردیش کو تو جرائم کی دنیا کا گڑھ کہا جاسکتا ہے، جہاں کی خواتین خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں ۔ کانگریس نے یوپی حکومت کی مجرمانہ خاموشی پر کہا ہے ’’اترپردیش میں ایک عام آدمی کے لئے اس سے زیادہ خطرناک اور خوف ناک بات نہیں ہوسکتی ہے کہ جمہوری طرز پر منتخب حکومت مجرموں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ ‘‘
راہل گاندھی نے چند دن قبل کورونا سے معیشت کو لگے جھٹکوں کے سلسلے میں مرکزی حکومت پر چھبتا ہوا ریمارک کیا تھا ۔ انہوں نے ایک گرافکس شیئر کرتے ہوئے کہا تھا، ’’بی جے پی حکومت کی ایک اور پختہ کامیابی،پاکستان اور افغانستان تک نے ہندوستان سے بہتر ڈھنگ سے کووڈ کا مقابلہ کیا ہے ۔ راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کرکے کہا تھا کہ فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی بنیاد پر بنگلہ دیش جلد ہی ہندوستان کو پچھاڑ دے گا ۔ اس میں انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا تھا ۔ بی جے پی نے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بتانے میں یدطولیٰ رکھتی ہے، راہل گاندھی کے پختہ حوالوں سے مزین دعووَں تک کو غلط بتا دیا  لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک بی جے پی، سچ کو جھٹلاتی رہے گی اور کب تک سچائی سے منہ موڑتی رہے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔