اعمال و کردار تو پیغام حسینی کی تردید کرتے ہیں

(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
ہند و پاک سمیت برصغیر کے بعض علاقوں اور طبقات میں دس محرم الحرام "یوم عاشورہ” انتہائی تزک و احتشام اور پورے جوش و خروش میں ڈوب کر منایا جاتا ہے، گویا ایک بڑی آبادی اس دن کو عید یا کسی اہم تہوار کے تصور سے گزارتی ہے۔ چنانچہ اس دن خوشیاں منانے یا اس طرح اہتمام و وقار کے ساتھ گزارنے کے واسطے بعض گھرانوں میں تیاریاں، وہ بھی پورے زور و شور کے ساتھ ماہ محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہیں، جس میں گھر دالان کی صفائی ستھرائی سے لےکر دوکان و بازاروں تک رنگ روغن اور قلعی کرانے کا اہتمام سب اسی یوم عاشورا کی نسبت سے ہوتا نظر آتا ہے۔ بلکہ مشاہدہ تو یہاں تک ہے کہ اگر کہیں مالی حالات و مواقع یا پیش آمدہ دیگر اہم ضروریات ان کاموں کی اجازت نہ بھی دیتے ہوں تب بھی ایسے لوگوں کے نزدیک رنگائی پتائی کا کام، گھر کی دیواروں پر پھول جھالر لٹکانے اور سجاوٹ و شہنائی جیسے امور کی انجام دہی کو کار ثواب سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ ان کاموں کی اگر ضرورت نہ ہو تو حقیقت میں ان لوگوں کا یہ عمل سراسر فضول خرچی اور اسراف میں آجاتا ہے۔ اور اسراف و فضول خرچی کرنے والوں کو قرآن کریم میں شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔
یوم عاشوراء
زمانہ یعنی لیل و نہار سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں اور روز آفرینش سے اللہ پاک نے اس لیل و نہار کی گردش و حرکات کو بطور حساب ماہ و ایام میں منقسم کر دیا ہے، تاکہ لوگوں کو باہمی معاملات طے کرنے اور ایک خدا کی عبادت و ریاضت کی بجاآواری میں آسانی میسر ہو سکے۔ چنانچہ اس بابت قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا کہ:
"بلاشبہ مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے، جو کتاب میں ہے زمین و آسمان کی بناوٹ سے، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں”۔
کتاب اللہ میں مذکور ان چار مہینوں میں سے ایک یہی ماہ محرم الحرام بھی ہے؛ جو فی الوقت ہمارے سروں پر خیمہ زن ہے، جس کی دسویں تاریخ کا عظیم الشان اور انتہائی قابل تعظیم و تاریخی دن عاشورہ کو ماقبل اسلام سے عجیب و غریب انداز میں رونما ہونے والے واقعات سے اتصال و انتساب رہا ہے۔ اس دن کی فضیلت و اہمیت اس معنی کر بھی مسلم ہے کہ بہت سی احادیث مبارکہ سے بہت سے واقعات ثابت ہوتے ہیں، جن کے ضعف و صحت پر رد و قدح اور قیل و قال سے کام تو لیا جاسکتا ہے مگر سرے سے ان واقعات کا انکار کرنے کی گنجائش بہت کم ہے۔ کیوں کہ بزبان نبوت و رسالت (ﷺ) بہت ساری باتوں اور چیزوں کا تعلق اسی بابرکت و عظیم دن سے وابستہ اور مربوط ہوا، چنانچہ سیدنا حضرت آدم علیہ السلام لےکر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام تک بہت سارے کاموں اور مختلف واقعات کے ظہور پذیر ہونے کا ثبوت اسی مبارک و مسعود دن سے ہوتا ہے علاوہ ازیں قیامت کا برپا ہونا یا حشر کے میدان میں جمع ہونے کا جو خطرناک اور رونگٹے کھڑے کر دینے والے اہم معاملات ہیں؛ وہ سب بھی اسی اہم دن سے متعلق ہیں، اسی لئے یہ دن سابقہ امم کے نزدیک بھی قابل احترام سمجھا جاتا رہا ہے۔
لیکن آج لوگوں نے اس مبارک دن کی نسبت اور تعلق کو صرف میدان کربلا میں پیش آئے اس دردناک و دلخراش واقعہ سے مربوط کر دیگر واقعات کو فراموش اور نظر انداز کر رکھا ہے جن کا ثبوت مستند روایات سے ہوتا ہے اور ان سب کا بھی یاد رکھنا اور گاہے گاہے تذکرہ کرنا ثواب سے خالی نہیں۔ مگر افسوس ہم نے یوم عاشورہ کو میدان کربلا میں منحصر اور اس کے ضمن میں خود ساختہ روایات گھڑ کے عاشورہ کے حقیقی مقام اور کربلا کے اصلی پیغام کو پس پشت ڈال دیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ میدان کربلا، جس میں نواسئہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نوجوانان جنت کے سردار، پیارے نبی کی لاڈلی اور چہیتی بیٹی جگر گوشئہ رسول سیدہ فاطمہ الزہراء (رضی اللہ عنہا) کے لخت جگر سیدنا حضرت امام حسین بن سیدنا حضرت علی (کرم اللہ وجہہ) اور ان کے ہمراہ ان کے 72/جانثار ساتھیوں اور خانوادہ نبوت و رسالت کے چشم و چراغ بہ حالت بھوک و پیاس شہید کر دئے گئے، جنہوں نے اپنی اس ناپاک حرکت و سازش کو بروئے کار لاتے ہوئے خاندان نبوت کے چشم و چراغ پر وہ ظلم و ستم اور وحشت و بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے جن کو رقم کرتے ہوئے جہاں ایک مؤرخ کا قلم لرزتا ہے وہیں مقررین و مبلغین جب اس تاریخی واقعہ کی منظر کشی کرتے ہوئے حقیقت سے پردہ ہٹاتے ہیں تو واقعہ کی ہولناکی اور دہشت سے سننے والوں کے کلیجے منھ کو آنے لگتے ہیں۔ اسی لئے تو یہ تاریخ ہر سال اپنے آپ کو ہمارے درمیان خود کو پیش کرنے کے بعد زندہ ضمیر انسانوں کی رگ حمیت کو پھڑکا دینے اور انصاف پرور لوگوں کے قلوب کو تڑپا دینے کےلئے کافی سمجھی جاتی ہے، جو اپنی شفافیت و عمدگی میں اس پیمانے کو پہنچی ہوئی ہے کہ اگر دنیا کے تمام انسان خواہ کسی بھی دین و مذہب کے ماننے والے ہوں اگر وہ چشم کشا اور دل و دماغ کی حاضری کے ساتھ پیغام کربلا کا مطالعہ صحیح معنوں میں کر لیں تو وہ ضرور یہ سبق حاصل کرنے والے ہو جائیں کہ:
"جس طرح حق کےلئے جان کی بازی اور قربانی نواسۂ رسولؐ نے پیش کر رہتی دنیا تک نظیر قائم کی ہے اگر وقت پڑنے پر ہم بھی اسی جذبہ اور ایثار سے کام لیں گے، حالات چاہے کتنے بھی ناگزیر اور غیرموافق کیوں نہ ہوں، ان کو اللہ کی سپردگی میں دے کر دل و جان سے حالات کا مقابلہ کریں گے، جس میں ایک لمحہ کی کوتاہی کئے بغیر اپنے قدموں کو حصول منزل سے الگ اور طے شدہ پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹائیں گے، اور عقیدہ کی اس پختگی کے ساتھ دامن حق کو تھامے رہیں گے کہ موت و حیات کا مالک صرف اور صرف اللہ پاک کی ذات واحد ہے جو ہمارے دل کے رازوں اور بھیدوں سے بخوبی واقف ہے اور وہی ہمارا حقیقی پالنہار و مددگار ہے، اس لئے حق کے ساتھ ہم وہی برتاوا کرنے کا عہد کریں گے جو بہتر و مناسب ہوگا”۔
کیونکہ جادۂ حق سے منھ پھیرنا اور باطل پرستوں کی ہاں میں ہاں ملانا ایک خدا کی بندگی کرنے والوں اور ایک رسول عربی (ﷺ) پر ایمان رکھنے والوں کا شیوہ نہیں ہو سکتا، اپنے ایمان و عقیدہ پر صدق دل سے عمل پیرا ہونے والے اور اپنے رسول معظمؐ سے عہد و پیمان نبھانے والوں کی نظریں ہمیشہ اپنے اکابر اور سلف صالحین کی تاریخ و عزیمت اور کارہائے نمایاں پر ٹکی ہوتی ہیں، جو وقت آنے پر خود کو ہمت و شجاعت کے حسین پیکر میں ڈھال کر تاریخ کو تازگی بخشتے ہیں۔
یہاں ذرا تاریخ کے اوراق پلٹئے اور یوم عاشورہ کی آب زر سے مرتب اس سنہری تاریخ کا مطالعہ کیجئے؛ خود بخود اندازہ ہوجائےگا کہ کس طرح خالق کون مکاں نے اپنی راہ میں قربانی پیش کرنے والے میدان کربلا کے مقتول و مظلوم سیدنا حضرت امام حسین بن علی المرتضی اور پریشانی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ان کا ساتھ دینے والوں کو کس طرح قیامت تک آنے والے لوگوں کے دلوں کا محبوب و منظور بنانے کا فیصلہ کر دیا ہے، اور بدبخت و بدنصیب اور نااہل و ظلم و بربریت کے بازار کو اپنے اقتدار کی ‘انا’ سے گرم کر دینے والے قاتل و سفاک ٹولے کی قیادت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، زمانہ آج بھی اس ظالم و جابر ٹولے کو برا بھلا کہنے میں کسر نہیں چھوڑتا، کیا اپنے اور کیا پرائے، سبھی ان کی اس نازیبا حرکت پر سب و شتم اور طرح طرح سے لعنت و ملامت کے الفاظ کے ساتھ ان کا تذکرہ کرتے ہیں؟ اور یہی نہیں، بلکہ ہمارا تو یہ عقیدہ ہےکہ رضائے الہی کی خاطر میدان کربلا میں امام حسین اور ان کے ہمراہیوں نے جو جام شہادت نوش فرمایا وہ سب کے سب خانوادہ نبوت و رسالت کے افراد ہر طریقے سے صبح قیامت تک اللہ کی رحمت و برکت اور رسول معظمؐ کی شفقت و عنایت کے حقیقی حقدار بن کر اپنی اپنی آرام گاہوں میں محو آرام ہو گئے ہیں، ادھر دنیا بھر کے لوگوں کی مذمت و ملامت کے حقدار ٹھہرے وہ بدقسمت اور اپنی دنیا و آخرت کو اپنے ہاتھوں بربادی کے دہانے تک پہنچانے والے زمین کے تلے بےچینی، بےآرامی اور قہر الہی کے سایہ تلے اپنے چہروں کو نوچ کھروچ رہے ہوں گے اور وہ سب قیامت کے برپا ہونے اور میدان محشر میں جمع ہونے کا انتظار کر رہے ہوں گے، اس میں کوئی شک اور دو رائے نہیں ہے۔
اس سب کے باوجود ہمیں یہ کہنے میں بھی کوئی تردد و عار نہیں کہ آج ہم میں سے کچھ لوگوں نے غیروں کے دیکھا دیکھی ایسے کام بھی اختیار کر رکھے ہیں جن کا ثبوت نہ تو شریعت سے ملتا ہے اور نہ ہی وہ کام یوم عاشورہ، میدان کربلا اور تاریخ اسلام کے کسی پہلو سے تعلق و نسبت رکھتے ہیں، بلکہ ان کا سیدھا تعلق شیطانی امور، ہوائے نفسانی اور برادران وطن کے درمیان ہونے والے تہواروں سے ہوتا ہے جو بلاشبہ "اغیار کی مشابہت اور بدعات و خرافات کے دائرے میں آتے ہیں۔ جیسے ڈھول باجوں اور ناچ گانوں کے بیچ رسم تعزیہ داری نبھانا، شور و غل، لہو و لعب اور بلند آواز ڈی جے کی موجودگی میں سینہ کوبی اور چہرہ زنی  میں مشغول ہونا اور مرد و زن کے اختلاط و آزادی اور اس موقع پر جگہ جگہ لگنے والی نمائش یا میلوں ٹھیلوں میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کا بےمحابا گھومنا پھرنا وہ سب ناجائز اعمال ہیں ہمارے جن سے پرہیز و احتیاط کیا جانا از حد ضروری ہے تاکہ ہمارے نبی کی روشن تعلیمات اور مذہب اسلام کی بلند اقدار پر نہ تو کسی قسم کی آنچ آئے اور نہ ہی برادران وطن یا دشمنان دین و مذہب کو ہمارے کردار پر ہنسنے کا نیا موقع ہاتھ آئے۔ [دعا ہےکہ اللہ پاک ہم سب کو دین کی صحیح معرفت عطا فرمائے اور اتحاد و اتفاق کی دولت سے مالا مال فرمائے، آمین]

خبریں

ڈاکٹر ہرش وردھن دہلی کے اسپتالوں میں ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں گے

  نئی دہلی، 16 جنوری  مرکزی وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود ڈاکٹر ہرش وردھن آج دہلی کے مختلف اسپتالوں میں جا کر کورونا ٹیکہ کاری مہم کا جائزہ لیں۔…

مضامین و مقالات

سال 2020 کی ہنگامہ آرائیاں اور حوصلہ خیز کار گزاریاں ۔۔۔

عمیر محمد خان ریسرچ سکالر رابط: 9970306300 سال2020 ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ تروتازہ رہے گا۔اس سال دلدوز واقعات رونما ہوئے اور ساتھ ہی خوش آئنداور اختراعی کام عمل میں آئے۔خوف…

اسلامیات

مال دار تو بہت ہیں مگر دلدار نہیں ہیں

۔ شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی امام جامع مسجد شاہ میاں رہوا ویشالی بہار قارئینِ کرام ۔ اللہ تعالی نے جن کو مال سے نوازا ہے ان میں بہت کم ایسے…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے