دنیا کے بیشتر براعظموں میں انسانی حقوق کی پامالی

عارف عزیز (بھوپال)
ہیومن راءٹس واچ گروپ نے اپنی رپورٹ میں یہ تنبیہ کی ہے کہ دنیا میں دستور و قانون کا احترام کم ہورہا ہے ۔ اِسی طرح قانون کا نفاذ گھٹ رہا ہے، جس کے نتیجہ میں قانون کی حفاظت کرنے والے اداروں اور قوانین کو سخت چیلنج کا سامنا ہے ۔ خاص طور پر امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے جس طرح سے پچھلے صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کی، اُس کے نتیجہ میں دوسروں کو برداشت نہ کرنے کی لہر نے غلبہ حاصل کر لیا ۔
ایسے افراد اور جماعتوں کے اثرات سے مستقبل میں سماجی تانے بانے بکھرنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں ۔ امریکہ اپنے ;200;پ کو ’’انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار اور چمپین‘‘ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت ۰۲ لاکھ ۰۳ ہزار افراد امریکہ کی جیلوں میں بند ہیں ۔ انسانی حقوق واچ تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جیلوں میں بند دُنیا کی سب سے بڑی تعداد ہے ۔ ترکی میں جہاں طیب اُردگان نے امریکہ میں جلاوطن فتح اللہ گولن پر بغاوت کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے اندھا دھند گرفتاریاں کیں اور ایک لاکھ سرکاری عہدیداروں کو خدمات سے برطرف کردیا یا روس میں پوٹن حکومت نے ۰۵۱ غیرسرکاری تنظیموں کو ’’غیرملکی ایجنٹس‘‘ قرار دے دیا ۔ چین میں جمہوری کارکنوں لو جینگ سانگ اور شین شوگنگ پر باغیانہ سرگرمیوں میں ملث ہونے کے سنگین الزامات عائد کرکے انہیں جیل بھیج دیا ۔ ونیزویلا میں ۶۷ فیصد ہاسپٹلس میں بنیادی ادویات کی شدید قلت ہے، ناکافی طبی اسٹاف کی شکایات عام ہیں ۔
وسطی افریقی ری پبلک میں ۴ لاکھ۷۶ ہزار ۰۰۸افراد نے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، پڑوسی ممالک میں خانہ جنگی کی وجہ سے پناہ حاصل کر رکھی ہے ۔ ایتھوپیا سے ۰۱۰۲ء سے اب تک ۰۰۱ صحافیوں نے راہ فرار اختیار کی ہے اور جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے قتل کے بعد سے اب تک کوئی واحد مستحکم حکومت قائم نہیں ہوسکی، اِس وقت بھی وہاں دو متوازی حکومتیں کام کر رہی ہیں ۔ لیبیا کے مختلف علاقوں میں جہاں جس قبیلہ کا غلبہ ہے، اس کی حکومت چل رہی ہے اور تیل کے چشموں پر مسلح قبائل کا قبضہ ہے ۔ بیرونی تیل کمپنیاں تیل کی خریدی کے سارے معاملے پرائیویٹ پارٹیوں سے ہی کررہی ہیں ۔ سعودی عرب کے سرحدی ملک ’’یمن‘‘ میں خانہ جنگی جاری ہے اور 20 ملین ;200;بادی والے اس ملک کے ۰۸ فیصد عوام کو انسانی امداد درکار ہے ۔
سعودی عرب اور امریکہ کے بعض دوسرے حلیف ممالک حوثی باغیوں کی سرکوبی کے لئے لڑائی لڑ رہے ہیں ، جبکہ حوثی باغیوں کو ’’ایران‘‘ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے ۔ شام میں خونین خانہ جنگی کی وجہ سے ۰۴ لاکھ سے زائد عوام نے بیرون ملک پناہ حاصل کی ہے اور اندرون خانہ جنگ کی وجہ سے ۰۶ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں ۔ میانمار نسلی تشدد کا شکار ہے ۔ ۰۱ لاکھ ۰۲ ہزار روہنگیا مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے ۔
اِن تفصیلات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے ہر بر اعظم اور علاقہ میں انسانی حقوق بری طرح پامال ہورہے ہیں ۔ قانون کی کتاب عملاً بند ہے ۔ ہزارہا افراد بیرون ملک پناہ گزینوں کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن اور دوسرے عالمی ادارے اس صورتِ حال پر بے بس اور خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔