یوگی کے اُتر پردیش میں جنگل راج عدالتیں سرگرمی کا مظاہرہ کریں

بہار میں لالو پرساد یادو کے دورِ حکومت کو ’’جنگل راج‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اُن کے دور میں غنڈوں اور مافیاءوں کی بن آئی تھی ۔ آج اُترپردیش میں آدتیہ ناتھ یوگی کے دورِ حکومت میں اس سے بھی بدتر راج دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ ستم ظریفی یہ کہ اُتر پردیش کو جنگل راج کہنے پر یوگی حکومت مخالفین کی گردن ناپنے پر تیار ہے ۔ حال ہی میں یشونت سنگھ نام کے ایک شخص نے کہا تھا کہ اُتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے ریاست کو جنگل راج میں تبدیل کردیا ہے جس میں لاء اینڈ آرڈر کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں ۔ بس اتنا کہنا غضب ہوگیا اور سنگھ کے ریمارک کے لئے اُن کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی جبکہ اختلاف (خواہ وہ سچ پر ہو یا جھوٹ پر بھی مبنی ہو) کے اظہار کی دستور میں ضمانت دی گئی ہے ۔ شکر ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اس ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا ۔ ناکردہ گناہ کی سزا کے طو رپر ملیالی صحافی صدیق کپّن کو بھی دس مہینے سے جیل میں رکھا گیا ہے ۔ کپّن کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ہاتھرس جا رہے تھے جہاں ایک دلت خاتون کا ریپ کیا گیا تھا ۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ کپّن اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے وابستہ تین سرگرم کارکنوں کو ایک مجسٹریٹی کورٹ نے غیر قانونی طور سے پولس حراست میں ڈال دیا تھا کیونکہ غیر قانونی سرگرمیوں کے تدارک سے متعلق قانون کے تحت کسی مجسٹریٹ کو اس قسم کے کیس کی سماعت کا حق ہی نہیں ہے ۔ واقعہ ہے کہ پولس دستور سے بڑی حد تک ناواقف رہتی ہے اور عدلیہ بھی غلطیوں کی مرتکب ہوتی ہے ۔ اختلاف پر سیاسی عدم برداشت کے پس منظر ہی میں اُتر پردیش حکومت نے بین مذہبی شادیوں کے تعلق سے حال میں ایک قانون بنایا ہے جس کے مطابق ’’خطاکاروں ‘‘ کو قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے ۔ اس قانون کی وجہ سے شہری آزادی کو سخت خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ اُترپردیش کی یوگی حکومت کی جانب سے ’’لوجہاد اور تبدیلیَ مذہب‘‘ پر قانون بنانے کے بعد پولس اہلکار مسلسل لو جہاد کے نام پر مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ ضلع بجنور میں پولس نے اس طرح کے دو مقدمے درج کئے ہیں ۔ اس کے برعکس یوپی حکومت کی یہ حرکت ملاحظہ کریں جس کے بموجب سنگیت سوم اور بی جے پی کے دو ممبرانِ اسمبلی کی گلوخلاصی کی کوشش کی جارہی ہے جنہوں نے مظفر نگر فسادات کے پہلے اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں جن کے نتیجے میں مظفر نگر میں فسادات پھوٹ پڑے ۔ ظاہر ہے کہ ایسا سیاسی وجوہ کی بناء پر کیا جارہا ہے ۔ ان تضادات کی وجہ سے قانون کی حاکمیت ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ جبکہ یوپی حکومت کو امن و امان اور قانون سے کوئی سروکار نہیں ہے تو الٰہ آباد ہائی کورٹ پر لازم ہے کہ وہ غلط گرفتاریوں پر پولس پر قدغن لگائے ۔ یوگی حکومت نے ’’لو جہاد‘‘ کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے ’’جبراً تبدیلیَ مذہب‘‘ کا جو قانون متعارف کرایا ہے اُس کے خلاف زور شور سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے متعدد فیصلوں میں کہا ہے کہ کوئی بھی بالغ اپنی مرضی سے شادی کرسکتا ہے جو اُس کا بنیادی اوردستوری حق ہے ۔ سپریم کورٹ کے سابق جج مدن بی لوکر نے بھی اس قانون کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون عدالت میں ٹک نہیں سکے گا کیونکہ اس میں قانونی اور آئینی طور پر کئی خامیاں ہیں ۔ اسی کے ساتھ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’سماجی انصاف‘‘ کا نظریہ اس وقت سرد خانہ میں چلا گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ اس معاملے میں اتنی سرگرمی نہیں دکھا رہا ہے جتنی اُسے دکھانی چاہئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔