کسانوں کی تحریک اب سپریم کورٹ کے پالے میں حکومت کے اڑیل رویّہ پر سپریم کورٹ متوجہ

تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک گزشتہ تین ہفتوں سے جاری ہے ۔ اس دوران کسانوں اور مرکزی حکومت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں لیکن دونوں میں سے کوئی جھکنے کےلئے تیار نہیں ہے ۔ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی کسان یونینوں نے بدھ کو مرکز کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کو مسترد کردیا جن میں قوانین میں ترمیم کی بات کہی گئی تھی اور بعض باتوں کی وضاحت کی گئی تھی ۔ سنجکت کسان مورچہ کے کسان لیڈر درشن پال نے مرکز سے درخواست کی کہ وہ کسانوں کی تحریک کو بدنام نہ کرے اور احتجاج میں حصّہ نہ لینے والی کسان تنظیموں سے متوازی بات چیت نہ کرے ۔ کسانوں کے نمائندوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت اُن کی اخلاقی فتح ہے لیکن دہلی کی سرحد پر اُن کا ایجی ٹیشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ قوانین واپس نہیں لئے جاتے ۔ مرکزی حکومت بھی اپنے موقف سے ہٹنے کےلئے تیار نہیں ہے، اس لئے یہ بحران روز بروز گہرا ہوتا جارہا ہے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل صرف اسی حالت میں مفید ہوسکتی ہے جب زرعی قوانین واپس لے لئے جائیں اور کمیٹی میں تمام قومی اور صوبائی تنظیموں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے ۔ کسان جمعرات کو سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کریں گے جس میں بتایا جائے گا کہ زرعی قوانین کس طرح کسانوں کےلئے مضر ہیں ۔ یکم دسمبر کو کسانوں نے کمیٹی کی تشکیل کی حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا تھا ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی والی کمیٹی سے کیا فائدہ ہوگا اگر حکومت اپنے رویّہ پر اڑی رہی ۔ ہماری تحریک اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمارے مطالبات مان نہیں لئے جاتے ۔ آل انڈیا کسان سنگھرش کو آرڈی نیشن کمیٹی کے ورکنگ گروپ نے آئندہ 20 دسمبر کو شردھانجلی دیوس (یوم خراج عقیدت) منانے کا فیصلہ کیا ہے جب ہر گاءوں میں صبح گیارہ بجے سے ایک بجے دوپہر تک گزشتہ تین ہفتو ں کے دوران ایجی ٹیشن میں مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا ۔ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ایک نیشنل ورکنگ گروپ ممبر یوگیندر یادو نے ٹوئیٹ کیا کہ سپریم کورٹ تین زرعی قوانین کی ’’دستوریت‘‘ پر اپنا فیصلہ دے سکتا ہے لیکن یہ معاملہ کسانوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان ہے ۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں مذاکرات غلط ہوں گے ۔
کسانوں اور حکومت کے درمیان ٹکراءو سے پیدا شدہ بحران کو ختم کرنے کےلئے اب سپریم کورٹ بھی میدان میں آگیا ہے ۔ جھگڑے کو ختم کرنے کےلئے عدالتِ عالیہ نے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سارے ملک کی کسان یونینوں کو جگہ دی جائے گی ۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپنّا اور جسٹس وی;245;راما سبرامینن نے کہا کہ اگر اس مسئلہ کو جلد سلجھایا نہیں گیا تو یہ ایک قومی مسئلہ بن جائے گا ۔ حکومت، کسان یونینوں اور دیگر اسٹیک ہولڈروں پر مشتمل ایک فہرست جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی اور اسی روز سماعت بھی ہوگی ۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کی یقین دہانی پر کہ مرکز معنی خیز مذاکرات کےلئے ہمیشہ تیار ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ایسی بات کہنے سے کیا حاصل جو صرف سننے میں اچھی لگتی ہے ۔ آپ کے مذاکرات کام نہیں کررہے ہیں ۔ کسان اپنے مطالبات پر مُصر ہیں اس لئے بات چیت ناکام ہوجائے گی‘‘ ۔ آج (جمعرات) کو سپریم کورٹ میں اس معاملے میں بحث ہوگی ۔ دیکھنا ہے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔