آزاد کشمیر کا پوسٹر لہرانے والی ملسم خاتون کے خلاف ممبئ پولیس نے مقدمہ ختم کرنے کی درخواست کی

 ممبئی، 29 دسمبر  ممبئی کی مقامی عدالت کے روبرو ممبئی پولیس نے رواں سال کے آغاز میں ممبئ کے گیٹ وے آف انڈیا میں شہری ترمیم قانون سی اے اے کے مخالف مظاہرے کے دوران ‘آزاد کشمیر’ کا پوسٹر لہرانے کے الزام میں مسلم نوجوان دوشیزہ مہک مرزا پربھو کے خلاف درج مقدمے کو ختم کرنے کے لئے اپنی ‘سی سمری’ رپورٹ داخل کی ہے۔ عدالت نے رپورٹ کو اپنے ریکارڑ پر رکھنے کے بعد معاملے کی سماعت ملتوی کر دی ہے قانون کی اصطلاحات میں "سی سمری”رپورٹ اسے کہتے ہے جب پولیس کو اس بات کا پختہ ثبوت دستیاب نہ ہو کہ اسکی جانب سے ملزم یاملزمہ کے خلاف درج شدہ ایف آئ آر صحیح ہے یا غلط ہے یاپھر متزکرہ ایف آئ آرمجرمانہ یا شہری معاملات کے زمرے میں آتا ہو ایسے معاملات میں بجاے ملزم کے خلاف کاروائ کرنے کے پولیس کو معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد اسے ختم کرنے کا قانونی اختیار ہے اسی اختیار کے تحت آج پولیس عدالت سے رجوع ہوئ تھی مہک کے خلاف ممبئ کے قلابہ پولیس نے تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جس میں ملک دشمن سرگرمیاں بھی شامل تھی واضح رہیکہ ماہ جنوری میں دہلی کے جے این یو میں ہوئ طلباء سے مار پیٹ اور تشدد کے واقعات اور سی اے اے کے خلاف ممبئ کے گیٹ وے آف انڈیا پر چند طلباء تنظیموں نے مظاہرہ کیاتھا جسکے دوران مہک نے آزاد کشمیر کا پوسٹر لہرایا تھا بی جے پی نے اس پوسٹر پر سخت اعتراض کیا تھا اور اسے پاکستان کی حمایت میں اور کشمیر کو ملک سے الگ کرنے کی سازش قرار دیتے ہوے اس معاملے میں فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ یہاں تک کہ بی جے پی نے شیو سینا ، این سی پی اور کانگریس کی موجودہ حکمران حکومت کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا مہک کا دفاع کرتے ہوئے شیوسینا کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے اور سنجے راؤت نے کہا تھا کہ اس خاتون نے پچھلے کئی مہینوں سے وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل بند کئے جانے کے خلاف آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ مہک مرزا پربھو نےبھی اس معاملے میں صفائ پیش کرتے ہوے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پلے کارڈ صرف کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے خلاف بطور احتجاج لہرایا گیا تھا نیز اسکےپس پشت کوئ کوئی دوسرا مقصد نہیں تھا -(یو این آئی )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔