سال 2020 کیسا رہا کورونا کی وبا نے ساری دنیا کو تہس نہس کردیا مودی حکومت نے قوم کو مذہبی خطوط پر بانٹ دیا

آج نئے سال کا پہلا دن ہے ۔۔۔ پیچھے مُڑکر دیکھنے کا دن، آگے کے لئے نئے عہد و پیمان کا دن، نئے نشان اور ہدف بنانے کا دن ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو 2020 طرح طرح کی آزمائشوں کا سال تھا ۔ سال کے آغاز ہی میں کورونا وائرس نے اپنا دم دکھایا، دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا میں پھیل گیا، اس وقت بھی کہیں اس کی قہرمانی میں کمی آئی ہے تو کہیں اُس نے نئے سرے سے سر اٹھایا ہے ۔ برطانیہ میں کورونا کی ایک نئی قسم کا سراغ ملا ہے جس کے سایے ہندستان تک پر پڑ رہے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ کورونا کا ستم آئندہ دس سال تک جاری رہ سکتا ہے ۔ 2020 میں کورونا وائرس کی لپیٹ میں آکر 17 لاکھ ساٹھ ہزار افراد لقمہَ اجل ہوچکے ہیں اور 80 لاکھ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے ۔ لاک ڈاءون اور سماجی دوری کے نتیجے میں عالمی معیشت چرمرا کر رہ گئی ۔ انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (;737770;) نے عالمی معیشت میں جنوری میں 3;46;2 فی صد نمو کی پیشنگوئی کی تھی، اکتوبر آتے آتے اس کی بجائے 4;46;4 فی صد سُکڑنے کا تخمینہ پیش کیا ۔ وبا کے پہلے کے مقابلے میں آئندہ پانچ برسوں میں 28 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد غربت کے غار میں جاسکتے ہیں ۔ کورونا کی قہر مانی کے نتیجے میں کروڑوں لوگوں کی نوکریاں جاتی رہیں ، بہتوں کی تنخواہیں آدھی رہ گئیں ، چھوٹے کاروبار منہ کے بل گرے ۔

جہاں تک کورونا وائرس اور ہندستان کا تعلق ہے تو اس کے آتے ہی حکومت کے ہاتھ پاءوں پھول گئے ۔ وحشت میں اس نے محض چار گھنٹوں کے نوٹس پر 130 کروڑ باشندوں کی زندگی میں کھلبلی مچا دی ۔ نفسا نفسی کے عالم میں لاکھوں مزدور شہروں سے نکل کر اپنے گاءوں چل پڑے جس سے تقسیم وطن کے وقت ہجرت کا دور یاد آگیا ۔ لاک ڈاءون کی وجہ سے ہندستانی معیشت کا شیرازہ بکھر گیا ۔ لاکھوں لوگ بے کار ہوگئے اور چھوٹے کاروبار ز میں بوس ہوگئے ۔ لطف کی بات یہ کہ وبا اور اس کے جلو میں معاشی تباہی کے باوصف ہندستان میں قدامت پسندی اور فرقہ پرستی کے دیو نے سر ابھارا ۔ اُتر پردیش، مدھیہ پردیش اور کرناٹک نے ’’لوجہاد‘‘ کا شوشہ چھوڑ دیا، تبدیلیَ مذہب اور گاءو خوری کا مسئلہ چھیڑ دیا ۔ جمہوری نظام حکومت میں حکومتیں اس لئے چُنی جاتی ہیں کہ وہ امن و امان قائم رکھیں گی اور عوامی فلاحی کے اقدامات اُٹھائیں گی لیکن ہندستان میں حکومت نے سماجی تفریق کو راہ دی اور ملک کو ہندو;245;مسلم خطوط پر بانٹنے کی کوشش کی ۔ غیر ضروری زرعی قوانین بناکر حکومت نے کسانوں کو اپنا بیری بنا لیا ہے اور وہ ایک مہینہ سے زائد عرصہ سے دہلی کی سرحد پر تحریک چلا رہے ہیں ۔ کسان ان قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ حکومت اپنے موقف پر اڑی ہوئی ہے ۔ حکومت اپنی طاقت کے نشہ میں ہر اُس شخص کو غدار قرار دے رہی ہے جو اُس کی پالیسیوں کی مخالفت کرتا ہے ۔ اس وقت سیکڑوں دانشور، مجاہدین آزادی اور طلبہ پولس کی حراست میں ہیں ۔ حکومت کو اس کا ادراک کرنا چاہئے کہ ملک کو جیل خانہ بنانے سے بغاوت پھوٹ پڑے گی ۔ لوگوں نے بہتر حکمرانی کی غرض سے حکومت کا انتخاب کیا ہے لیکن موجودہ مودی حکومت کا کچھ اور ہی ایجنڈا ہے ۔ واضح رہے کہ حکومت زور زبردستی اور محض طاقت کے بل سے نہیں چلتی، اس میں بحث و مباحثہ اور باہمی صلاح و مشورے کو بھی بڑا دخل رہتا ہے ۔ کاش مودی حکومت سنجیدگی سے اپنے طرزِ عمل کو دیکھتی اور 2021 میں قدامت پسندی اور فرقہ پرستی کی بجائے حقیقی جمہوری جذبے سے حکومت چلانے کی کوشش کرتی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔