کسان تحریک جاگیر دارانہ نظام کے خلاف

مکرمی:

ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے ۔ ایک طرف مرکز کی بھاجپا حکومت نے ہٹلر مودی کی رہنمائی میں نفرت و عداوت کی سیاست کی بنیاد ڈال کر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں اس قدر زہر پھیلا دیا ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے مگر افسوس کہ مسلمان اکابرین امت اب تک اختلافات کا شکار ہیں ۔ امت مسلمہ کے لئے عرصہَ حیات تنگ کیا جارہا ہے مگر ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔ ہمارا کوئی لاءحہ عمل نہیں ۔

ملک میں تاناشاہی نظام نے ملک کے سوا سو کروڑ لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے ۔ گنتی کے چند نام نہاد سرمایہ کاروں کے ذریعہ مودی کو سامنے رکھ کر ملک پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں ۔ آج کسانوں کی لڑائی صرف کسانوں کی نہیں بلکہ پورے بھارت کی لڑائی ہے اور کسان ایکتا کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ اس کسان تحریک کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں مگر یہ کسان اپنے حق کی لڑائی میں جان کی بازی لگائے اب تک ڈٹے ہیں ۔ یہ ملک کی تاریخ میں بدنما داغ رہے گا ۔ کسان ملک کو اناج پیدا کرکے دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ایک نعرہ جو بہت مشہور ہے گونجتا رہتا ہے ’’جے جوان، جے کسان‘‘ کسانوں کے اس احتجاج میں ملک کے ہر طبقہ کے عوام کو شامل ہونا چاہئے کیونکہ یہ لڑائی بھوک افلاس کی لڑائی ہے، جاگیردارانہ نظام ختم کرنے کی لڑائی ہے ۔ اگر ملک کے جوان جو سرحد پر رہ کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں سکھ ریجمنٹ و دیگر فوجیوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرلیا تو مودی حکومت کی چولیں ہل جائیں گی اور انہیں یہ کالا قانون واپس لینا پڑجائے گا ۔ ضرورت ہے کہ ہر مکتبہَ فکر کے لوگ بلا تفریق کسانوں کی تحریک میں شامل ہوں کیونکہ کسان زندہ رہے گا تو ہ میں اناج بھی ملے گا اور ساتھ ہی کسانوں نے جو نعرہ دیا ہے کہ اڈوانی امبانی کے سارے پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں ، جیو سمیت ریلائنس کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ۔ کسان ایکتا زندہ باد ۔
محمد اسلم کربلائی،گارڈن ریچ، مٹا برج، کلکتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔