سرزمین پنجاب کا ادبی وارث :ارشد منیم 

مبصر : اسلم آزاد شمسی
ہندوستان کا صوبہ پنجاب اردو زبان و ادب کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔پنجاب کی سرزمین نے اردو ادب کو ایک سے بڑھ کر ایک جوہر نایاب عطا کیا ہے .اس خطے سے اردو زبان و ادب کا باہمی رشتہ ہے ۔جب بھی اردو ادب کی بات کی جاتی ہے اور اس کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو پنجاب کے قلم کاروں کا نام ضرور سامنے آتا ہے. پنجاب نے اردو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو نثر کو بھی ایسے ادیب عطا کئے ہیں جنہوں نے اردو ادب کے حوالے سے گراں قدر خدمات پیش کی ہے اور اردو کا دامن وسیع سے وسیع تر کیا ہے ۔
موجودہ دور میں فکشن نگاری میں بشیر مالیر کوٹلوی کا نام سر فہرست ہے جو افسانہ نگاری کے حوالے سے بین الاقوامی نام ہے. جناب بشیر مالیر کوٹلوی کے زیر نگرانی کئ ایسے افسانہ نگار ہیں جو اپنے فن کو پروان چڑھانے میں مسلسل سرگرم ہیں ۔شہر مالیرکوٹلہ کو اس وقت صوبہ پنجاب میں اردو زبان و ادب کا مرکز کہاں جا سکتا ہے جہاں اردو کے حوالے سے کئی تنظیمیں سرگرم ہے ۔اسی شہر سے ایک خاص اور مقبول نام ارشد منیم کا ہے جو موجودہ دور کے ابھرتے ہوئے نوجوان افسانہ نگار ہیں. موصوف کی اب تک دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور داد و تحسین حاصل کر چکی ہے. دونوں کتابوں کو اردو حلقے میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور خوب سراہا گیا ۔
زیر مطالعہ کتاب خون کا رنگ ان کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ کلام ہے جو بارہ افسانوں اور نو افسانوں پر مشتمل خوبصورت گلدستہ ہے مذکورہ کتاب دو ہزار بیس میں اپنے اشاعت کے مرحلے سے نکل کر منظر عام پر آ چکی ہے ۔اس سے قبل میں نے ان کا اوّلین مجموعہ کلام "خواب خواب زندگی” کا بھی مطالعہ کیا ہے جو ان کی پہلی اور بہترین کاوش تھی. ان کی پہلی تخلیق کردہ کتاب نے انھیں ایک عام انسان سے افسانہ نگاروں کی صف میں لا کھڑا کر دیا تھا. اس کے بعد ان کی دوسری کتاب آنے تک وہ ادب کی دنیا کا ایک نمایاں چہرہ بن چکے تھے ۔انہوں نے اپنے آپ کو بطور افسانہ نگار بہتر ڈھنگ سے پیش کیا ہے ۔ان کی دوسری کتاب کی اشاعت اس بات کا ضامن ہے کہ ان میں ایک تخلیق کار کا خون رواں ہے ۔انہوں نے مشہور زمانہ افسانہ نگار بشیر مالیرکوٹلوی  سے فکشن نگاری کی تمام تر باریکی سیکھی ہیں.
بطور ایک افسانہ نگار انسان کو اپنے سماج، معاشرہ، تہذیب و ثقافت، تاریخ اور انسانی نفسیات کا نہ صرف علم ہونا چاہیے بلکہ ان پر دسترس بھی حاصل ہونی چاہیے جو  ارشد منیم کے دوسرے مجموعہ کلام میں بمقابلہ اوّلین مجموعہ کلام کے بہتر نظر آتی ہے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں اور یہ اس بات کی بھی دلیل پیش کرتا ہے کہ انھیں اردو زبان  سے محبت ہے, ادب سے رغبت ہے اور اردو افسانوں سے محبت ہے. ان کے افسانوں میں جو مجھے سب سے خاص بات نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے بیشتر افسانہ چونکانے والے ہوتے ہیں. ان کے افسانے حالانکہ اتار چڑھاؤ سے پاک ہیں ۔زیادہ تر افسانے شروع سے اخیر تک ایک لے میں چلتی ہے اور دفعتاً ایک ایسے حادثے کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی ہے جس کی توقع قاری کو بالکل نہیں ہوتی۔ افسانوں میں روانی،لفظوں کا برمحل استعمال، سہل انداز ،کرداروں کے ساتھ حتی الامکان انصاف ان کے افسانوں کا دیگر خاصہ ہے ۔ان کے حالیہ افسانوں سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اب انھوں نے ٹیکنیک کا بھی بہتر استعمال سیکھ لیا ہے جو ایک افسانہ نگار کے لیے بہترین افسانے تحریر کرنے کے لئے لازمی ہے ۔ارشد منیم کے افسانے بلاشبہ چونکانے والے ہوتے ہیں اور قاری کے ذہن پر نقش کر جاتے ہیں. ان کی تحریر متاثر کن ہے جو قاری کے دلوں کو جہکجھور نے  کا مادہ رکھتی ہے ۔اپنے پہلے افسانے خون کا رنگ میں انہوں نے جو منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے وہ یقیناً قابل ذکر ہے. اس کہانی میں انہوں نے ایک طوائف کی زندگی کا بہترین تانا بانا بنا ہے ۔
افسانہ "حسب ضرورت” بھی عورتوں کے ارد گرد گردش کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
اس مجموعہ کا ایک اور افسانہ "سوال کی صلیب” ہے  ۔اور یہ افسانہ بھی ایک نوعمر لڑکی کی زندگی پر محیط ہے ۔مذکورہ بالا تینوں افسانہ عورتوں اور اس کے ساتھ درپیش مسائل کا احاطہ کرتی ہے ۔اور یہ مسائل محض عورتوں کے تعلق سے نہیں ہے بلکہ یہ معاشرتی مسائل ہیں جو آج بھی ہمارے معاشرے میں سانس لے رہی ہے ۔موصوف نے بے خوف زبان اور انداز سے ان مسائل کو سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی ہے. ارشد منیم کے زیادہ تر افسانے گرچہ اس کا محور عورت ہوتی ہے بے حد سلیقے سے سماجی برائیوں پر ہار کرتے ہیں اور اپنے موضوع کے ساتھ بہتر انصاف کرتے ہیں ۔ارشد منیم کے دونوں مجموعوں کا مطالعہ کرنے کے بعد میں ذاتی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل میں پنجاب کی سرزمین کا ادبی نمائندہ موصوف ہی ہوگا اور مجھے قوی امید ہے کہ وہ پنجاب کی ادبی وراثت کو عروج بخشیں گے.
رب کریم سے دعا ہے کہ ان کی قلم میں مزید روانی عطا کرے اور ان کے فکر کو  پرواز بخشے. ان کے دونوں مجموعہءکلام ادبی دنیا کے لیے قیمتی سرمایہ ہے. ادب سے جڑے لوگوں کے لیے ان کی کتاب بہترین تحفہ ہے اور ان کا مطالعہ ایک بار ضرور کیا جانا چاہئے ۔
مبصر :اسلم آزاد شمسی
ہنوارہ گڈا (جھارکھنڈ)
رابطہ :8210994074

خبریں

ڈاکٹر ہرش وردھن دہلی کے اسپتالوں میں ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں گے

  نئی دہلی، 16 جنوری  مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن آج دہلی کے مختلف اسپتالوں میں جا کر کورونا ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں۔…

مضامین و مقالات

سال 2020 کی ہنگامہ آرائیاں اور حوصلہ خیز کار گزاریاں ۔۔۔

عمیر محمد خان ریسرچ سکالر رابط: 9970306300 سال2020 ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ تروتازہ رہے گا۔اس سال دلدوز واقعات رونما ہوئے اور ساتھ ہی خوش آئنداور اختراعی کام عمل میں آئے۔خوف…

اسلامیات

مال دار تو بہت ہیں مگر دلدار نہیں ہیں

۔ شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی امام جامع مسجد شاہ میاں رہوا ویشالی بہار قارئینِ کرام ۔ اللہ تعالی نے جن کو مال سے نوازا ہے ان میں بہت کم ایسے…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے